زاہدہ حناکالملکھاری

نثارعزیز بٹ : سفر تمام ہوا (آخری حصہ)۔۔زاہدہ حنا

نثار عزیز بٹ پیدا ہوئیں تو پہلی جنگ عظیم کے گھاؤ قدرے مندمل ہو رہے تھے لیکن سیاست کے داؤ پیچ سے واقف افراد اور برصغیر میں آزادی کی مانگ کرنے والے اس تشویش میں مبتلا تھے کہ یورپ میں اپنے زخموں کو چاٹتا ہوا، جرمنی اپنی ذلت آمیز شکست پر چین سے نہیں بیٹھے گا۔ وہاں ایڈولف ہٹلرکی سربراہی میں ایک نئی سیاسی جماعت زوروشور سے ابھری تھی جو 1918 میں اختتام پذیر ہونے والی پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کی شکست کی بنا پر جرمن شہریوں کو لبھاتی تھی، ان کا خیال تھا ایک مرد آہن ہی انھیں شکست کی پستیوں سے نکال سکتا ہے۔
ہندوستان یورپ سے ہزاروں میل کی دوری پر تھا، اس کے باوجود جنگ کے اثرات اس پر بھی مرتب ہوئے تھے۔ ہندوستانی نوجوانوں کی بے روزگاری ان کے گھروں میں ناچتی ہوئی بھوک نے انھیں ایک بار پھر مجبور کیا کہ وہ گورا فوج میں بھرتی ہوجائیں اور برطانوی راج انھیں جس محاذ پر چاہے توپوں کا چارہ بنا دے۔
نثار عزیز بٹ شدت سے ہندوستان کی تقسیم کے خلاف تھیں اور انھوں نے کبھی بھی اپنے خیالات کو پوشیدہ نہیں رکھا۔ ان کا پہلا ناول ’’نگری نگری پھرا مسافر‘‘ جس کے بارے میں انھوں نے خود بتایا ہے کہ وہ انھوں نے 1955 میں لکھنا آغازکیا۔ اس ناول کی ہیروئن افگار ہے۔ اس کی رومانیت پسندی اور اس کی بیماری کے گرد گھومتا ہے۔ اس میں دوست ہیں جو اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان جا رہے ہیں، ٹی بی سینیٹوریم ہے اور ہر بات رومان کے سنہرے رنگ میں رنگی ہوئی ہے، جب کہ ان کا دوسرا ناول ’’ نے چراغ‘ نے گلے‘‘ برصغیرکی تقسیم اور افسانوں کے خون سے بھیگا ہوا ہے۔
اس ناول میں سفاکی سے ان ہلاکتوں کا ذکر کیا گیا ہے جو بے سبب تھیں۔ یہ بات قاری کو حیران کرتی ہے کہ وہ جن کے علاقے کو فسادات نے اس طرح برباد نہیں کیا تھا جس طرح یو پی، پنجاب ، بہار اور بنگال کو ، اس کے باوجود اس ناول میں قتل وغارت کے دہلا دینے والے مناظر ہیں۔ قرۃ العین جنھوں نے اپنی آنکھوں سے اپنا گھر، اس میں رکھی ہوئی کتابیں، اپنے والد اور والدہ کے لباس جلتے دیکھے تھے۔
نثار ان مناظرکو بلا کم وکاست بیان کرتی ہیں اور قرۃ العین ان مناظر سے نظریں چرا کر نکل جاتی ہیں۔ ان کے اس ناول میں مہاتما گاندھی، جناح صاحب اور سروجنی نائیڈو کے مکالمات ہیں۔ سر آغا خان بھی اس ناول کے صفحوں پر ہمیں نظر آتے ہیں۔ ان کے کردار زندگی اور موت کے چکر پر بحث کرتے ہیں۔ لکھتی ہیں کہ ’’ہندو مذہب کے تناسخ کے وسیلے سے موت کا ڈنک نکالا۔ مصری تہذیب نے موت کو ممیوں میں منجمد کرلیا۔ آج کا انسان وجودیت کی گرفت میں ہے۔ آج کا حساس انسان سب سے زیادہ احساس تشکر سے موت کا خیرمقدم کرتا ہے کہ زندگی کو اس سے زیادہ شدت سے پہلے کسی نے محسوس نہیں کیا۔‘‘ اور ناول کے آخری صفحوں میں سوال اٹھاتی ہیں کہ ’’ کیا عظمت کے سراب سے چھپن لُکن کھیلنا ہی انسان کی تقدیر ہے؟‘‘
1947 میں برصغیر کے شمالی علاقوں میں وہ قیامت ٹوٹی جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ ڈھنڈار مکان ہیں جن کا سامان لوٹ لیا گیا ہے اور ان مکانوں میں موت رقص کرتی ہے۔ لڑکیاں اور عورتیں مال غنیمت کے طور پر تقسیم کی جاچکی ہیں۔ وہ بھیانک مناظر ہیں جنھیں دیکھنے کے بعد ناول کا ایک کردار کیپٹن سعید ہے جو چند ہفتوں میں کئی صدیاں گزار چکا ہے۔ اس ناول کے آخری صفحوں پر وہ انسان کے اخلاقی زوال اور کمال گفتگو کرتی ہیں۔
’’ اہرمن اس کے سرہانے کھڑا چپکے چپکے ہنس رہا تھا، گویا کہہ رہا ہو کہ مجھے کون پسپا کرسکتا ہے۔ میرا نام ظلم ہے، میرا نام ناانصافی ہے، میرا نام لالچ ہے، میرا نام جبر ہے۔ تم بالکل ایمانداری سے سوچ کر بتاؤ کہ تمہارے دل کے کسی کونے میں میرا عمل دخل نہیں؟‘‘
یہ ناول نثار کی ان کیفیات کا غماز ہے جس سے وہ تقسیم کے دوران اور اس کے بعد گزریں۔ ایک ایماندار تخلیق کار کے طور پر انھوں نے اپنی ذہنی اور جذباتی شکست و ریخت کسی سے نہیں چھپائی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان کی مقتدر اشرافیہ کے لیے اس طرح قابل قبول نہیں ہوئیں جس طرح بعض دوسرے لکھنے والے۔ ان کا تیسرا ناول ’’کارروان وجود‘‘ میں کالج میں پڑھنے والیوں کے پرے ہیں۔
ان میں ہوسٹل میں رہنے اور اس کے مزے ہیں۔ برطانوی ٹیچریں ہیں۔ اس ناول میں بھی تقسیم کا آسیب انھیں نہیں چھوڑتا۔ ’’اس نے بے طرح ہندوستان کے نقشے کے نقوش سے اپنے آپ کو منسلک کرلیا تھا۔ مسلم گرلز کالج میں پورے کالج کی ناراضگی مول لے کر وہ اپنے موقف پر قائم رہی۔ جب تقسیم ہوگئی اور نہرو نے اعلان کیا کہ ان کا ملک انڈیا اور ہندوستان کہلائے گا تو سارہ کو سخت قلق ہوا۔ کاش وہ اپنا نام بھارت ورش یا کچھ اور رکھتے اور ہندوستان اور انڈیا کو مسلم اور برطانوی ادوار کا سمبل سمجھ کر تاریخ کے صفحات میں ڈوب جانے دیتے۔ تو سب ہی کچھ چھن گیا۔ ساری وسعت، ساری رنگا رنگی، سب تنوع، تاج محل، لال قلعہ، دلی اور لکھنو، ہمالیہ کی بیشتر چوٹیاں، شملہ، مسوری، نینی تال، بمبئی کے ساحل، ایلورا اجنتا کے غار، وہ سب کچھ سارہ کا تھا اور اس نے کبھی نہ دیکھا تھا، وہ سب کچھ چھن گیا۔‘‘
وہ چلی گئی ہیں۔ اب ہمارے درمیان ان کی تحریریں ہیں۔ یہ تحریریں ہمارا دل جلاتی ہیں اور تاریخ کے لاینحل سوال اٹھاتی ہیں۔ وہ ایک عام ناول نگار نہیں تھیں۔ انھیں پڑھنے اور سمجھنے کے لیے قلب و نظر کی وسعت چاہیے۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker