کالملکھاریوجاہت مسعود

ڈاکٹر عبد الحمید نیر…. اب التفات نگار سحر کی بات سنو ۔۔ وجاہت مسعود

ہائے زمانہ بدل گیا۔ کوئی تیس برس پہلے ایسی جسارت کی جاتی تو بال بچہ کولہو میں گھان کر دیا جاتا۔ غضب خدا کا، ربیع الاول کا مہینہ اور راندہ درگاہ لوگوں کو اعزاز دیا جاتا ہے۔ پوچھ لینا چاہیئے کہ اے صاحب فکر، اے رجل رشید، ہجری تقویم کے باقی گیارہ مہینوں میں سے کون سا مہینہ تم تجویز کرتے ہو کہ قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ طبیعیات کو پاکستان کے واحد نوبیل انعام یافتہ سائنسدان سے منسوب کر دیا جائے۔ قمری برس میں کوئی مہینہ تو ہوگا کہ چاند نکلے کسی جانب تیری زیبائی کا، آج ارزاں ہو کوئی حرف شناسائی کا۔ اللہ اللہ کیسا زمانہ آ گیا۔ ڈاکٹر عبد الحمید نیر فزکس کے استاد ہیں۔ قائداعظم یونیورسٹی میں نیوکلیائی فزکس کے صدر شعبہ رہے ہیں۔ کہنہ نشان ہیں، پیرانہ سالی نے برسوں سے چھاؤں کر رکھی ہے۔ واللہ ایسی جسارت کہ خالد متین ایسے غالی محقق کے منہ آتے ہیں۔ ایک چٹھی اس درویش کے نام ای میل میں بھیجی ہے، ڈاکٹر عبد الحمید کچھ اضافت وغیرہ کے نظریات پڑھاتے رہے ہیں۔ مولی مدن کی سی بات کہاں، فیض صاحب کی سی اضافت کہاں! مسافر رہ صحرائے ظلمت شب سے، اب التفات نگار سحر کی بات سنو…. ڈاکٹر عبد الحمید نیر لکھتے ہیں

“آج جنگ کے کالم میں ایک محترم صحافی نے اپنی روایتی تنگ نظری کا مظاہرہ کرنے کے لئے پروفیسر عبدالسلام کے بارے میں کئی جھوٹی باتوں کا سہارا لیا۔ صحافی مذکور کی تحریر میں شامل متعدد غلط بیانیوں کی تردید ضروری ہے۔

1۔ صاحبزادہ یعقوب علی خان سے منسوب واقعہ صریحاً جھوٹ ہے۔ سنہ 1997 میں اسلام آباد کلب کی ایک ضیافت میں جس میں صاحبزادہ یعقوب علی خان سمیت کئی نامور دانشور موجود تھے، صاحبزادہ یعقوب سے امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے اس واقعے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اسے مکمل جھوٹ قرار دیا اور کہا کہ ایسا کوئی واقعہ کبھی ہوا ہی نہیں۔ اس ضیافت میں جو اس زمانے کے مشہور کالم نویس آئی حسن کی اسی ویں سالگرہ کے موقعے پر تھی موجود افراد میں اردشیر کائو س جی، ڈاکٹر اقبال احمد، ڈاکٹر مبشر حسن، ڈاکٹر عنایت اللہ، ڈاکٹر ایس ایم نسیم وغیرہ شامل تھے۔ مَیں خود بھی وہاں موجود تھا، اور صاحبزادہ یعقوب علی خان کی تردید خود اپنے کانوں سے سنی۔

2۔ یہ بات بھی حقائق کے بالکل برعکس ہے کہ پروفیسر عبد السلام نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت کی۔ حقیقت یہ ہے کہ سلام صاحب نے پاکستانی ایٹم بم کی ابتدائی کوششوں میں خود اہم حصہ لیا۔ میرا تعلق فزکس سے ہے، اور میرے فزکس کے متعدد دوستوں نے اس کام میں براہ راست حصہ لیا تھا، ان کی گواہی پیش کرنا چاہتا ہوں۔ پروفیسر سلام نے اپنے شاگرد پروفیسر ریاض الدین کو سنہ 1972 میں اس کام پر لگایا کہ وہ ایٹم بم کی امپلوژن کی ریاضی پر دسترس حاصل کریں تاکہ بم کا ڈیزائن تیار ہو سکے۔ اس کام کے لئے ڈاکٹر ریاض الدین نے اپنے پی ایچ ڈی کے شاگرد مسعود احمد اور اپنے ایک اور دوست ریاضی دان پروفیسر منیر احمد رشید کو شامل کیا۔ سلام صاحب نے ان تینوں کو اٹلی کے شہر ترئستے میں قائم اپنے انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوریٹیکل فزکس میں جگہ فراہم کی، جہاں وہ سلام صاحب کی نگرانی میں کام کرتے رہے۔ یہی کام بعد میں پاکستانی ایٹم بموں کے ڈیزائن کی بنیاد بنا۔ ڈاکٹر مسعود احمد اس کام کو اپنی ٹیم کے ساتھ کرتے رہے۔ سنہ 1998 کے چھ کے چھ ایٹمی دھماکے ان کے ڈیزائن کردہ تھے۔ ڈاکٹر مسعود احمد حیات ہیں، اور ان سے ان تمام حقائق کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند بھی اس کی تصدیق کریں گے۔

3۔ یہ بھی قطعاً غلط بیانی ہے کہ سنہ 1974 کے بعد سلام صاحب اپنے نوبل انعام تک پاکستان نہیں آئے۔ پروفیسر عبدالسلام کو پاکستان سے شدید محبت تھی، اور پاکستان میں فزکس سے تعلق رکھنے والے افرد کی انہوں نے جس طرح سرپرستی کی، اس کی گواہی اس شعبے سے متعلق افراد دیں گے۔ سنہ 1976 میں پروفیسر عبدالسلام نے اپنے شاگرد پروفیسر ریاض الدین کے ہمراہ نتھیاگلی سمر کالج کی بنیاد رکھی، جو پاکستان کے علاوہ اطراف کے ممالک کے ہزاروں سائنسدانوں کو فیض یاب کر چکا ہے اور اب تک کر رہا ہے۔ اس کالج کے ابتدائی برسوں میں سلام صاحب اپنی حد درجہ مصروفیات کے باوجود خود ہر سال آتے تھے اور اپنی ذاتی کوششوں سے دنیا کے اعلیٰ ترین سائنسدانوں کو اس میں لیکچر دینے پر آمادہ کرتے تھے۔ پاکستان تو کیا، شاید ہندوستان میں بھی کوئی ایسا ادارہ نہ ہوگا جہاں اتنی بڑی تعداد میں نوبل انعام یافتہ سائنسدان آئے ہوں۔ چنانچہ یہ بات بھی صریحاً گمراہ کن اور بد نیتی پر مشتمل ہے کہ پروفیسر عبدالسلام پاکستان سے ناراض ہو کر سنہ 1974 سے لے کر 1979 تک ملک واپس نہیں آئے۔

4۔ یہ بیان کہ سنہ 1974 میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے بعد پروفیسر عبدالسلام احتجاجاً پاکستان چھوڑ کر انگلستان منتقل ہو گئے بھی گمراہ کن ہے، اس لئے کہ سلام صاحب تو پاکستان سے اپنی سکونت انگلستان سنہ پچاس کی دہائی کے اوائل ہی میں منتقل کر چکے تھے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سنہ 1974 کے بعد بھی پروفیسر عبدالسلام نے کبھی اپنی پاکستانی شہریت ترک نہیں کی، اور پاکستان میں سائنس کے فروغ کے لئے کام کرتے رہے۔”

تو یہ رہا ردعمل ڈاکٹر عبدالحمید نیئر کا۔ اب ایک تجویز اس بندہ عاجز کی سن لیجئے۔ دنیا بھر کے انسانوں کے لئے رحمت کا پیغام لانے والی عالی مقام ہستی ﷺکا نام لے کر عصبیت اور تفرقہ پھیلانے والوں کے لئے کیسا مناسب جواب ہے کہ رحمت العالمین ﷺکے کسی سچے نام لیوا کی مدح پڑھ لی جائے۔ اختر حسین جعفری کا کلام ہے اور رسول رحمت ﷺ کی نعت میں کیا مقام پیدا کیا ہے ۔

تنک مزاجوں کی سلطنت میں بتایا جس نے

سخن حدودِ دعا میں کرنا

لباس نا آشنا رواجوں کی سلطنت میں سکھایا جس نے

نمو کی مشتاق، بے ہنر خوئے شعلگی کو طریق قطع و بریدِ جامہ

حریمِ شمعِ صفات ہونا

مکاشفے میں، مباحثے میں، مباہلے میں

دلیل قاطع، دعائے فاتح، ثبوتِ آخر کو اپنے اوزان کی صداقت میں تولتا تھا

وہ نرم لہجے میں بولتا تھا

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker