کالملکھاریوجاہت مسعود

حق گوئی کا تہوار اور تیسری دراز میں رکھا سچ ۔۔۔ وجاہت مسعود

1957ء میں پنڈت نہرو بھارتی فوج کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کر رہے تھے۔ فوج کے سربراہ کے کمرے میں ایک بڑی سی الماری نمایاں جگہ پر رکھی تھی۔ پنڈت جی میں تجسس پیدا ہوا۔ پوچھا کہ اس میں کیا رکھا ہے؟ جنرل تھمایا بھارتی فوج کے سربراہ تھے۔ انہوں نے کہا محترم وزیراعظم پہلی دراز میں ہمارے جنگی منصوبے ہیں، دوسری دراز میں فوج کے اعلیٰ افسروں کے بارے میں انتہائی خفیہ معلومات رکھی ہیں۔”اور اس تیسری دراز میں کیا ہے؟“ پنڈت جی نے دریافت کیا۔ سر، تیسری دراز میں آپ کی حکومت کے خلاف ممکنہ بغاوت کا منصوبہ رکھا ہے۔ کمرے میں ایک ایسی خاموشی چھا گئی جسے کسی صورت خوشگوار نہیں کہا جاسکتا تھا۔ پنڈت نہرو تب دس برس سے بھارت کے وزیراعظم چلے آرہے تھے اور آئین کے تحت دو مسلسل انتخابات جیت چکے تھے۔ پچاس کی دہائی میں ایک نو آزاد جمہوری ریاست میں سرکاری بیان اور زمینی حقیقت کے درمیان اتنا فاصلہ موجود تھا اور ہم ایسے خوش فہم ہیں کہ ہمارے خیال میں سچ ایک الماری میں رکھا ہے۔ اور ہم سب اس قفل بند سچائی کے بارے میں پورا علم رکھتے ہیں۔ ہم میں سے کچھ بہادر الماری میں ہاتھ ڈال کر سچ باہر نکالنا اور سب کو دکھا دینا چاہتے ہیں اور کچھ سازشی اور بزدل صحافی سچ کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
nehru-meets-general-k-c-cariappa
پہلے تو یہ معاملہ صاف ہونا چاہئے کہ واقعاتی سچ اور تجزیہ کے سچ کو ایک نہیں سمجھنا چاہئے۔ ایک ہی طرح کے واقعاتی حقائق سے مختلف نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں۔ بہت سے حقائق قانون ضابطے کے باعث بیان نہیں کئے جا سکتے۔ یہ بھی درست ہے کہ کچھ حقائق کا انکشاف پیوستہ مفادات کو پسند نہیں ہوتا۔ سچ کی تفہیم اور سچ کے بیان میں بہت سا فاصلہ ہوتا ہے۔ جنگ، آمریت اور نظریاتی ریاست سے گزرتے ہوئے یہ فاصلہ بڑھ جاتا ہے۔ جمہوریت اس فاصلے کو کم کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ سچ کی تفہیم اور بیان پر کسی فرد یا گروہ کا اجارہ نہ ہو۔ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر شہری کو سچائی تک رسائی کا حق بھی ہو اور اسے بیان کرنے کا حق بھی ملے۔ سچ کی اپنی ایک ثقافت ہوتی ہے۔ ایسی ثقافت کی غیر موجودگی میں حق گوئی کے تہوار منائے جاتے ہیں۔ میلے ٹھیلے کے عارضی ہنگامے میں بات کہنے کی جگہ کچھ بڑھ جاتی ہے۔ لیکن میلہ اور تہوار حتمی تجزیے میں عارضی وقفہ ہوتے ہیں۔ ہمیں معمول کی پابندیوں، بے رنگی، تلخی اور مشقت کی طرف لوٹنا ہوتا ہے۔ کمیونزم کے اک منحرف طالب علم کی حیثیت سے تین مثالیں میں پیش کئے دیتا ہوں۔ کمیونسٹ پارٹی کی بیسویں کانگریس میں خروشچیف نے ایک دھواں دار تقریر کی۔ بظاہر یہ تقریر پارٹی کے بند اجلاس میں ذمہ دار عہدے داروں کی موجودگی میں کی گئی تھی لیکن اسے افشا کرنے کا اہتمام کیا گیا۔ بورس پاسٹر ناک اور دوسرے فتنہ پرور آزادی joseph_stalin_and_nikita_khrushchev_1936پسندوں کو خوش فہمی پیدا ہو گئی کہ سٹالن کا دور گزر گیا۔ اب گولاگ کے دروازے توڑے جائیں گے۔ یہ وقفہ صرف اتنا تھا کہ جس میں مارشل سٹالن کی جگہ کامریڈ خروشچیف کی تصویر تبدیل کی جا سکے۔ 1958 کی عظیم جست کے نتیجے میں عوامی جمہوریہ چین میں زبردست قحط پیدا ہوا۔ بھوک میں وفاداری کمزور ہوجاتی ہے۔ چیئرمین ماؤ نے ایک تاریخی تقریر کی اور خوبصورت شعری استعاروں میں اعلان کیا کہ سو طرح کے پھولوں کو کھلنے دو۔ جگہ جگہ پھول کھل اٹھے۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ سو طرح کی فائلیں بھی کھل گئی ہیں۔ ان فائلوں کی مدد سے ثقافتی انقلاب میں چن چن کر ناقدین کو ٹھکانے لگایا گیا۔ 1969 میں چیکو سلواکیہ میں اشتراکی سربراہ دبچک نے انسان دوست سوشلزم کا اعلان کیا۔ ترکیب پر غور کیجئے۔ گویا تسلیم کیا گیا کہ سوشلزم انسانیت دشمن بھی ہوسکتا ہے۔ آزادی کے اس تہوار کو پراگ میں بہار کا نام دیا گیا۔ موسم گرما آتے آتے پراگ کی گلیوں میں سوویت یونین کے ٹینک آپہنچے۔ دبچک کو ایک دور دراز فارم پر کلرک بنا کر بھیج دیا گیا۔ میلان کنڈیرا نے اپنے ناولوں میں پراگ کے اسی موسم بہار کا مرثیہ بیان کیا ہے۔

li-zhenshengآج کل ہمارے ملک میں حق گوئی کا غسل صحت منایا جا رہا ہے۔ کہیں شعرائے کرام اپنے قصیدہ بہاریہ کے ردیف قافیے مرتب کر رہے ہیں۔ کہیں کونے میں طبلے پر ہتھوڑی ٹھنک رہی ہے۔ رکاب دار اپنے فن کی مشق کر رہے ہیں۔ تان پورے کے شکستہ تار تبدیل کئے جا رہے ہیں۔ کچھ ذود گو شعرا نے تو قصیدے میں تشبیب کا حصہ نذر گردان دیا ہے۔ ادھر ہمارے محترم بھائی حامد میر گزشتہ جلوس کے موقع پر کہے گئے ہمارے تہنیتی کلام میں عروض کی کوتاہیاں بیان کر رہے ہیں۔ صاحبان ذی وقار، سچ کہنا اگر ایسا ہی آسان ہے تو ہمیں بتانا چاہئے تھا کہ پرویز رشید کو وزارت اطلاعات سے فارغ کرنے میں صرف توسیع کی مخالفت کارفرما نہیں تھی۔ انہوں نے اپریل 2014 میں قاتلانہ حملے کا شکار ہونے والے ایک محترم صحافی سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے غلیل کے مقابلے میں دلیل کی حمایت کا اعلان بھی کیا تھا۔ یہاں مسودے کے کچھ حصے کو دیمک چاٹ گئی ہے۔ مخطوطہ ٹھیک سے پڑھا نہیں جا رہا مگر غالباً چار ہفتے قبل پرویز رشید کی فرد جرم میں تو ایک انگریزی اخبار کی خبر کا کچھ ذکر تھا۔ اب معلوم ہوا کہ واقعہ اور تھا، حکایت مختلف تھی۔ دوستوں کو شکایت کچھ اور تھی۔
pervaiz-rasheed2 حق گوئی ہمیں بہت پسند ہے۔ ہم پاکستان کی آزاد مملکت میں وقفے وقفے سے حق گوئی کا تہوار مناتے رہتے ہیں۔ ہم ٹھیک ٹھیک جانتے ہیں کہ ٹیلی ویژن کے مزاحیہ پروگرام میں، موت کے کنوئیں سے باہر لگے خواجہ سرائی تختے پر اور اخبار کے کالم میں کسے تضحیک کا نشانہ بنانا سچ گوئی کا حقیقی تقاضا ہے۔ مثال کے طور پر کتنا بڑا سچ ہم نے بیان کر دیا کہ پرویز مشرف کو ملک سے فرار کرانے کی ذمہ دار مسلم لیگ نواز ہے۔ ایسا ہی خوبصورت سچ پیپلزپارٹی کے چئیرمین محترم بلاول بھٹو زرداری نے بدھ کے روز بیان کیا کہ وہ مراد علی شاہ کی صورت میں ایک نیا سندھ تعمیر کر چکے۔ بلاول بھٹو سچے ہیں، حامد میر سچے ہیں۔ حق گوئی کے گزشتہ اور آئندہ علم بردار سچے ہیں۔ میں اور آپ جھوٹے ہیں۔ ہم نظریے، آمریت اور جنگ کے غیرعلانیہ قیدی ہیں۔
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker