عبدالرشید شکورکھیللکھاری

23 اپریل 2017 ، جب یونس خان نے دس ہزار رنز کا سنگ میل عبور کیا : عبدالرشد شکور کی خصوصی رپورٹ

کنگسٹن، 23 اپریل 2017۔
پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز، پہلے ٹیسٹ کا تیسرا دن۔
جب چائے کا وقفہ ہوا تو سبائنا پارک کے ڈریسنگ روم کی طرف بڑھتے دونوں پاکستانی بلے بازوں کے ذہن میں دو مختلف باتیں چل رہی تھیں۔
بابراعظم اپنی نصف سنچری کے بارے میں سوچ رہے تھے، جس کے لیے انھیں صرف تین رنز درکار تھے۔ ان کے ساتھ تھے یونس خان، جن کا ذہن اُس وقت صرف ایک رن کے گرد گھوم رہا تھا۔ لیکن یہ رن انھیں محض نصف سنچری یا سنچری تک نہیں پہچانے والا تھا، بلکہ اس کی بدولت یونس دنیائے کرکٹ میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے والے تھے۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے یونس خان نے تسلیم کیا کہ وہ اُس وقت خود پر بہت پریشر محسوس کر رہے تھے اور وہ اس دباؤ سے فوراً نکلنا چاہتے تھے۔
ʹمجھے یاد ہے کہ جب چائے کا وقفہ ہوا تو میں 22 رنز پر کھیل رہا تھا اور مجھے ٹیسٹ کرکٹ میں 10 ہزار رنز مکمل کرنے والا پہلا پاکستانی بیٹسمین بننے کے لیے صرف ایک رن درکار تھا۔‘
’جب آپ انٹرنیشنل کرکٹ کھیلتے ہیں تو اس کا اپنا دباؤ پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ میں اس سنگ میل تک پہنچنے کے بارے میں کچھ زیادہ ہی سوچ رہا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ چائے کے وقفے کے بعد کھیل شروع ہو اور میں جتنا جلد ہو سکے، یہ کر گزروں۔ʹ
یونس خان کو وہ لمحہ اب بھی اچھی طرح یاد ہے جب انھوں نے چائے کے وقفے کے بعد روسٹن چیز کی دوسری گیند کو سویپ کر باؤنڈری کی جانب پھینکا اور اسی کے ساتھ کیریئر میں دس ہزار رنز مکمل کر لیے۔
یونس خان بتاتے ہیں: ’میں نے اس اننگز میں نصف سنچری ضرور بنائی تھی لیکن وہ ایک دفاعی اننگز تھی، جس میں پہلا رن میں نے انیسویں گیند پر لیا۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ میں بہت توجہ اور احتیاط سے کھیل رہا تھا اور یہی چاہتا تھا کہ سیریز کی پہلی ہی اننگز میں یہ 10 ہزار رنز کا مائل سٹون مکمل کر لوں تاکہ بقیہ دورے کو میں پرسکون انداز میں کھیل سکوں۔‘
یونس خان کے نزدیک اس ہدف کی اہمیت ان کی ذات سے کہیں زیادہ ہے۔
ʹمیں ان دس ہزار رنز کو صرف اپنی ذات کے لیے اہم نہیں سمجھتا تھا بلکہ اس کی اہمیت پاکستان کے نقطہ نظر سے زیادہ تھی۔ میں جب ٹیسٹ کرکٹ میں زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین کی فہرست دیکھا کرتا تھا تو مجھے یہ احساس ہوتا تھا کہ ہمارے متعدد لیجنڈری بیٹسمین کو اس فہرست میں ہونا چاہیے تھا لیکن وہ نہیں تھے۔ لہذا جب میں نے دس ہزار رنز مکمل کیے تو میں بہت خوش تھا اور یہ احساس میری خوشی میں اضافہ کر رہا تھا کہ میں پہلا پاکستانی تھا جس نے یہ سنگ میل عبور کیا۔ʹ
یونس اس تاریخی لمحے کو یاد کرتے ہوئے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ باب وولمر کو نہیں بھولے اور اس سنگ میل کو انھوں نے اپنے خاندان اور وولمر مرحوم کے نام کیا تھا، جن سے ان کا جذباتی تعلق تھا۔
باب وولمر سنہ 2007 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں آئرلینڈ کے خلاف پاکستانی ٹیم کی اسی سبائنا پارک میں شکست کی اگلی صبح اپنے ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائے گئے تھے۔
یونس خان کے کریئر کا ایک اور یادگار لمحہ وہ تھا جب انھوں نے اکتوبر 2015 کے ابوظہبی ٹیسٹ میں انگلینڈ کے خلاف جاوید میانداد کے 8832 رنز ریکارڈ توڑا۔
وہ بتاتے ہیں کہ ʹدی گریٹ جاوید میانداد سے آگے نکلنا میرے لیے بہت بڑا اعزاز تھا۔ آپ میری اس اننگز کی بیٹنگ دیکھیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ میں سر ہلا رہا تھا کہ مجھے لمبی شاٹ نہیں کھیلنی کیونکہ میرے ذہن میں انضمام الحق کی وہ آخری ٹیسٹ اننگز موجود تھی جس میں وہ لمبی شاٹ کھیلنے گئے اور سٹمپ ہو گئے تھے۔‘
’اس اننگز سے قبل میں نے ایک کمرشل کیا تھا جس میں مجھے چھکا مار کر جاوید میانداد کے ریکارڈ سے آگے نکلتا ہوا دکھایا گیا تھا۔ ابوظہبی ٹیسٹ کی اس اننگز میں اچانک کیا ہوا کہ میں نے نہ چاہتے ہوئے معین علی کی گیند پر چھکا لگا دیا۔ بعض اوقات کئی چیزیں آپ کے کنٹرول میں ہوتی ہیں لیکن پھر بھی آپ اس کے برعکس قدم اٹھا لیتے ہیں۔ʹ
یونس خان کا بین الاقوامی کیریئر خاصا ہنگامہ خیز رہا اور کرکٹ بورڈ سے ان کے تعلقات بھی اتار چڑھاؤ کا شکار رہے۔
یونس کے مطابق ʹمیرے کریئر میں ایسے حالات بھی پیدا ہو گئے تھے جب میں ریٹائرمنٹ کے بارے میں سوچ رہا تھا لیکن پھر میں نے سوچا کہ حالات کا مقابلہ کرنا ہے اور میں نے اس وقت ارادہ کر لیا تھا کہ اب کچھ بھی ہو جائے میں میانداد کا پاکستان کے لیے سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز بنانے کا ریکارڈ ضرور توڑوں گا۔ʹ
یونس خان کو اب بھی لگتا ہے کہ اگر وہ چاہتے تو دس ہزار سے کہیں زیادہ رنز بنا سکتے تھے۔
ʹمیرے ساتھ جو حالات اور واقعات رہے، ان میں مجھے بھی شوق ہوتا تھا اور اپنے مزاج کے مطابق سامنے کھڑا ہو جاتا تھا۔ مجھے مزید دو، تین سال کھیل لینا چاہیے تھا، ان میں 12،13 ہزار رنز بنا سکتا تھا۔‘
یونس خان نے 2014 میں آسٹریلیا کے خلاف دبئی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنائیں۔ دوسری اننگز میں بنائی گئی 26ویں سنچری کے ساتھ وہ انضمام الحق کے پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ ٹیسٹ سنچریوں کے ریکارڈ سے آگے نکل گئے تھے۔ ٹیسٹ کیریئر کے اختتام تک 34 سنچریاں ان کے نام ہو چکی تھیں۔
ʹاپنے پہلے رن کو میں بہت زیادہ اہمیت دیتا ہوں جو میں نے اپنے ملک کے لیے بنایا۔ اگر اس کے بعد میں مزید نہ بھی کھیلتا تب بھی خوش رہتا کہ میں نے اپنے ملک کی نمائندگی کی۔ اس کے بعد کئی واقعات آ جاتے ہیں جن میں اولین ٹیسٹ میں سنچری، بحیثیت کپتان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنا اور کراچی ٹیسٹ میں ٹرپل سنچری شامل ہیں۔ʹ
ʹوراٹ کوہلی، کین ولیم سن، اسٹیو سمتھ اور جو روٹ اس وقت اس پوزیشن میں ہیں کہ دس ہزار رنز کا سنگ میل عبور کر سکتے ہیں، بلکہ اس سے بھی آگے جاسکتے ہیں۔‘
یونس کہتے ہیں کہ ’جب میں کھیل رہا تھا تو مجھے لگتا تھا کہ اظہر علی دس ہزار رنز مکمل کر سکتے ہیں۔ اسد شفیق ایک ایسے بلے باز ہیں جن سے مجھے بڑی توقعات تھیں لیکن وہ اس دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔ میری کوشش ہو گی کہ
غیر ملکی دورے سے واپس آ کر میں کراچی میں اسد شفیق کے ساتھ کام کروں تاکہ وہ دوبارہ دوڑ میں شامل ہو سکیں۔‘
انھوں نے مزید کہا ’بابر اعظم بھی ایک ایسے بیٹسمین ہیں جن میں رنز کی بھوک موجود ہے اور اگر انھوں نے اپنی فٹنس برقرار رکھی تو وہ 15 ہزار رنز بنانے والے واحد پاکستانی بیٹسمین بن سکتے ہیں۔

( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker