کالملکھاریوجاہت مسعود

جنرل شیر علی پٹودی سے جنرل قمر باجوہ تک : تیشہ نظر / وجا ہت مسعود

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سترہ فروری کو جرمنی تشریف لے گئے جہاں انہوں نے میونخ سیکورٹی کانفرنس میں ایک نہایت اہم تقریر کی۔ انہوں نے پاکستان میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کی تاریخ پر بات کرتے ہوئے 1979کے برس کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ سال تھا جب ہم نے پاکستان کو کمیونزم کے خلاف لڑائی میں جھونکا، جہاد کے مقدس تصور کا استحصال کیا اور ہمارے ملک میں فرقہ واریت کی جڑی بوٹیاں نمودار ہوئیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ اب پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کیے جا چکے ہیں نیز یہ کہ پاکستان میں خلافت وغیرہ کے متعلق وہ تصورات موجود نہیں ہیں جو مشرق وسطی میں داعش اور اس قسم کی دوسری تنظیموں کی صورت میں نمودار ہوئے ہیں۔ باخبر مبصرین کا کہنا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس اہم تقریر میں اس بیانیے کو رد کر دیا ہے جو چالیس برس قبل فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے قوم پر مسلط کیا تھا۔ یہ ایک خوش آئند قدم ہے۔ جاننا چاہیے کہ دہشت گردی کے سوال پر پاکستان عالمی برادری میں قابل رشک ساکھ نہیں رکھتا۔ ابھی ایف اے ٹی ایف کے پیرس اجلاس میں ہم دہشت گردی کی معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کیے جانے سے بال بال بچے ہیں۔ فوج کو پاکستان کا طاقتور ترین ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ اس تناظر میں جنرل باجوہ کے خیالات نہایت اہمیت کے حامل ہیں تاہم اس قضیے کو وسیع تر قومی تناظر میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک کے بارے میں کچھ نکات بالکل واضح ہیں۔ ہمارے معاشی اور سماجی اشاریے کمزور ہیں۔ خطے میں ایک سے زیادہ ریاستوں کے ساتھ ہمارے تعلقات خوشگوار نہیں ہیں۔ آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے تسلسل کے ضمن میں ہمارا سفر ہموار نہیں رہا۔ ہم اس ملک میں آئینی اداروں کی باہم چپقلش کا شکار رہے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ریاستی اداروں نے ملک کے عوام پر بالادستی کا شغل اپنائے رکھا ہے۔
چالیس برس پہلے جنرل ضیاء الحق نے ہمیں افغان جہاد میں جھونکا تو کیا اس میں پاکستان کے لوگوں کی مرضی شامل تھی؟ نائن الیون کے بعد جنرل پرویز مشرف نے جو فیصلے کیے، کیا ان میں عوامی رائے کو کوئی دخل تھا؟ 2009ء میں جنرل اشفاق کیانی شمالی وزیرستان میں کارروائی سے گریز کی وجوہات بیان کرتے تھے تو کیا عوام ان کے فیصلے سے اختلاف کا یارا رکھتے تھے؟ جون 2014 میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا تو کیا پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا گیا تھا؟ اب ہمیں اطلاع دی گئی ہے کہ ہم جہادازم میں یقین نہیں رکھتے لیکن اے صاحبان ذی وقار! پاکستان کے متفقہ آئین میں تو جہاد کا لفظ کہیں موجود نہیں۔ دنیا کی تمام آزاد قوموں کی طرح ہمیں بھی کسی بیرونی جارحیت کے خلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور ہم نے اپنے دفاع کے لیے آرمڈ فورسز قائم کر رکھی ہیں۔ ہمارے ملک کے آئین کی شق 245 بتاتی ہے کہ مسلح افواج کا فرض کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف ملک کا دفاع کرنا ہے نیز یہ کہ اگر ملک میں کوئی ہنگامی صورتحال پیدا ہو جائے تو آئینی حکومت کی مدد کرنا مسلح افواج کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔ اسی طرح آئینی اداروں میں عدلیہ کو آئین کی تشریح کا منصب سونپا گیا ہے نیز عدلیہ کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ آئین سے متصادم قانون سازی کو روکا جا سکے۔ عدلیہ مقننہ کے حق قانون سازی پر قدغن لگانے کا استحقاق تو نہیں رکھتی۔ کئی عشروں تک ہم نظریہ ضرورت کے اسیر رہے۔ اب نظریہ ضرورت اسی طرح متروک ہو گیا ہے جیسے جہادازم کو ماضی کی ایک غلطی گردانا جا رہا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ نظریہ ضرورت سے چھوٹے تو بنیادی ڈھانچے کی بحث میں الجھ گئے ہیں۔ آئین کے بنیادی ڈھانچے کا ذکر ایک سے زیادہ مرتبہ سننے میں آیا ہے، اب تک کسی نے صراحت نہیں کی کہ آئین کا بنیادی ڈھانچہ ہے کیا؟ عین اسی طرح جیسے ایک چلتا ہوا جملہ ہم نے اپنا لیا ہے کہ جہاد کا اعلان صرف ریاست کر سکتی ہے۔ اے صاحبان ذی وقار! پاکستان اقوام متحدہ کا محترم رکن ہے، پاکستان کی مسلح افواج ملکی دفاع کی ذمہ دار ہیں، پاکستان کی ریاست بھی جہاد کا اعلان کرنے کا اختیار نہیں رکھتی کیوں کہ پھر ہمیں دنیا کو جہاد، جارحیت اور ملکی دفاع میں فرق سمجھانا پڑے گا۔ ہمیں ایسی مبہم اصطلاحات سے گریز کرنا چاہیے جو حتمی نتیجے میں قوم کا راستہ کھوٹا کرتی ہیں۔
یہ محض ایک تاریخی اتفاق تھا کہ ضیا آمریت ظہور ہوئی تو دو برس بعد ایران میں آیت اللہ انقلاب آ گیا۔ نیز یہ کہ دسمبر 1979ء میں سوویت افواج افغانستان میں داخل ہوئیں۔ پاکستان میں ریاستی اہلکاروں کی طرف سے سیاسی قیادت اور عوام کو من مانے راستوں پر ہانکنے کا رجحان بہت پرانا ہے۔ 1948ء کے ابتدائی مہینے تھے۔ قائد اعظم محمد علی جناح ہمارے گورنر جنرل تھے، نوابزادہ لیاقت علی خان وزیر اعظم تھے، فوج کے سربراہ جنرل فرینک میسروی تھے۔ فوج کے ایک بریگیڈئیر نوابزادہ شیر علی خان پٹودی نے کمانڈر انچیف جنرل فرینک میسروی کو پاکستان کی قومی افواج کو مذہبی تشخص دینے کی تجویز پیش کی۔ یہ تجویز منظور ہوئی، فوجی افسروں کی ایک کمیٹی قائم ہوئی، بریگیڈیئر شیر علی خان اس کمیٹی کے سربراہ تھے اور سیکریٹری لیفٹیننٹ کرنل آغا محمد یحییٰ خان تھے۔ آغا محمد یحیی خان کی شخصیت شعائر اسلامی کی پابندی کے ضمن میں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ جماعت اسلامی کے سابق سربراہ میاں طفیل محمد نے بھی اسلامی آئین کی تدوین کے ضمن میں یحییٰ خان کی اہلیت کی گواہی دی تھی۔ فوج کی نظریاتی کمیٹی کے کوئی دو عشرے بعد نوابزادہ شیر علی خان، یحییٰ خان کے وزیر اطلاعات بنے۔ نظریہ پاکستان کی اصطلاح شیر علی خان کے عطایا میں سے ہے۔ عوامی لیگ اور پیپلز پارٹی سے مخاصمت نیز جماعت اسلامی کے ساتھ جنرل صاحب کی شیفتگی کوئی راز نہیں تھی۔
نوابزادہ شیر علی خان نے اپنی خودنوشت سوانح 1978ء میں لکھی۔ انگریزی کتاب کا عنوان تھا The Story of Soldiering and Politics in India and Pakistan۔’’ اس کتاب کے صفحہ 122پر نوابزادہ شیر علی خان لکھتے ہیں۔ ’’پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے، اسلامی ریاست ہے… برصغیر میں مسلم قومیت کا تصور پہلے پیدا ہوا جس سے دو قومی نظریے نے جنم لیا۔ پاکستانی قوم کے لیے ایک خطہ زمین کا مطالبہ بعد میں پیدا ہوا چنانچہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت جغرافیائی سرحدوں کے دفاع سے زیادہ اہم ہے۔ میری رائے میں پاکستان کی مسلح افواج کا پہلا فرض نظریاتی سرحدوں کا دفاع ہے، جغرافیائی سرحدوں کا دفاع ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔‘‘کیا نوابزادہ شیر علی خان کے ان الفاظ سے آپ کو جنرل ضیاالحق کی درجنوں تقریریں یاد نہیں آئیں؟ مرحوم حمید گل کے خیالات یاد نہیں آئے؟ نوابزادہ شیر علی خان کی یہ رپورٹ متفقہ طور پہ منظور کر لی گئی۔ اس دوران قائد اعظم کا انتقال ہو گیا اور فرینک میسروی برطانیہ واپس چلے گئے۔ اس میں کیا تعجب کہ نوابزادہ صاحب کے خیالات میں جمہوریت کا ذکر کہیں نہیں۔ پاکستان ایک رپبلک کے طور پہ آزاد ہوا تھا۔ یعنی اس ملک پر حکومت کا حق یہاں کے عوام کو حاصل ہو گا۔ 1948ء کے موسم گرما میں بریگیڈئیر کے رینک کا ایک افسر قومی نصب العین بیان کر رہا ہے اور اسے اس سے کوئی غرض نہیں کہ ملک کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کے خیالات کیا ہیں؟
عرض یہ ہے کہ پاکستان میں انتہاپسندی، دہشت گردی، معاشی بدحالی اور سماجی انتشار کی جڑیں جمہوریت سے انکار میں ہیں۔ قوموں کی برادری میں پاکستان کا احترام پاکستان کے قومی استحکام اور عوام کے معیار زندگی میں بہتری ہی سے قائم کیا جا سکتا ہے۔ اس کا ایک ہی راستہ ہے۔ عوام کو ان کا حق حکمرانی حقیقی معنوں میں واپس ملنا چاہئے۔ تمام ریاستی اور آئینی اداروں کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہئے۔ پاکستان کے لوگوں کو کسی مسیحا کی ضرورت نہیں، اس مسیحائی کی ضرورت ہے جو آئین کی پاسداری اور خلق خدا کے حق حکمرانی کو تسلیم کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔
(بشکریہ : روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker