زعیم ارشدکالملکھاری

زعیم ارشدکاکالم : ڈیلٹا وائر س سے لیس کرونا کا چوتھا وار

ابھی لوگ کورونا کی تیسری لہر کے جان لیوا حملے سے سنبھلے بھی نہ تھے کہ چوتھی لہر کی خبریں آنے لگیں، مشاہدے میں یہ آیا ہے کہ اب تک ہر آنے والی لہر جانے والی لہر سے مہلک اور خطرناک ہے۔ سو اس بار بھی ایسا ہی ہوا اور چوتھی لہر ڈیلٹا وائرس Delta Variant کی شکل میں نمودار ہوئی ہے اور تیزی سے دنیا بھر میں پھیل رہی ہے، اور اب تک قریب 106 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ یہ وائرس بھارت سے پھیلنا شروع ہوا اور تیزی سے دنیا بھر میں پھیل رہا ہے۔ یہ گز شتہ وائرس کی نسبت زیادہ مہلک اور جان لیوا ہے۔
یورپین ممالک نے کورونا کے گرتے ہوئے کیسز کے اعداد و شمار دیکھ کر آخر کار گذشتہ مہینے کرونا کی پابندیا ں اٹھا لی تھیں اور لوگوں کو عوامی مقامات پر ماسک پہننے، سماجی فاصلہ رکھنے یا کرفیو وغیرہ سے آزاد کردیا تھا، بلکہ امریکہ میں تو لوگوں کو سیاحت کے لئے سفر کرنے کی اجازت بھی دیدی تھی۔ مگر اچانک وارد ہونے والے Delta Variant نے یورپ و امریکہ کے لوگوں کی تمام خوشیوں پر پانی پھیر دیا۔ دنیا میں Delta Variant کی کئی اقسام آچکی ہیں، یورپین ممالک کے لوگ یہ سوچ رہے تھے کہ زندگی اب معمول پر آجائے گی ، مگر ایسا نہ ہوا بلکہ Delta Variant نے وہاں سب ہی کو حیران و پریشان کر دیا ہے، اس وائرس کی عمومی علامات بھی گذشتہ تمام کورونا وائرس کی علامات سے مختلف ہیں۔ ابتدائی طور پر اس میں نہ سانس لینے میں مشکل ہوتی ہے نہ جسم میں درد ہوتا ہے، بس گلہ خراب ہوتا ہے، سر میں درد ہوتا ہے یا ناک بہنے لگتی ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ Delta Variant پڑوسی ملک بھارت سے پھیلنا شروع ہوا ہے، اور اب پاکستان میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے ملک بھر میں کورونا متاثرین میں پچاس فیصد لوگ Delta Variant سے متاثر ہیں۔ صرف کراچی میں 35 کنفرم Delta Variant کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اسی طرح دیگر شہروں کے اعداد و شمار ہیں۔ کراچی میں کورونا کیسز کی شرح 14.58 فیصد ہے۔ جو نہایت خطرناک ہے۔ گذشتہ چوبیس گھنٹے کے اعداد و شمار کے مطابق۔ کل 2,327 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ، جن میں 31 اموات ہوئی ہیں، 956 مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔
پوری دنیا گذشتہ ڈیڑھ سال سے اس وباء کا شکار ہے، سب ہی اس جد و جہد میں مصروف ہیں کہ کس طرح اس وباء سے چھٹکارہ حاصل کیا جا ئے ، اور عوام الناس کو اس کے جان لیوا حملوں سے بچایا جا سکے۔
کیونکہ یہ وباء پلٹ پلٹ کر اور نئی نئی شکلیں double mutant’ بدل کر حملہ آور ہو رہی ہے، اور تاحال اس کا کوئی موثر توڑ یا علاج بھی موجود نہیں ہے تو اس صورتحال میں احتیاط ہی سب سے بہترین حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ موجودہ کورونا کی لہر اس وجہ سے بھی نہایت خطرناک اور جان لیوا ثابت ہو رہی ہے کہ بیشتر ویکسین بھی اس کے سامنے ناکارہ ہیں۔ Delta Variant کے شکار لوگوں کی تعداد دن بہ دن تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔ غریب ممالک سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک نہ صرف اس کا شکار ہیں بلکہ شدید جانی نقصان بھی اٹھا رہے ہیں۔ دنیا میں جہاں بھی کوئی بے احتیاطی کررہا ہوتا ہے یہ وائرس اسے فوراً ہی دوسری دنیا میں پہنچادیتا ہے۔ اس کی مثال یورپ و امریکہ میں اس کا بدترین پھیلاؤ اور بڑی تعداد میں انسانوں کا اس وائرس سے متاثر ہو جانا ہے۔ امریکہ برطانیہ اٹلی فرانس جیسے ترقی یافتہ ممالک اس کے آگے گھٹنے ٹیک چکے ہیں، اور اس وباء سے بچنے کیلئے بے بسی سے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔
حالات کی سنگینی کا انداہ ہم اپنے اردگرد کے حالات سے بھی لگا سکتے ہیں، ابھی چند دنوں ہی میں کئی ایسے لوگ جن کے پاس نا وسائل کی کمی تھی نہ پیسے کی مگر اس کا شکار ہوکر جہان فانی سے کوچ کرچکے ہیں۔ یہ مثال دینے کا مطلب صرف یہ ہے کہ وسائل اور پیسے سے عموماً انسان آسائش اور آسانی خرید لیتا ہے۔ یا غیرمعمولی توجہ حاصل کر ہی لیتا ہے، مگر لگتا ہے کہ اس وباء کے سامنے صرف اور صرف احتیاط کا سکہ چلتا ہے باقی جس نے بھی بے احتیاطی کی وہ گیا اپنی جان سے۔ یہاں تک کہ کئی نامور سیاستدان، صحافی، ڈاکٹرز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے بہت ہی قیمتی لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس یقینا تعلیم ، ہر طرح کے وسائل اور آسائش مہیا رہی ہوٍں گی مگر ضرور کہیں نہ کہیں کوئی بے احتیاطی ہوئی ہوگی جس کے نتیجے میں وہ اپنی سب سے قیمتی شہ سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اس ضمن میں خطرہ کا سب سے زیادہ شکار آبادی کا سب سے پسماندہ حصہ یعنی وہ لوگ ہیں جن کے پاس نہ وسائل ہیں نہ ہی دولت کے انبار وہ بسوں اور عوامی سواریوں میں دھکے کھانے پر مجبور ہیں ۔ ظاہر ہے کہ وہ تو کورونا کا آسان ترین شکار ہیں اور ان پر وائرس کا داؤ بہت ہی کاری ہوسکتا ہے، اس میں سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر لوگوں کے پاس تو قرنطینہ کیلئے مناسب علیحدہ جگہ بھی نہیں ہوگی ، لہذا ایک نشانہ بننے والا کئی لوگوں کی جان کو خطرہ بن سکتا ہے۔ پاکستان ایک غریب ملک ہے اس کی عوام بدترین غربت کا شکار ہیں ہسپتال سہولیات سے محروم ہیں طبی سہولیات کا فقدان ہے ایسے میں غریب آدمی کہاں جائے گا کیسے علاج کرائے گا۔ اللہ نہ کرے اگر یہ وباء یورپ و امریکہ کی طرح ہمارے ملک میں بھی بے قابو ہوگئی تو بہت ہی برے نتائج کی امید کی جاسکتی ہے۔
پاکستان میں دنیا کے دوسرے ممالک کی بہ نسبت حالات قدرے بہتر رہے ہیں ۔ اب جو یہ چوتھی لہر آئی ہے یہ پہلے تین سے زیادہ خطرناک اور جان لیوا ہے، اس میں کیسز کے اعداد و شمار انتہائی چونکا دینے والے اور پریشان کن ہیں۔ ساتھ ساتھ عمومی لوگوں کی عدم دلچسپی نے صورتحال کو سنگین اور تشویشناک بنا دیا ہے۔ احتیاطی تدابیر نہ ہونے کے برابر ہے، لوگوں کے وہی ہجوم ہیں، ماسک پہننے کو کوئی تیار نہیں ۔ ہاتھ ملانے، گلے ملنے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ، اس بات کو جانے بغیر کہ بہت ممکن ہے آپ جس سے محبت میں گلے مل رہے ہیں آپ اسکی جان کو بھی خطرہ میں ڈال رہے ہیں۔ بہت سے باکمال اور لاجواب لوگ محض کسی کی نادانی یا بے احتیاطی کا شکار ہوکر راہی عدم ہوئے ہیں، بہت ممکن ہے کسی پیارے نے ہاتھ ملایا ہو یا گلے ملا ہو جو ان کو کورونا سے متاثر کرنے کا سبب رہا ہو اور جان لیوا ثابت ہوا ہو۔
لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ معاملہ کی نزاکت کو سمجھا جائے اور حالات کا مقابلہ تدبر اور فراست سے کیا جائے نہ کہ سنی سنائی افواہوں اور گمراہ کن خبروں کی بنیاد پر زندگی گزاری جائے۔ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ کوئی بین الاقوامی سازش ہے تو محض اس بنیاد پر بے احتیاطی کرنا خودکشی کرنے کے مترادف ہوگا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ چاہے یہ کوئی قدرتی آفت ہے یا کوئی بین الاقوامی سازش ، اگر ہم اپنی بے احتیاطی کی وجہ سے اس کا شکار ہو رہے ہیں یا ہماری وجہ سے دوسرے اس کا شکار ہوکر تکلیف اٹھا رہے ہیں تب تو ہم سازشی عناصر کا آلہء کار بن رہے ہیں اور ان کی مدد کر رہے ہیں، جو اخلاقی اور سماجی طور پر ناپسندیدہ ہی گردانا جائے گا۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ خود بھی احتیاط کریں او ر اپنے حلقہ احباب کو بھی اس کی تلقین کریں۔
کورونا ویکسین لگوائیں، ماسک ضرور پہنیں، لوگوں سے کم سے کم چھ فٹ کا فاصلہ رکھیں، ہجوم والی جگہ جانے سے گریز کریں، حسب ضرورت ہاتھوں کو سینیٹائز کرتے رہیں یا دھوتے رہیں۔ جب گھر سے باہر ہوں تو اپنے چہرے اور آنکھوں کو چھونے سے گریز کریں۔ کھانستے یا چھینکے وقت اپنے بازو کو اپنے منہ کے سامنے رکھ لیں۔ اگر طبیعت ٹھیک نہ ہو تو گھر پر رہیں، اور اگر یہ علامات ظاہر ہوں جیسے سر میں درد، نزلہ، بخار، گلا خراب ہو یا ذایقہ و سونگھنے کی حس جاتی رہے تو کرونا کا ٹیسٹ ضرور کرالیں۔ ہماری چھوٹی سی احتیاط لوگوں کو جان لیوا وباء سے بچا سکتی ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker