ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

بلاول بھٹو کی وسیب آمد۔۔ظہوردھریجہ

بلاول بھٹو زرادری وسیب کے دورے پر ہیں۔ بہاولپور کے بعد ملتان آ رہے ہیں، اوچ شریف اور مظفر گڑھ بھی جائیں گے۔ اس لئے چند گزارشات بھٹو خاندان اور وسیب کے سیاسی ، سماجی اور ثقافتی حوالے سے کرنا ضروری ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری صاحب ! آپ جنوبی پنجاب تشریف لا رہے ہیں تو آپ کو ویلکم کرنا ضروری ہے۔ آپ اعلیٰ تعلیم یافتہ جواں سال سیاسی لیڈر ہیں۔ آپ کا اورآپ کے خاندان کا عظیم سیاسی پس منظر ہے۔ نوجوان قیادت سے اہل وطن کو بہت سی توقعات ہیں کہ آنے والا وقت نوجوانوں کا ہے۔ سیاست اور سیادت کی باگ ڈور نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہو گی ، نوجوانوں کو محض عمران خان کے نعرے کی صورت میں نہیں بلکہ حقیقی تبدیلی کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ پاکستان کے غریب عوام کیلئے سوچنا چاہئے ، دنیا کے غریبوں کے بارے میں سوچنا چاہئے ، پاکستان کی معاشی پسماندگی اور ترقی پذیر ممالک کی معاشی پسماندگی کے حوالے سے سوچنا چاہئے ، ظالمانہ نظام کے خاتمے کیلئے سوچنا چاہئے ، انتہا پسندی ، عدم برداشت اور دہشت گردی کے بارے میں سوچنا ہوگا، مذہبی فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے سوچنا ہوگا تاکہ مذہب جو انسانوں کو تہذیب سکھاتا ہے ، مضبوط ہو سکے۔ کرسی و اقتدار کی سیاست بہت ہو چکی ، اب ریاست کیلئے سوچنا ہوگا اور پاکستان کی بقاءکیلئے سوچنا ہوگا کہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔ سرائیکی خطہ سندھ کی طرح دریاﺅں کی سرزمین ہے اور صوفیاءکرام کا مسکن ہے۔ دونوں خطوں میں انسان دوستی اور محبت کا پیغام عام کرنے میں ہمارے صوفیاءکرام کا کردار بہت اہم ہے۔ جس طرح شاہ لطیف نے انسانوں سے محبت کا پیغام دیا ، اسی طرح خواجہ فرید نے بھی محبت کا درس دیا ہے۔ سندھ اور سرائیکی کی تہذیب ، ثقافت ایک ہے۔ جغرافیہ بھی ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ معمولی فرق کے ساتھ زبان بھی ایک ہی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ جو قومیں سندھ میں آباد ہیں ، وہی قومیں سرائیکی خطے میں بھی آباد ہیں ، جیسا کہ سندھ میں بھٹو ،وسیب میں بھٹہ ، سندھ میں دھاریجو ،یہاں دھریجہ، سندھ میں چانڈیو اور یہاںچانڈیہ۔ ایک ہی تہذیب و ثقافت ہونے کے ساتھ ساتھ سندھ جنوبی پنجاب کے لوگوں کی ایک دوسرے کے ساتھ رشتے داریاں بھی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے بر سر اقتدار ا?نے کے بعد سرائیکی زبان و ثقافت کی پروموشن کیلئے کام کیا اور اپنے دوست ریاض ہاشمی مرحوم کو مشورہ دیا کہ وہ تہذیبی و ثقافتی بنیادوں پر کام کریں ، جس کی بنائ پر بہاولپور صوبہ محاذ کے رہنما ریاض ہاشمی نے بہاولپور صوبہ محاذ کو سرائیکی صوبہ محاذ میں تبدیل کیا۔اب بلاول کو اپنے نانا کی لاج رکھنی ہو گی۔ہمارا مطالبہ ہے کہ بلاول بھٹو سرائیکی وسیب کو جنوبی پنجاب کے نام دینے کی بجائے وسیب کو اس کے ثقافتی نام سے پکاریں اور صوبہ کی حمایت کا اعلان کریں۔ بر سر اقتدار آنے کے بعد مرکز اور صوبے میں سرائیکی خطے کے سیاستدانوں کو مرکزی نمائندگی دیں اور ایوان وزیراعظم میں سرائیکی گلوکار وں کی محفلیں منعقد کر کے سرائیکی سے اپنی محبت کو امر کر دیں۔ محترمہ بھی ایسا کرتی تھی ، حاکم زرداری بھی سرائیکی تھے ، آصف زرداری بھی سرائیکی ہیں ، اس لحاظ کو بلاول کو بھی سرائیکی ہونا چاہئے۔ سب جانتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کیا گیا، عدالت میں بھی ذوالفقار علی بھٹو نے سرائیکی زبان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی میٹھی زبان سرائیکی میں یہ کہوں گا کہ ”درداں دی ماری دلڑی علیل اے “۔ اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو نے عدالت میں سرائیکی شاعر خواجہ فرید کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”کیا حال سنڑاواں دل دا ، کوئی محرم راز نہ ملدا۔“ یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ کی شہادت کے حوالے سے سب سے زیادہ شاعری سرائیکی میں ہوئی اور سب سے زیادہ کتابیں سرائیکی زبان میں شائع کی گئیں۔ ایک تاریخی واقعہ یہ بھی ہے کہ جب آمروں کی باقیات کی طرف سے آمرانہ پٹاری سے سانپ کھولے گئے اور محترمہ پر طرح طرح کے الزام لگائے گئے تو سرائیکی شاعر محسن نقوی کا نعرہ ہر زبان پر بلند ہوا ” یا اللہ ، یا رسول۔ بے نظیر بے قصور“۔یہ بھی حقیقت ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے انگریزی میں ایک نظم لکھی جس کی ایک لائن کا مفہوم یہ ہے کہ ”اس جیون کا کوئی فائدہ نہیں جو ملتان ، کیچ مکران ، ملک مہران اور شہر مردان سے دور ہو “اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محترمہ نے اس موقع پر بھی سرائیکی خطے کو نہیں بھلایا۔ پیپلز پارٹی کے بزرگ رہنما ملک الطاف کھوکھر کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو کو مزارات سے بہت عقیدت تھی اور وہ ملتان سے محبت کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ملتان کے مزارات پر گئے تو ذوالفقار علی بھٹو نے مزار پر لگی ہوئی نیلی ٹائلز پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ یہ رنگ صوفیاءکا ہے ، آنکھوں کو ٹھنڈک دیتا ہے اور یہ ہدایت کی نشانی ہے۔ آج ہمیں چینی ، انگریزی یا ہندوستانی زبانیں سیکھنے کی بجائے سب سے پہلے پاکستان میں بولی جانیوالی سندھی ، سرائیکی ، پنجابی ، بلوچی، پشتو، ہندکو ، پوٹھوہاری ، براہوی ، کشمیری و دیگر زبانوں کو بولنا اور سمجھنا چاہئے۔آج اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ محکوم و مظلوم طبقات کے درمیان سوشل کنٹریکٹ ہونا چاہئے۔جہاں پاکستان میں بسنے والی مظلوم و محکوم قوموں کو ان کی زبان اور ثقافت کے ساتھ ساتھ شناخت کا حق ملے اور انہیں ریاست میں دیگر قوموں کی طرح اختیار حاصل ہو اور عملی طور پر ان کو شریک اقتدار کیا جائے۔ میری ان گزارشات کو نہ تو تنقید سمجھا جائے اور نہ ہی خوشامد ، میری آواز سرائیکی قوم کی آواز ہے اور پاکستان میں بسنے والے آٹھ کروڑ سے زائد سرائیکیوں کی آواز ہے۔ بلاول ، آصف زرداری اور حاکم علی زرداری کے لخت جگر ہیں جو کہ سندھ کے سرائیکی ہیں۔ اس لحاظ سے بلاول بھٹو بھی سندھی بعد میں سرائیکی پہلے ہیں۔ سندھ وسیب کے تاریخی ، ثقافتی ، جغرافیائی ،معاشرتی ، لسانی تعلق کی سانجھ صدیوں سے موجود ہے۔ اسی اشتراک اور تعلق کو ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی نبھایا۔ آج بلاول آرہے ہیں تو میں سندھ سرائیکی سانجھ کے حوالے سے اپنی یادوں کو دوہرا رہا ہوں کہ بلاول بھٹو ان پر غور کریں اور ان یادوں کو وسیب کے دورے کا محور بنانے کے ساتھ ساتھ اپنی سیاست کا محور بھی بنائیں۔ پاکستان قوموں کا ملک ہے اور پاکستان میں بسنے والی قومیں ایک گلدستے کی مانند ہیں۔ آج کرسی ، اقتدار کے لئے نہیں بلکہ قوموں کے درمیان میثاق کی ضرورت ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker