سید مجاہد علیکالملکھاری

پرنسپل کا قتل : ایف آئی آر میں کسے نامزد کیا جائے ؟ سید مجاہد علی

چارسدہ کے ایک پرائیویٹ کالج میں بارہویں کلاس کے ایک طالب علم نے اپنے ہی کالج کے پرنسپل کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔ پرنسپل کا قصور یہ تھا کہ اس نے طالب علم کو فیض آباد دھرنے میں شرکت کے نام پر کالج سے پے در پے چھٹیاں کرنے پر وارننگ دی تھی۔ اس پر طالب علم نے پستول نکالی اور یہ کہتے ہوئے پرنسپل پر حملہ کردیا کہ وہ توہین مذہب کا مرتکب ہوا ہے۔ پولیس کے آنے پر طالب علم کو کوئی شرمندگی نہیں تھی اور اس کا مؤقف تھا کہ ’مجھے کسی کا خوف نہیں۔ مجھے مارنے کی تلقین کی گئی ہے۔ جو توہین مذہب کرے گا ،وہ بچ نہیں سکتا‘۔ پاکستان کے تناظر میں یوں تو یہ ایک معمول کا واقعہ ہے۔ روزمرہ رونما ہونے والے حادثات میں ایک مزید حادثہ کا اضافہ۔ جہاں روزانہ دیگر ہزاروں لوگ ظلم ، دہشت، بیماری یا حادثات کا شکار ہوکر مرتے یا ہلاک ہوتے ہیں وہیں ایک کالج کا پرنسپل بھی ایک تنازعہ کی وجہ سے مار دیا گیا۔ لیکن کسی دشمنی یا وجہ کے بغیر جو مزاج ایک طالب علم کو بلا اشتعال اپنے استاد کو مارنے کا ’حوصلہ‘ دیتا ہے، اس کے محرکین کا پتہ لگانا ضروری ہے۔
دیکھا جائے تو حادثات کا شکار رہنے والے ملک پاکستان میں یہ قتل افسوس کی بات ضرور ہے لیکن تیزی سے تشدد کی طرف مائل ہوتے معاشرے میں حیرت کا مقام بالکل نہیں ہے۔ تاہم اگر اس واقعہ کو غور سے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو یہ جان لینا مشکل نہیں ہوگا کہ یہ قتل دراصل اس مزاج اور رویہ کا آئینہ دار ہے جو اس ملک کے نوجوانوں کے دل و دماغ میں سرایت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ لاقانونیت اور مسلمہ اصول و ضوابط کو روندنے والا یہی مزاج دراصل ملک میں بد امنی، لاقانونیت ، انتشار اور دہشت گردی کے فروغ کا سبب بن رہا ہے۔ اس نے ملک کے عوام کو غیر محفوظ اور پریشان کیا ہے اور دنیا بھر میں پاکستان کو بطور مملکت شک و شبہ سے دیکھا جانے لگا ہے۔ اس لئے اگر قومی حمیت کی کوئی رمق باقی رہی ہو تو اس قتل کے عوامل اور ذمہ داروں کا تعین بے حد اہم ہے۔
درحقیقت یہ کام مشکل بھی نہیں ہے۔ اس مزاج کو عام کرنے والے اور لوگوں کو اپنی مرضی کا مجرم تلاش کرکے اس کے خلاف فیصلہ صادر کرنے اور سزا دینے کا حق دینے کا مطالبہ کرنے والے اب سینکڑوں یا ہزاروں میں نہیں ہیں بلکہ لاکھوں میں ہیں اور گلی گلی محلہ محلہ اپنے مؤقف کی صداقت کا ڈھنڈورا پیٹتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ لوگ چھپ چھپا کر یاکسی خفیہ مقام پر جمع ہو کر اس ناجائز اور ملک کے آئین و قانون سے متصادم مؤقف کا پرچار نہیں کرتے بلکہ وہ علی ا لاعلان یہ کہتے ہیں کہ وہ جس کی بات سے متفق نہیں ہوں گے، اسے کافر قرار دیا جائے گا اور چونکہ ان کے ’ہیرو‘ ممتاز قادری نے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو اسی رویہ کے تحت قتل کرکے ایک ’درخشاں ‘ مثال قائم کی ہے لہذا اب اس ’عاشق رسولﷺ‘ کی سنت پر عمل کرنا عین سعادت اور قابل تقلید ہے۔ اس کا ایک مظاہرہ دو ماہ پہلے فیض آباد دھرنے کی صورت میں ہو چکا ہے جہاں دو ہزار کے لگ بھگ لوگوں نے تین ہفتے تک وفاقی حکومت کا ناطقہ بند کئے رکھا اور بالآخر فوج کی ثالثی سے طے پانے والے معاہدے کے نتیجے میں حکومت کو مظاہرین کے سارے مطالبے ماننا پڑے اور وزیر قانون کا استعفیٰ تاوان کے طور پر پیش کیا گیا۔
مذہب کو سیاسی ہتھیار اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کا دوسرا مظاہرہ کل لاہور کی ایک ختم نبوت کانفرنس میں کیا گیا جہاں سرگودھا کے پیر حمیدالدین نے حکومت کو ایک ہفتہ کے اندر شریعت نافذ کرنے کا نوٹس دیا اور واضح کیا ہے کہ اگر اس ’حکم نامہ قسم کے مطالبہ ‘ پر عمل نہ ہؤا تو عاشقان رسول پورے پاکستان کو عضو معطل بنا دیں گے۔ حالانکہ ان ملاؤں نے جو طرز عمل اختیار کیا ہؤا ہے، اس کی بدولت پاکستان پہلے ہی ایک ناکام ریاست کی صورت پیش کر رہا ہے۔ حکومت اور فوج صرف اپنی عزت بحال رکھنے کے لئے یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ اصل اختیار ان کے پاس ہے۔ بد قسمتی سے ملک کے اہم ترین ادارے جستہ جستہ یہ اختیار ان مذہبی غنڈہ نما ملاؤں کو تفویض کرچکے ہیں جو اپنی مرضی کے فیصلے کرواتے ہیں اور قانون یا قانون نافذ کروانے والے اداروں کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے پیر حمیدالدین صرف شریعت نافذ کرنے کی خواہش کا اظہار ہی نہیں کرتے بلکہ وہ اپنی طاقت کا اظہار پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنااللہ کے مسلمان ہونے کو ’معطل‘ کر کے بھی کر چکے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ رانا ثنا اللہ کو از سر نو ’مسلمان‘ ہونے کے لئے کلمہ طیبہ پڑھ کر ایک بار پھر اسلام کی حقانیت اور حضرت محمد ﷺ کے ختم نبوت پر کامل ایمان کا اعلان کرنا پڑے گا۔ اس طرح پیر صاحب ہوں یا لبیک تحریک کے خادم رضوی، وہ دراصل یہ پیغام عام کررہے ہیں کہ قانون شکنی ہی اصل اسلام ہے۔ اور اسی طرح رسول پاکﷺ سے محبت وا نسیت کا اظہار کیا جاسکتا ہے۔ حکومت اور اس کے ادارے اس قسم کے اعلانات اور قانون شکن رویوں کو قبول بھی کرتے ہیں بلکہ متعلقہ لوگوں سے سیاسی مراعات لینے کے لئے تگ و دو بھی کرتے رہتے ہیں۔
اس پس منظر میں چارسدہ میں ہونے والے قتل کی ایف آئی آر میں صرف ایک طالب علم کا نام درج کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ ضروری ہے کہ خادم رضوی ، پیر حمیدالدین اور ان کے ان سارے ساتھیوں کو اس میں نامزد کیا جائے جو نوجوانوں کو عشق رسول کے نام پر قانون شکنی کا پیغام دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس قتل کی معاونت کے الزام میں ان تمام حکومتی عہدیداروں اور سیاست دانوں کا نام درج ہونا چاہئے جو سیاسی اور ذاتی مصلحتوں کی وجہ سے اس زہر آلود رویہ کو عام کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker