دنیا بھر میں جتنی بھی مادی میکانکی ایجادات ہوئی ہیں ان میں ڈاکخانہ اور ریل گاڑی کو یہ انفرادی حیثیت حاصل ہے کہ یہ اپنے تمام تر مادی اثرات کے باوجود انسانوں سے نفسیاتی و افسانوی طور پر جڑے ہیں۔ ریل کا چھک چھک کی تیز آواز نکالتا، دھواں چھوڑتا کالا انجن اور بوگیوں کی دھڑدھڑاہٹ کے شور کے باوجود ریل کی سیٹی میں جو نغمگی اور پیار کی نرمی ہے وہ کسی اپنے پیارے کے انتظار میں بیٹھے انسان سے پوچھیں۔
بالکل اسی طرح ڈاک بابو کی خاکی وردی اور سائیکل کی گھنٹی بڑی دلفریب اور چاہت بھری اپنائیت لئے ہوتی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ڈاکخانے میں پڑھے لکھے لوگ کام کرتے تھے، اور لوگ ڈاکئے کو ڈاک بابو اور پوسٹ ماسٹر کو بابوجی کہا کرتے تھے معاشرے میں ان کا ایک خاص مقام ہوا کرتا تھا ، لوگ انہیں اپنے کنبے کے فرد کی طرح مانتے تھے تب ہی تو یہ ڈاک بابو اکثر لوگوں کو اور خاص کر گھر کی غیر تعلیم یافتہ خواتین کو ان کی چٹھیاں پڑھ پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ بدلا جو وقت گہری رفاقت بدل گئی کے مصداق آہستہ آہستہ ریل گاڑی اور ڈاک خانے کی وہ افسانوی حیثیت و اہمیت کم ہوتی چلی گئی اور آج بالکل ختم ہونے کو ہے۔ ہم اگر غور کریں تو بدلتے حالات سے ہم آہنگ نہ ہونے اور ماحول کے مطابق خود کو نہ ڈھالنے کی وجہ سے یہ دونوں محکمے تباہی کے دہانے تک پہنچ چکے ہیں۔ ورنہ ڈاک خانے کیا کچھ نہیں کیا کرتے تھے، پنشن کی فراہمی، منی آرڈر کی گھروں تک ترسیل، قومی بچت اور سرمایہ کاری کے مختلف منصوبے ، پوسٹل لائف انشورنس، تار گھر، اور جانے کیا کیا خطوط و ٹیلیگرام کی ترسیل کے ساتھ ساتھ اور بہت کچھ ڈاکخانہ سے کیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس دنیا بھر میں ریل گاڑی اب بلٹ ٹرین Bullet Train اور ڈاکخانہ Courier Service میں بدل چکے ہیں اور جھولیاں بھر بھر کر مال بنا رہے ہیں، جبکہ ہمارے ہاں آج تک ریل کی کوئی نئی پٹری تک نہیں ڈالی جا سکی ہے اور ڈاکخانہ جو پٹری سے اترا ہے تو اسے باقاعدہ بند کرنے کی تجاویز آرہی ہیں۔
اگر ہم ڈاکخانے کی تنزلی کے اسباب پر غور کریں تو پائیں کے وقت کے ساتھ ساتھ ڈاک خانوں میں اعلی پیشہ ور عملے کا فقدان ہوتا چلا گیا اور ان کی جگہ غیر پیشہ ور یا کم تعلیم یافتہ عملے نے جگہ لے لی۔ جس نے ڈاک خانے کی عمومی کارکردگی پر منفی اثر مرتب کیا جو ڈاک خانے کی ساکھ خراب کرنے کا سبب بنا، ساتھ ساتھ بااخلاق ، تہذیب یافتہ اور تربیت یافتہ عملے کی جگہ بد اخلاق، بد دیانت ، غیر تربیت یافتہ اور خالص سرکاری ملازمین والی ذہنیت کے حامل عملے نے لے لی ، کیونکہ ڈاک کے نظام کی روح ان کی امانت داری ہے مگر جب خیانت بڑھنے لگی اور لوگ اپنے مال و دولت سے ڈاک خانے کے عملے کے ہاتھوں محروم ہونے لگے، پنشنرز ڈاکخانوں میں دھکے کھانے لگے اور اچھے خاصے سینئر رٹائرڈ افسران چار چار درجہ کے ملازمین کے ہاتھوں زلت اٹھانے لگے تو آخر کار وہ افسانوی تصور مسخ ہوتے ہوتے ختم ہوگیا اور بالآخر غیر پیشہ ورانہ سرکاری ملازمین کے کرخت چہرے اور غیر مناسب روئے نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا اور ملک کے ایک نہایت قیمتی ، منافع بخش اور کارآمد ادارے کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا۔
اسی ملک میں جہاں ڈاک خانے آخری سانسیں لے رہے ہیں وہیں، غیر ملکی فرنچائز کوریئر سروسز دھڑلے سے کام کر رہے ہیں ، ترقی کر رہے اور مال بنا رہے ہیں جبکہ ہمارے صاحب سلامت خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ غیر ملکی کمپنیز ان کی ناک کے نیچے کھل کھیل رہے ہیں اور یہ ہیں کہ ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ نتیجہ تباہی کے سوا کیا ہوسکتا ہے۔
پاکستان ڈاک خانے کے پاس ایک مکمل نظام موجود ہے ، ان کے پاس اربوں روپے کی مالیت کی املاک موجود ہے، انفرا سٹرکچر موجود ہے ، وسائل بھی موجود ہیں ، اور عملہ بھی موجود ہے مگر عملہ ایمانداری اور لگن سے کام کرنے کے جذبے سے عاری ہے، خالص سرکاری ملازمین والی روش اپنائی ہوئی ہے، گاہک کی نہ کوئی عزت ہے نہ وقعت اور نہ ان کی کوئی پرواہ کرتا ہے لہذا لوگ اب ان سے کترانے لگے ہیں۔ نہ ان کے پاس کوئی بزنس جاری رہنے کا منصوبہ Business Continuity Plan (BCP) ہے اور اگر ہے تو محض دکھاوے کیلئے ہے، عملی طور پر یہ لوگ کام کرنے کی عادت ہی کھو چکے ہیں۔
ُُپاکستان پوسٹ آہستہ آہستہ اپنے دائرہ کار میں مسلسل کمی کر رہا ہے جیسے انہوں نے ملک بھر میں قومی بچت بینک کا نظام ختم کرنا شروع کردیا ہے اور افواج پاکستان کی پینشن تقسیم کرنے کا کام بھی اب کمرشل بینکس کو سونپا جا رہا ہے۔ قومی بچت بینک کی بندش اور پنشن کی تقسیم کے کام کو ختم کرنے کے نتیجہ میں پاکستان پوسٹ کی آمدنی میں زبردست کمی آئے گی کیونکہ یہ دونوں کام پاکستان پوسٹ ملک گیر سطح پر کیا کرتا تھا۔ قومی بچت بینک میں کروڑوں اربوں روپے کا کاروبار ہوتا تھا جس میں چھوٹی بڑی بہت ساری قومی بچت کی اسکیمز بھی ہوتی تھیں جن میں لوگ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کیا کرتے تھے، جو اس قومی ادارے کی آمدنی میں کلیدی کردار ادا کیا کرتا تھا۔ اب جب دائرہ کار گھٹے گا تو لا محالہ ملازمین کی تعداد اضافی ہوجائے گی جن کو ظاہر ہے ادارے سے نکالا جائے گا اور ملک میں بیروزگاروں کی ایک اور کھیپ تیار کردی جائے گی۔ بجائے اس کے کہ پاکستان پوسٹ دوسری دنیا کے ڈاکخانوں کی روش کو دیکھتے ہوئے اپنے کاروبار میں اضافہ کرتا صارف کو نئی نئی کاروباری سہولیات فراہم کرتا ، انہوں نے اپنا کاروبار ہی سمیٹنا شروع کردیا ہے، جو نہایت ہی حیرت ناک بات ہے۔ جس سے نہ صرف ادارے کو بلکہ ملک کو بھی اربوں روپے کا نقصان ہو گا۔
غرض یہ کہ پاکستان پوسٹ کمزور مالیاتی اور انتظامی نظم و ضبط کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہے اور اگر فوری توجہ نہ دی گئی تو یہ قیمتی ادارہ تباہ و برباد ہوجائے گا جو ملک کا بڑا نقصان ہوگا۔ پاکستان پوسٹ میں ہر قسم کی بدعنوانیاں دھڑلے سے جاری ہیں جن میں پنشن فراڈ، بینظیر انکم اسکیم میں فراڈ، موٹر وہیکل ٹیکس میں فراڈ، اور ایسے بہت سے بدعنوانی کے معاملات ہیں جو ادارے کی ساکھ کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں، حد تو یہ ہے کہ بل جمع کرنے والے کلرک تک فراڈ کرنے میں کمی نہیں آنے دے رہے جو ادارے کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو رہے ہیں۔
ارباب اختیار کو اس ضمن میں فوری اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ، ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ ادارے کی سلامتی کیلئے مکمل تحقیق و تیاری کی جائے اور ادارے کی بقاء اور ترقی کیلئے جدید خطوط پر تیاری کی جائے ۔ ساتھ ساتھ فوری اور مثبت فیصلے کئے جائیں تاکہ ایک بہترین قومی ادارہ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ واپس حاصل کرسکے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔ اس ضمن میں عملے کی پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت کو بھی خاص اہمیت دینا ہوگی، تاکہ ادارے کے ماحول کو بدلہ جا سکے اور جدید دور کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوا جاسکے۔
فیس بک کمینٹ

