تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

آرمی چیف کی توسیع: سپریم کورٹ عدالتی تاریخ کا دھارا بدل سکتی ہے .. سید مجاہد علی

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے عہدے میں توسیع کے حکم نامہ کو عارضی طور سے معطل کرتے ہوئے بدھ کو اس معاملہ کی سماعت کا حکم دیا ہے۔ جنرل باجوہ کے عہدہ کی موجودہ مدت 29 نومبر کو ختم ہورہی ہے۔ عدالت عظمی ٰ نے آرمی چیف کو باضابطہ طور پر فریق بناتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ، وزارت دفاع اور وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔
ہوسکتا ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کی طرف سے ٹیکنیکل بنیاد پر اٹھائے جانے والے سوالوں کا جواب فراہم کردے اور سرکاری نوٹی فیکیشن کے اجرا کے حوالے سے سقم کو دور کردیا جائے۔ جس کے بعد سپریم کورٹ آج اٹھائے گئے سوالوں کا مکمل جواب تلاش کئے بغیر اس توسیع کو قبول کرلے یا حکومت کو ہدایت کی جائے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد آرمی رولز کے مطابق جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ کو معطل کرتے ہوئے انہیں ایک خاص مدت تک فوج کے سربراہ کے طور پر کام کرنے کی اجازت دے دی جائے۔ تاہم سپریم کورٹ میں اس معاملہ کی سماعت، ججوں کےریمارکس اور حکومت کی طرف سے قومی نوعیت کے اس سنجیدہ و اہم معاملہ میں سامنے آنے والی کوتاہی کی روشنی میں یہ معاملہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے 19 اگست کو جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کرنے کا حکم جاری کیا تھا ۔ اس اہم عہدہ پر موجودہ آرمی چیف کو مزید تین سال تک کام کرنے کا فیصلہ کرتے وقت یہ جواز دیا گیا تھا کہ علاقائی سیکورٹی کی صورت حال کی وجہ سے پاک فوج کی کمان کا تسلسل اہم ہے۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت ختم ہونے سے تین ماہ پہلے ہی حکومت کی جانب سے اس قسم کا حکم ایک طرف فوج کے ساتھ حکومت کی قریبی ہم آہنگی کا اظہار تھا تو دوسری طرف وزیر اعظم اس حوالے سے ممکنہ مباحث اور پیشین گوئیوں سے بچنا چاہتے تھے۔ اس فیصلہ سے پاک فوج کے نئے کمانڈر کے حوالے سے ہونے والے روائیتی مباحث اور قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ تاہم جیورسٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے ریاض حنیف راہی نے اس توسیع کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی تھی۔ آج کی سماعت میں ریاض حنیف راہی پیش نہیں ہوئے اور انہوں نے عدالت سے اپنی درخواست واپس لینے کی استدعا کی تھی۔ لیکن عدالت نے اسے مفادعامہ کا معاملہ قرار دیتے ہوئے از خود نوٹس میں تبدیل کر دیا۔ اب اس معاملہ کی سماعت آئین کی شق 184 (3) کے تحت کی جارہی ہے جسے عرف عام میں سو موٹو یعنی کسی معاملہ پر براہ راست غور کرنے کا عدالتی اختیار بھی کہا جاتا ہے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ اس معاملہ کی سماعت کررہا ہے۔
آرمی چیف کے عہدہ کی مدت میں توسیع کے معاملہ پر سو موٹو نوٹس کے تحت سماعت بجائے خود چونکا دینے والا اقدام ہے۔ ایک تو موجودہ چیف جسٹس نے عہدہ سنبھالتے ہوئے سو موٹو اختیار کو محدود کرنے کا وعدہ کیا تھا اور وہ بڑی حد تک اس پر قائم رہے ہیں۔ انہوں نے اس سال جنوری میں چیف جسٹس بننے کے بعد سے کسی معاملہ پر از خود نوٹس نہیں لیا بلکہ اس کی بجائے زیر سماعت مقدمات پر جلد فیصلے دینے کی روایت مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں سو موٹو کے تحت عدالتی فعالیت کی وجہ سےقانون دانوں میں سپریم کورٹ کے اس اختیا رکے بارے میں مباحث کا آغاز ہوگیا تھا۔ جسٹس کھوسہ نے اپنے رویہ سے اس غیر ضروری بحث کا خاتمہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ شق 184 (3) کے تحت عدالت عظمیٰ کا حکم یا فیصلہ حتمی ہوتا ہے جس پر نظر ثانی کی اپیل بھی دائر نہیں کی جاسکتی۔ ماضی میں اسی شق کے تحت دو وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کو معزول کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ کی طرف سے آرمی چیف کی توسیع کو عارضی طور سے معطل کرنے کے معاملہ کو ملک کی عمومی سیاسی صورت حال اور سیاسی معاملات میں عسکری قیادت کی شراکت کی بحث کے تناظر میں دیکھنا بھی ضروری ہے۔ موجودہ حکومت فوج کے ساتھ بہتر اور قریبی اشتراک عمل کا دعویٰ کرتی ہے جسے ایک پیج کی حکمت عملی بھی کہا جاتا ہے جبکہ ملک کی تمام اپوزیشن پارٹیاں موجودہ حکومت کو اس لحاظ سے جعلی اور مسلط کردہ سمجھتی ہیں کہ عسکری اداروں نے انتخابات اور حکومت سازی کے عمل پر اثر انداز ہوکر تحریک انصاف کو حکومت بنانے کا موقع فراہم کیا تھا۔ قومی اسمبلی کے ابتدائی اجلاس میں پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کو نامزد وزیر اعظم قرار دیا تھا۔ بعد میں یہ اصطلاح زبان زد عام ہوگئی تھی۔ اگرچہ اپوزیشن قیادت پر یہ پھبتی بھی کسی جاتی رہی ہے کہ وہ وزیر اعظم کو تو نامزد کہتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کی انہیں کس نے نامزد کیا تھا۔ پاکستان میں آرمی چیف کا عہدہ صرف فوج کی قیادت کے اعتبار سے ہی اہم نہیں ہے بلکہ اسے سیاسی حوالے سے بھی اہمیت حاصل رہی ہے۔ عام طور سے سمجھا جاتا ہے کہ پاک فوج کا سربراہ اور اس کا طرزعمل ملکی سیاسی قیادت کے طریقہ کار، کارکردگی اور فیصلوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی لئے آرمی چیف کی تقرری کو نہایت اہمیت دی جاتی ہے۔ اس عہدے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جب بھی کسی فوجی جنرل نے ملک کا اقتدار سنبھالا تو اس نے فوج کی کمان کسی دوسرے جنرل کے سپرد نہیں کی بلکہ خود ہی اپنے آپ کو توسیع دیتے ہوئے آرمی چیف کا عہدہ اپنے پاس رکھا۔ اس عہدہ کو اقتدار کا مرکز اور طاقت کا منبع سمجھا جاتا ہے۔ اسی لئے نئے آرمی چیف کی تقرری یا کسی آرمی چیف کی توسیع کا ملکی سیاست پر اثر بھی محسوس کیاجاتا ہے۔
بدقسمتی سے جنرل (ر) مشرف کے بعد فوج کی کمان سنبھالنے والے سب ہی جرنیلوں نے اپنے عہدے میں توسیع کی خواہش کی ہے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے صدر آصف زرداری سے توسیع حاصل کی جبکہ جنرل باجوہ کو عمران خان تین سال کی توسیع دینا چاہتے ہیں۔ ان سے پہلے جنرل (ر) راحیل شریف نے بھی اپنے عہدے کی مدت میں توسیع کے لئے کوشش کی تھی لیکن نواز شریف اس پر راضی نہیں ہوئے۔ ان کا یہ فیصلہ بھی فوج کے ساتھ ان کے تعلقات میں سرد مہری کا سبب بنا تھا۔
فوج کے سربراہ کی تقرری کے معاملہ کو عسکری صلاحیت و مہارت سے زیادہ اس کے سیاسی مضمرات کی وجہ سے زیادہ اہمیت حاصل رہی ہے۔ سول لیڈر کسی آرمی چیف کی تقرری سے قبل متعلقہ جنرل کے سیاسی رویہ پر غور کرتے رہے ہیں تاکہ سیاسی لحاظ سے متحرک و سرگرم کسی جنرل کو فوج کا سربراہ نہ بنایا جائے۔ البتہ سابقہ سیاسی قیادتیں اپنی تمام تر کوشش کے باوجود سیاست میں فوج کی مداخلت کا سد باب نہیں کرسکیں۔ فوج کے ماورائے آئین اقدامات کو سپریم کورٹ سے ملنے والی تائد اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ اس بارے میں سپریم کورٹ کا موجودہ سوموٹو دوررس نتائج کا حامل ہوسکتا ہے۔ یہ اداروں کے باہمی تعلق کو از سر نو تشکیل دینے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
سپریم کورٹ نے توسیع کے حکم نامہ کے ٹیکنیکل پہلوؤں پر اعتراض کیا ہے۔ وزیر اعظم نے جنرل باجوہ کو توسیع دینے کا حکم 19 اگست کو جاری کیا تھا، جس کی صدر عارف علوی نے اسی روز توثیق کردی تھی ۔ لیکن پھر اندازہ ہؤا کہ سپریم کورٹ کی رولنگ کے مطابق کابینہ سے اس کی منظوری نہیں لی گئی۔ لہذا اس معاملہ پر 21 اگست کو کابینہ میں غور کیا گیا اور کابینہ کی منظوری کے بعد وزیر اعظم نے جنرل باجوہ کے عہدے کی مدت میں توسیع کا حکم دوبارہ جاری کردیا۔ البتہ یہ حکم تکنیکی لحاظ سے غیر قانونی رہا کیوں کہ آئین صرف صدر مملکت کو آرمی چیف کی تقرری یا ان کے عہدے میں توسیع کی اجازت دیتا ہے۔ صدر مملکت نے 21 اگست کو کابینہ کی منظوری کے بعد نیا حکمنامہ جاری نہیں کیا تھا ۔ چیف جسٹس نے اب اسی سقم کی نشاندہی کی ہے۔ اس کے علاوہ سوال کیا گیا ہے کہ 21 اگست کو کابینہ کے اجلاس میں 25 میں سے صرف 11 ارکان موجود تھے۔ باقی 14 وزرا نے ابھی تک اس فیصلہ کے حق میں رائے نہیں دی ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ آرمی رولز کے تحت کسی فوجی افسر کے عہدے کی مدت میں توسیع نہیں کی جاسکتی البتہ ریٹائرمنٹ کو عارضی طور سے معطل کیا جاسکتا ہے۔ تاہم چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ریٹائرمنٹ سے پہلے ریٹائرمنٹ معطل کرنا گاڑی کو گھوڑے کے آگے باندھنے والی بات ہے‘۔ عدالت میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔ تاہم عدالت نے سوال کیا کہ اگر علاقائی سلامتی کی صورت حال کا عذر قبول کرلیا جائے تو ہر فوجی افسر اپنے عہدے میں توسیع کا تقاضہ کرسکتا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ علاقائی سیکورٹی کے چیلنجز سے فوج بطور ادارہ نمٹتی ہے، یہ کسی ایک افسر کا کام نہیں ہوتا۔ اٹارنی جنرل کسی ایسے قانون کا حوالہ بھی نہیں دے سکے جس کے تحت آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کی جاسکتی ہو۔
پاکستان کی تاریخ میں سپریم کورٹ کا یہ اقدام انتہائی اہمیت کا حامل ثابت ہوگا۔ اگر جنرل قمر جاوید باجوہ کے عہدے کی مدت میں توسیع سے انکار کردیا جاتا ہے تو اس سے یہ کسی آرمی چیف کو توسیع دینے کا معاملہ ہمیشہ کے لئے طے ہوجائے گا ۔ اس طرح فوج میں قابل اور سینئر جنرل اعلیٰ ترین عہدے پر ترقی سے صرف اس لئے محروم نہیں رہیں گے کہ سیاسی ضرورتوں کے تحت آرمی چیف کو توسیع دے دی گئی تھی۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی طرح سینئر ترین جنرل کو آرمی چیف بنانے کے اصول کی راہ بھی ہموار کرسکتا ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے اگر سو موٹو لینے کے باوجود اس معاملہ میں مفاہمانہ رویہ اختیار کرنے کا حتمی فیصلہ کیا تو بھی مستقبل کی حکومتوں کو یہ سبق مل سکتا ہے کہ کسی قانونی جواز کے بغیر آرمی چیف کو توسیع دینے کا معاملہ سپریم کورٹ کی نظر میں مستحسن اور قومی مفاد کے لئے ضروری فیصلہ نہیں ہے۔
سپریم کورٹ میں آج کی کارروائی ملک کے سیاسی انتظام میں فوج، عدلیہ اور سیاسی قیادت کی تکون میں عدم توازن کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔ اس سے اداروں کے درمیان اعتماد کی کمی اظہار ہؤاہے۔ سپریم کورٹ نے اس سوموٹو کے ذریعے اپنی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ توسیع کا فیصلہ برقرار رہنے کے باوجود یہ ایک طاقت ور اشارہ ہے جسے سمجھنے اور مستقبل کا لائحہ عمل بناتے ہوئے پیش نظر رکھنا ضروری ہوگا۔ آج کی عدالتی کارروائی اور وہاں اٹھائے گئے سوالات دراصل یہ نکتہ سامنے لائے ہیں کہ سب اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جب بھی ایک ادارہ ان حدود سے تجاوز کرے گا تو دوسرے ادارے بھی اپنی قدر و قیمت میں اضافہ کی کوشش کریں گے۔
( بشکریہ : کاروان .. ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker