کالملکھارییاسر پیرزادہ

کینسر کا ”شرطیہ علاج “۔۔ذرا ہٹ کے/یاسر پیرزادہ

”یقینا خدا کے نزدیک بد ترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے ۔“(الانفال ، آیت 22)۔
کوئی تعویذ دھاگوں سے بیماریوں کے علاج کا دعوی کر رہا ہے ، کوئی گٹھلیوں کے سفوف سے دل کی شریانیں کھولنے کا مژدہ سنا رہا ہے، کوئی پھونک مار کر درد ختم کر نے کی گارنٹی دے رہا ہے اور کسی نے رکشے کے پیچھے اشتہار لٹکا رکھا ہے ’کینسر کا شرطیہ علاج ‘!لوگ بیچارے معصوم ہیں ، ان پڑھ ہیں ، مہنگا علاج کروانے کی استطاعت نہیں رکھتے سو کبھی پیر صاحب سے دم کرواتے ہیں اور کبھی کسی نیم حکیم سے جڑی بوٹیاں لے کر استعمال کرتے ہیں ، امید انہیں یہ دلائی جاتی ہے کہ کسی جراحی کی ضرورت پڑے گی اورنہ کیمو تھراپی کی ، بس یہ نادر دیسی ٹوٹکا استعمال کریں اور کینسر کے موذی مرض سے نجات پائیں ۔مسئلہ مگر یہ نہیں کہ اِس ملک میں جہالت کے خریدار موجود ہیں ، مسئلہ یہ ہے کہ اِس جہالت کو بڑھاوا دینے والے اصل میں پڑھے لکھے ہیں جن پر بھروسہ کرکے لوگ اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔اِن لوگو ں نے کینسر جیسے مرض کے بارے میں ایسی غلط معلومات پھیلا دی ہیں کہ لوگ اب ان پر ایمان کی حد تک یقین کرتے ہیں ، رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پو ری کر دی ہے جہاں ہر بیماری کا انٹ شنٹ علاج بغیر کسی حوالے اور تحقیق کے دستیاب ہے ۔
کینسر اصل میں ہمارے جنیاتی مادے میں تبدیلی کا نام ہے ، ہمارے جسم میں خلیے تقسیم ہوتے رہتے ہیں، اِن خلیوں کی تقسیم ایک خود کار نظام کے تحت ہر دم مانیٹر ہوتی ہے تاکہ یہ تقسیم درست طریقے سے ہوتی رہے ، کسی وجہ سے اگریہ خود کار نظام کام کرنا چھوڑ دے تو خلیے بہت تیزی سے تقسیم ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور انہیں کنٹرول کرنا ممکن نہیں رہتا ، اس صورتحال کو کینسر کہتے ہیں ،سوکینسر کے ضمن میں یہ بات ذہن میں بٹھا لیں کہ یہ وبائی مرض بالکل نہیں اورعمومی طور پر ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل نہیں ہوتا۔ہمیں دیسی ٹوٹکوں ، جڑی بوٹیوں اور قدرتی اشیا ءکے استعمال کے ذریعے شفا یاب ہونے کا بہت شوق ہے ، یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کیمو تھراپی کے بعد جب بال گرتے ہیں تو سچی بوٹی کے استعمال سے اسے روکا جا سکتا ہے ،نوٹ فرما لیں کہ کسی سائنسی تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہو سکا، قدرتی اشیا کا استعمال بعض صورتوں میں ڈاکٹری ادویات کے اثر کو کم بھی کر سکتا ہے لہذا یہ غلط فہمی بھی دور کر لیں کہ قدرتی طریقہ استعمال اپنانے میں ’کوئی حرج نہیں ۔‘اب ایک لطیفہ بھی سُن لیں، آٹھ ماہ پہلے ایک محترم کالم نگارنے انہی صفحات میں اپنے کالم میں لکھا کہ ”بین الاقوامی کینسر کے علاج کی دوائیں بنانے والے کبھی یہ نہیں بتاتے کہ کینسر محض وٹامن B-17کی کمی کا نا م ہے اور بین الاقوامی سطح پر ایسے ٹانک بنانا ممنوع ہیں جوB-17فراہم کرتے ہوں۔اللہ پاک نے بادام میںB-17کی اچھی مقدار رکھی ہے ۔اگر آپ روزانہ بادام کے 6,7دانے کھا لیں تو B-17کی کمی کی بیماری نہیں ہوتی ہے۔بادام کھائیے اور کینسر سے محفوظ رہیے۔“اِس کے علاوہ بھی آنجناب نے کینسر کے سیل ختم کرنے کے بہت سے ٹوٹکے بتائے ،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ’ وٹامنB-17نامی کوئی وٹامن موجود نہیں ،یہ ایک غلط اصطلاح ہے جوکہ Leatrileکے لیے استعمال کی جاتی ہے جو Amygdalinکی قسم ہے جو کڑوے بادام، خوبانی کے بیج اور میوہ جات میں پایا جانے والا ایک قدرتی جز ہے مگر ان قدرتی اجزا کے بارے میں ہونے والے دعوؤں کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں ۔‘
کینسر کے بارے میں سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ موبائل فون کا زیادہ استعمال کینسر کا موجب بنتا ہے ، اب تک کی تحقیق سے ایسی کوئی بات ثابت نہیں ہو سکی کہ موبائل فون سے خارج اور وصول ہونے والی شعائیں جنیاتی مادے میں تبدیلی کا باعث بنتی ہیں۔ایک مغالطہ یہ بھی ہے کہ مائیکرو ویو اوون کے استعمال سے کینسر ہو سکتا ہے کیونکہ یہ کھانے کو تابکار بناتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مائیکرو ویو گیما رے اور ایکس رے کا استعمال نہیں کرتے اس لیے خوراک کی تابکاری کا سوال نہیں اٹھتا اور نہ اس کی وجہ سے خوراک میںکیمیائی تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ہمیں اِس بات سے بھی ڈرایا جاتا ہے کہ پلاسٹک کی بوتلیں اور برتنوں سے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جبکہ سائنسی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ ان میں سے بعض کیمیائی مادے کھانے میں شامل ہو جاتے ہیں مگر ان کی مقدار انتہائی کم ہوتی ہے جو مضر صحت نہیں سمجھی جاتی ۔اسی طرح مصنوعی میٹھا استعمال کرنے سے بھی کینسر کا امکان بڑھنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا البتہ زیادہ میٹھا موٹاپے کا باعث بنتا ہے جس سے کینسر کا امکان بڑھ سکتا ہے ۔ایک غلط فہمی کاسمیٹکس کے حوالے سے بھی دور کر لیں کہ ڈیوڈرنٹ ، کریمیں ، ٹوتھ پیسٹ ، لوشن ، میک اپ وغیرہ میں موجود کیمیائی اجزا کینسر کا باعث بن سکتے ہیں ، نوٹ فرما لیں کہ سائنسی تحقیق ان مفروضوں کی تصدیق نہیں کرتی لیکن ہمارے ملک میں چونکہ جعلی مصنوعات بنانے پر کوئی روک ٹوک نہیں سو ان چیزوں کے چناؤ میں خیال رکھنا چاہیے کہ یہ بین الاقوامی میعار کے مطابق تیار کی گئی ہوں۔اسی طرح ذہنی دباؤیا منفی سوچ کا کینسر سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہو سکااور وائی فائی کی شعائیں بھی کینسر کا سبب نہیں بنتیں ۔آخری بات کینسر کے ضمن میں یہ جاننے کی ہے کہ یہ کوئی موروثی بیماری نہیں ،صرف 5-10%مریض موروثی کینسر کا شکار ہوتے ہیں جبکہ 90-95%لوگ ماحولیاتی عوامل کی وجہ سے کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں،مثلاً تمبا کو نوشی کینسر کے امکان میں اضافہ کرتی ہے،موٹاپا اِس کا باعث بن سکتا ہے ،صحت بخش غذا 20میں سے 1کینسر سے بچا سکتی ہے ،ایکس رے ،گیما رے کینسر کا موجب بن سکتی ہیں ،سورج سے خارج ہونے والی الٹرا وائلٹ تابکاری جلد کے کینسر کی بنیادی وجہ ہے ،شراب نوشی سے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ،جسمانی طور پر چست رہنے سے کینسر کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے ۔
یہ تمام باتیں سائنسی طور پر ثابت شدہ ہیں اور اِن کا علم مجھے جامعہ پنجاب کے قائم کردہ کینسر ریسرچ سینٹر کے ذریعے ہوا جسے چند ماہ پہلے متحرک اور مستعد وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد نے قائم کیا او ر ذاتی طور پر اِس میں دلچسپی لی ،کینسر بائیلوجسٹ ڈاکٹر نوشین زیدی اِس کی ڈائریکٹر ہیں جنہوں نے اِس شعبے میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کر رکھی ہے، کینسر کی تحقیق کے پراجیکٹس اس ادارے نے شروع رکھے ہیں ،ایک معلوماتی کتابچہ بھی شائع کیا ہے اسی سے مجھے کینسر کے متعلق مغالطوں کا علم ہوا۔ کینسر کی بہت سی قسمیں ایسی ہیں جن کا اگر بروقت علاج شروع ہو جائے تو مریض کی جان بچائی جا سکتی ہے مگر یہ باداموں ، کریلوں یا لیموں کے عرق ، گٹھلیوں کے سفوف ، تعویذ دھاگوں یا کسی پیر کی پھونکوں سے ممکن نہیں ۔خدا کے نیک بندے پہلے خانقاہوں میں ملتے تھے اب لیبارٹریوں میں ملتے ہیں ، یہ بندے دن رات تحقیق میں جتے رہتے ہیں تاکہ خلق خدا کو بیماریوں سے نجات دلائی جا سکے ، یہی وہ اصل صوفی ہیں جو بنی نوع انسان پر احسان کر رہے ہیں ، سو اگر آپ کو کینسر کے بارے میں کسی قسم کی مستند معلومات درکار ہوں تو اِن اصل صوفیوں سے استفادہ کریں، کسی رکشے کے پیچھے دیے گئے اشتہار یا ٹوٹکے کے استعمال سے اپنے کسی پیارے کی زندگی داؤ پر نہ لگائیں۔
”یقینا خدا کے نزدیک بد ترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے ۔“(الانفال ، آیت 22)۔
( گردو پیش کے لئے ارسال کیا گیاکالم )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker