ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

زبان تعصب کا نام نہیں اظہار کا ذریعہ ہے۔۔ظہور دھریجہ

پاکستان مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کا گلدستہ ہے۔ اس میں پنجابی، سرائیکی، سندھی، بلوچی، پشتون و دیگر زبانیں بولنے والے لوگ آباد ہیں۔ پاکستان کی تمام زبانیں اور ثقافتیں قابل تعظیم اور قابل احترام ہیں کہ اُن سب کا خالق خداوند کریم ہے۔ زبان کسی تعصب یا نفرت کا نام نہیں بلکہ اظہار کا وسیلہ ہیں۔ اسی طرح پاکستان کی ثقافتیں بھی انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ پچھلے دنوں سندھی اور بلوچی کلچر ڈے منائے گئے اسی طرح ہر سال سرائیکی کلچر ڈے بھی منایا جاتا ہے جو کہ 6 مارچ کو ہوتا ہے مگر اس مرتبہ سرائیکی جماعتوں کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا کہ سرائیکی کلچر کی تقریبات یکم مارچ سے 31 مارچ تک پورے وسیب میں جاری رہیں گی۔ تقریبات کا یہ سلسلہ جاری ہے اسلام آباد پریس کلب کے اشتراک سے سرائیکی کلچر ڈے منایا گیا اس میں نمایاں کردار مس سادیہ کمال، شاہد دھریجہ اور یاور خان کا تھا۔ لاہور کے بعد فیصل آباد میں بھی گورنمنٹ کالج کے سٹوڈنٹس نے سرائیکی اجرکیں پہن کر مارچ پاسٹ کیا۔ اس میں 200 سے زائد طالبات نے بھی حصہ لیا۔ کراچی، ڈی آئی خان، ڈی جی خان، راجن پور، بہاولپور، رحیم یار خان میں بھی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ رحیم یار خان میں تقریب بار روم میں منعقد ہوئی اور ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان جمیل احمد جمیل بھی اس میں شریک ہوئے اور سرائیکی کلچر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سرائیکی کلچر انسان دوستی اور محبتوں کا پیغام ہے۔ سرائیکی رہنماؤں کا یہ بھی کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے وسیب سے انصاف نہیں کیا ، صوبے کا وعدہ پورا نہ کرکے وہ صادق اور امین نہیں رہے ۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ والوں نے دھوکہ کیا ان کا مینڈیٹ صوبے کے لئے تھا نہ کہ کرسی اور اقتدار کے لئے ۔ آج وہ اقتدار کے نشے میں بدمست ہو کر سب وعدے بھول چکے ہیں ۔وسیب کے لوگوں کو ان دھوکہ بازوں اور وعدہ خلافوں کے خلاف باہر نکلنا ہوگا کہ یہ چال بازی کرکے وسیب کے لوگوں کو ایک دوسرے سے لڑا رہے ہیں ،سب سول سیکرٹریٹ کسی بھی لحاظ سے صوبے کا متبادل نہیں لیکن ان حکمرانوں نے اس مسئلے پر بھی ملتان بہاول پور اور لودھراں کے لوگوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کی کوشش کی ہے ، وسیب کے لوگوں کو اپنے حقوق کیلئے باہر نکلنا ہوگا ، تخت لاہور اور تخت پشور کے مخالفوں سے پہلے وسیب میں رہنے والے کرسی و اقتدار کے پجاری ، دھوکہ پرست ، جاگیردار ، اور سرمایہ دار سیاستدانوں سے جان چھڑانا ہوگی ۔ اس موقع پر قرار دادیں منظور کی گئیں ۔جن کے مطابق سینٹ سے پاس ہونے والے سرائیکی صوبے کے بل کو آگے بڑھایا جائے ،پارلیمانی صوبہ کمیشن بنایا جائے ، ن لیگ کی طرف سے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے بل پر بحث کی جائے ۔ماروی میمن کے بل کو قومی اسمبلی میں نئے سرے سے زیر بحث لا کر پاکستانی زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دیا جائے ، سندھ کی طرح پورے ملک میں ابتدائی تعلیم ماں بولیوں میں دی جائے ۔ نہم اور دہم کا منظور شدہ نصاب کی کتب طبع کی جائیں ۔کالجوں اور سکولوں میں سرائیکی ٹیچرز کی اسامیاں دی جائیں۔ایک اورقرار داد کے ذریعے بھارتی جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ وسیب کے تمام لوگ پاک فوج کی جرأت و استقامت کو سلام پیش کرتے ہیں اور وقت آنے پر ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔ گزشتہ روز جھوک اترا ڈی جی خان میں ہونیوالی تقریب کے موقع پر سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ مقامی سیاستدان عوام کے مفاد کیلئے کبھی ایک نہیں ہوتے، البتہ جب ان کا ذاتی مسئلہ ہو تو ایک ہو جاتے ہیں۔ وسیب کے کروڑوں افراد کو اس بات کا دکھ ہے کہ گزشتہ دور حکومت میں دونوں جماعتیں سرائیکی صوبے کے مسئلے پر ایک نہ ہوئیںآج جب (ن) لیگ کے رہنماؤں کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنما بھی نیب کی زد میں آنے والے ہیں تو ان کو قربتیں یاد آگئیں۔ آج مریم نواز بھی بلاول بھٹو زرداری کو خراج تحسین پیش کر رہی ہیں، یہ وہی مریم نواز ہیں جو الیکشن کے دوران ووٹروں کو کہتی تھیں کہ عمران خان کو ووٹ نہ دینا کہ اس کو ووٹ دینے کا مطلب زرداری کو ووٹ دینا ہو گا، وہ یہ بھی کہتی تھیں کہ زرداری عمران خان بھائی بھائی ہیں، اسی طرح میاں شہباز شریف نے بحیثیت وزیر اعلیٰ مرکز کی حکومت کے خلاف پیپلز پارٹی کے خلاف جو طوفان اٹھایا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ آج میاں نوازشریف کہتے ہیں کہ ایک نئے چارٹر آف ڈیموکریسی کی ضرورت ہے لیکن سوال یہ ہے کہ میاں نوازشریف اور محترمہ بینظیر بھٹو کے دور میں جو میثاق جمہوریت ہوا تھا اُس کا کیا حشر ہوا؟ میاں نوازشریف کہتے ہیں کہ آمروں نے ووٹ کو عزت نہیں دی۔ سوال یہ ہے کہ آمروں کو لے کر آنے والے اور اُن کا ساتھ دینے والے کون ہیں؟ میاں نوازشریف اور بلاول بھٹو ملاقات کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں اُن کے مطابق میاں نوازشریف نے اس پرافسوس کا اظہار کیا کہ آئین کی دفعہ 62-63 ہم ختم نہیں کر سکے اور نیب کے کالے قوانین بھی جوں کے توں موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ قوانین کس نے بنائے؟ بلاول زرداری کا یہ کہنا کہ دل کے مریض کو جیل ان پر تشدد کے مترادف ہے۔ سوال اتنا ہے کہ بلاول بھٹو صرف ایک قیدی میاں نوازشریف کی بات کر رہے ہیں یا دل کے مریض تمام قیدیوں کی؟ آئین پاکستان کی نظر میں تمام قیدی ایک جیسے ہیں۔ وسیب کے لوگ وسیب کی محرومی اور صوبے کے مسئلے پر اقتدار پرست سیاستدانوں کے کردار کو قابل مذمت سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کروڑوں انسانوں کے صوبے کے مسئلے کو فراموش کیا ہوا ہے اور اپنی اغراض کے لئے یہ لوگ ایک پیج پر نظر آتے ہیں۔ وسیب کے کروڑوں لوگوں کا حکمرانوں سے مطالبہ ہے کہ وہ میاں نوازشریف کو قانون کے مطابق علاج کی مکمل سہولتیں دینے کے ساتھ اپنے وعدے کے مطابق نئے صوبے کے قیام کیلئے اقدامات کریں ورنہ قدرت کے نظام کے تحت مکافات عمل کو یاد رکھیں کہ وسیب کے لوگوں سے مظالم کی بنا پر میاں نوازشریف گرفت میں آسکتے ہیں تو قدرت موجودہ حکمرانوں سے بھی انتقام لے سکتی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker