سید مجاہد علیکالملکھاری

بھوکے، بیمار اور بیروزگار بھائیو، ابھی صبر کرو: وزیر اعظم کشمیر آزاد کروا رہے ہیں!۔۔ سید مجاہد علی

وزیر اعظم عمران خان نے مظفر آباد میں ایک عظیم الشان جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کی آزادی کے لئے سر سے کفن باندھ لینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے لائن آف کنٹرول پر جانے کے لئے پولیس سے بھڑ جانے والے مظاہرین سے کہا ہے کہ وہ ابھی صبر کریں۔ انہوں نے بنفس نفیس کشمیر کا سفیر بننے کا عزم کیا ہے۔ اب وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جا کر کشمیر کا مقدمہ پیش کریں گے۔ اس کے بعد ان کے فیصلے کا انتظار کیا جائے کہ کب لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ کرنا ہے۔
اللہ اکبر۔ وزیر اعظم کے عزم جہاد کو سلام پیش نہ کرنا ایمان کے درجہ سے گرنے کے مترادف ہو گا لیکن عمران خان کو یہ وضاحت کردینی چاہئے کہ ان کی دھواں دار تقریریں ملک کے عوام کو درپیش معاشی مشکلات، تحریک انصاف کے وعدوں میں ناکامی کے اعتراف سے گریز اور بڑھتی ہوئی سیاسی مشکلات سے فرار کا طریقہ نہیں ہیں۔ مولانا فضل الرحمان جو برس ہا برس تک کشمیر کمیٹی کے چئیرمین بھی رہے ہیں اور اب بلاول بھٹو زرداری کے دوٹوک جواب کے باوجود آئندہ ماہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کررہے ہیں، شاید عمران خان پر یہی الزام عائد کریں گے۔ وزیر اعظم نے اسی لئے مظفرآباد کی جلسہ گاہ میں آنے والوں اور پوری قوم کو یہ پیغام دینا ضروری سمجھا ہے کہ بس اس ماہ کے آخر تک صبر کریں ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انہیں کشمیر کا مقدمہ پیش کر کے دنیا سے معاملات طے کر لینے دیں۔ پھر ان کی نیت اور طریقہ کار کے بارے میں اعتراض بھی کر لیا جائے۔


مدعا اس بیان کا یہ ہے کہ ملک کے بھوکے، علاج کے خواہشمند، ایک کروڑ مکانوں کے منتظر اور پچاس لاکھ نوکریوں میں حصہ ملنے کے امید وار لوگ ذرا توقف کریں اور صبر سے کام لیں کیوں کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ جنرل اسمبلی سے معاملات طے نہ ہوئے تو جذبہ جہاد سے لبریز عمران خان شاید لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ کرنے کی کال دے دیں۔ پھر ایک خاص کشمیر پارٹی کے ایک گروہ کو لائن آف کنٹرول پر جانے کی ضد میں پولیس سے تصادم نہیں کرنا پڑے گا۔ بلکہ اس عوامی جہاد کی قیادت وزیر اعظم عمران خان بذات خود کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں، کیوں کہ مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی ۔ غالب امکان ہے کہ اس مارچ کے ہراول دستے میں عمران خان کے دیرینہ ممدوح مولانا خادم رضوی اور پیر افضل قادری بھی شامل ہوں گے۔
یوں تو حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر بھی کشمیریوں کو آزاد کروانے کے لئے دہائیوں سے جان ہتھیلی پر لئے پھرتے ہیں لیکن قومی مصلحتوں کا تقاضہ ہے کہ دنیا میں بدنام ہوچکے لوگوں کو ذرا دور ہی رکھا جائے۔ تاہم عمران خان نے اپنے اقتدار کے ایک سال کے دوران یو ٹرن لینے کے جو ریکارڈ قائم کئے ہیں، ان کی روشنی میں لائن آف کنٹرول کی طرف کوچ کرنے تک وہ اپنا فیصلہ تبدیل بھی کرسکتے ہیں ۔ ایک تو بڑا لیڈر وہی ہوتا ہے جو وقت کے ساتھ مؤقف تبدیل کرتا رہے، دوسرے یہ کہ جب کشمیر کو آزاد کروانا ٹھہر گیا تو پھر رقیبوں کی پرواہ کئے بغیر پوری قوم کو ’ایک پیج‘ پر لانا ہوگا۔ پھر کیا زید کیا بکر، سب ہی عمران خان کی قیادت یا کمان میں کشمیری بھائیوں کو مودی کے استبداد سے نجات دلوانے کے لئے لائن آف کنٹرول پر پل پڑیں گے۔


اوّل تو عمران خان کو یقین ہے کہ گزشتہ چھے ہفتے کے دوران ان کی حکومت کی ’بھرپور اور کامیاب سفارت کاری‘، شاہ محمود قریشی کی شیریں بیانی اور وزیر اعظم کی للکار نے دنیا کو اتنا چوکنا کردیا ہے کہ جب پاکستانی وزیر اعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کا مقدمہ پیش کریں گے تو دنیا بھر کے لیڈر اجلاس کے فوری بعد عمران خان کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے مودی سے دو دو ہاتھ کرنے کے لئے ’جہاد مارچ‘ پر روانہ ہو جائیں گے۔ آج کی تقریر میں عمران خان نے بتا ہی دیا ہے کہ مودی کمزوروں پر ظلم کر رہا ہے، اس لئے وہ بہادر نہیں ہو سکتا۔ بس جمع خاطر رکھی جائے کہ جب جذبہ جہاد سے معمور تقریر کے بعد اقوام عالم کے لیڈر عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو کسی بھی بزدل کی طرح نریندر مودی خود ہی میدان چھوڑ کر بھاگ جائے گا۔ یہ لائن آف کنٹرول کی طرف جہاد مارچ کے آپشن کو کپتان کا ’پلان بی ‘ سمجھنا چاہئے۔ کیوں کہ مومن شوق شہادت میں بھی فراست کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔ یوں بھی دنیا کے لیڈروں کو اپنی اولاالعزمی کا یقین دلانے کے لئے متبادل حکمت عملی واضح کرنا ضروری ہے۔
لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ کے شوقین نوجوان تو شاید عمران خان کا انتظار کرلیں اور اس امید پر بھی بھروسہ کر لیں کہ پاکستانی وزیر اعظم جب کشمیر کا سفیر بن کر اقوام متحدہ جائیں گے تو وہ کامران ہی لوٹیں گے۔ لیکن اس منصوبہ میں ایک ہی قباحت ہے کہ کیا امور مملکت چلانے کے لئے اختیار کے ’ایک پیج‘ پر موجود فریق سے مشورہ کر لیا گیا ہے؟ یا یہ عمران خان کا یک طرفہ اعلان ہے۔ مشورہ اور تائید سے حکومت کرنے والے لیڈر کو مشاورت کے بغیر کوئی اقدام کرتے ہوئے مشکل ضرور پیش آسکتی ہے۔ اس صورت میں جب عمران خان پیچھے مڑ کر دیکھیں گے تو شاید ان کی اپنی کابینہ کے بیشتر ارکان بھی کسی دوسرے لیڈر کی قیادت میں قومی احیا کے کسی نئے منصوبہ کے لئے رخت سفر باندھ چکے ہوں گے۔
عمران خان نے مظفر آباد میں جو ولولہ انگیز تقریر کی ہے اس کے اہم نکات یوں بیان کئے جا سکتے ہیں:


1)اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کوشش کرنے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ کب اور کیسے لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ کیا جائے۔ اس کا اعلان وزیر اعظم خود کریں گے۔
2) بہادر لیڈر کمزوروں، عورتوں اور بچوں پر ظلم نہیں کرتے۔ مودی کی حکومت چونکہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم کررہی ہے، اس لئے وہ بہادر نہیں ہو سکتے۔
3) پاکستان نے فروری میں فضائی جھڑپ کے بعد بھارتی پائیلٹ ابھے نندن کو رہا کرنے کا فیصلہ امن کی خواہش کی وجہ سے کیا تھا۔ لیکن بھارتی حکومت یہ سمجھی کہ ہم ڈر گئے ہیں۔ حالانکہ مومن مرنے سے کبھی نہیں ڈرتا۔
4) پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی نے دنیا کو مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں پر بھارت کے ظلم و ستم سے پوری طرح آگاہ کردیا ہے اور اب یکے بعد دیگرے ممالک اور ادارے کشمیر پر پاکستانی مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں۔ لیکن مقبوضہ کشمیر میں سرکاری ظلم کے تسلسل کا تقاضہ ہے کہ اب دنیا زیادہ انتظار نہ کرے۔ بس اٹھ کھڑی ہو۔
5) نریندر مودی جرمنی کے ہٹلر کے نقش قدم پر چل رہا ہے۔ کیوں کہ بھارت کی ہندو انتہاپسند تنظیم آر ایس ایس ہٹلر کو ہی اپنا ہیرو مانتی ہے۔ یہ تنظیم ہندوؤں کے علاوہ مسلمانوں سمیت تمام مذہبی اقلیتوں کو ہندوستان سے نکال دینا چاہتی ہے۔
6) مودی کشمیر میں ظلم کرکے لوگوں کو انتہاپسندی کی طرف دھکیل رہا ہے اور اس کا الزام پاکستان پر لگاتا ہے۔
7) بھارتی حکومت کے ظلم کے خلاف عوام اٹھ کھڑے ہوں گے۔ بھارتی مسلمان اکیلے نہیں ہیں۔ دنیا کے سوا ارب مسلمان بھی اس صورت حال کو دیکھ رہے ہیں۔
عمران خان کی تقریر کے ان نکات سے فہم و فراست یا سفارتی و سیاسی حکمت عملی کشید کرنے کی کوشش جائز نہیں ہو سکتی کیوں کہ بہادر لوگ دماغ سے زیادہ دل کی آواز پر لبیک کہتے ہیں۔ اب پاکستان کیا بلکہ دنیا کے تمام مسلمانوں کو ایک ایسا لیڈر میسر آ گیا ہے جو کسی سے نہیں ڈرتا۔ حتی کہ موت سے بھی خوف نہیں کھاتا۔ وہ کھری بات کرتا ہے چاہے کسی کو پسند آئے یا وہ ناراض ہو۔ لیکن مسئلہ صرف یہ ہے کہ سیاست قومی ہو یا عالمی، وہ جوش اور نعروں سے پروان نہیں چڑھتی بلکہ اس کے لئے سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا پڑتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ایسی چال چلنا پڑتی ہے جو فریق مخالف کو بے بس کردے۔ عمران خان کے جذبہ ایمانی سے بھرپور تقریر میں ایسی کسی حکمت کا کوئی شائبہ بھی تلاش نہیں کیا جاسکتا۔


پوچھنا چاہئے کہ وزیر اعظم نے یہ حکمت عملی کسی سیاسی ساتھی یا انتظامی معاون سے مشورہ کے بعد ترتیب دی ہے یا وہ خود ہی اس کے خالق اور پیرو کار ہیں۔ اور یہ کہ کیا اس اعلان میں قوم کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ عمران خان کی پالیسی کامیاب ہونے تک بھوکے پیاسے رہنے کی ضرورت ہوگی اور دنیاوی مقاصد و سہولتوں کے مطالبوں کو بھولنا ہوگا۔ بس عمران خان اگر اتنا بھی بتا دیں کہ کامیابی کی یہ منزل مارنے میں کتنی مدت درکار ہوگی تو بھوکے اور پریشان حال عوام اتنی مدت کو تقدیر کا لکھا مان کر خاموش رہنے کا اہتمام کریں۔
وزیر اعظم کو اگر خود ہی اپنی متعین کردہ منزل کے فاصلے اور مشکلات کا علم نہیں ہے تو وہ کس برتے پر قیادت و سفارت کا بوجھ اٹھانے کو بے چین ہوئے جاتے ہیں؟
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker