2018 انتخاباتظہور احمد دھریجہکالملکھاری

آئندہ وزیراعظم کون: وسیب / ظہور دھریجہ

کون کامیاب اور کون ناکام ؟ وزیراعظم، مرکزی و صوبائی کابینہ ‘ وزرائے اعلیٰ تک کے حوالے سے انتخابی آماجگاہوں اور سیاسی تھڑوں پھر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے ۔ یہ بحث بعض اوقات تلخ نوائی کا روپ بھی دھار لیتی ہے اور کہیں نوبت ہاتھا پائی تک بھی چلی جاتی ہے ۔ پہلے پی پی اور ن لیگ تھیں اب اس میں تحریک انصاف بھی شامل ہو گئی ہے۔ سیاسی بحث و تکرار میں حصہ لینے والے عام ووٹر کو جماعتوں کے رہنما نہیں بتاتے کہ اب کی بار ہماری باری نہیں ، حالانکہ ان کو تمام باتوں کا علم ہوتا ہے ۔ سب کی باریاں لگ رہی ہیں لیکن اگر نہیں تو غریب کی نہیں اور شاید انقلاب کے بغیر کبھی آ بھی نہ سکے۔ الیکشن کا دن جوں جوں قریب آ رہا ہے ووٹروں کے جوش و خروش میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ بھٹو لورزکی نسل آخری دموں پر ہے ‘ البتہ ان میں سے قریب المرگ کچھ بزرگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں چاہے جو کچھ ہو جائے ووٹ بھٹو کو دیں گے ،دوسری طرف تبدیلی کے خواہاں نوجوانوں کا جنون آخری حدوں کو چھو رہا ہے مگر ان نوجوانوں میں اکثریت 14سے 18 سال کے درمیان ہے ۔ جس کے شناختی کارڈ اور ووٹ کے اندراج کا معاملہ ابھی باقی ہے ۔ البتہ ایک تبدیلی الیکشن مہم کے دوران دیکھنے میں آ رہی ہے کہ دھرنوں کے مقابلے میں آج تحریک انصاف کے جلسوں میں خواتین کا جنون اور گیتوں پر رقص دیکھنے کو نہیں مل رہا ۔ الیکشن کے جائزے سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ سرائیکی وسیب میں ن لیگ کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ جہاں تک مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کا معاملہ ہے تو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کیلئے جان حاضر ہے مگر ووٹ نشتہ۔ خواتین کا ذکر آیا ہے توبتاتا چلوں کہ آج بھی عورت کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتاہے ۔ ملتان میں ایک سیاسی رہنما نا اہل ہوئے تو انہوں نے اپنی بیگم کیلئے ن لیگ کا ٹکٹ لے لیا مگر نا اہل ہونیوالے امیدوار نے پوسٹر پر تصویر اپنی لگائی ہوئی ہے اور امیدوار کا نام لکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔ اس مرتبہ انتخابی قوانین میں یہ شق رکھی گئی کہ ہر جماعت کو امیدواروں کی مجموعی تعداد کے پانچ فیصد جنرل سیٹ کے ٹکٹ خواتین کو دینالازمی ہے ۔ اسی بناء پر جنرل الیکشن میں خواتین کی کچھ تعداد نظر آ رہی ہے لیکن یہ بھی میل شاونزم کی ایک شکل ہے کہ سیاسی جماعتوں نے خواتین امیدواروں کو صرف خانہ پوری کیلئے ٹکٹ دیئے جبکہ الیکٹ ایبل سیٹوں پر وہ خود براجمان ہیں ۔ ملتان سے ن لیگ کی جہاں بے نام و بے شکل امیدوار حصہ لے رہی ہیں وہاں ن لیگ کے ایک رہنما ہارون سلطان بخاری نے یہ فتویٰ بھی جاری فرمایا ہے کہ عورت کا الیکشن میں حصہ لینا جائز نہیں اور خواتین کو ووٹ دینا حرام ہے ۔ موصوف کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ کئی شادیاں کرچکے ہیں۔ اکیسویں صدی میں عورت کو جانور سے زیادہ اہمیت نہ دینے کے ساتھ ایک سوال یہ بھی ہے کہ نصف آبادی کو عضو معطل بنا کر کیا کوئی معاشرہ ترقی کر سکتا ہے؟ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے گزشتہ روز ملتان میں بہت بڑا انتخابی جلسہ کیا ۔ جلسے میں لائے گئے افراد کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد ایسی بھی تھی جو اپنے جنون سے جلسے میں آئی ۔ عمران خان نے جب سے وسیب کے لوگوں کیلئے الگ صوبے کیلئے تحریری معاہدہ دیا ہے ‘ وسیب میں ان کے جلسوں کی رونق میں اضافہ ہوا ہے۔ عمران خان اور ان کی جماعت کے دوسرے رہنماؤں نے ملتان کے جلسے میں جنوبی پنجاب صوبے کی بات کی البتہ ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ صوبے کے ساتھ ہماری وسیب کی شناخت بھی اہم ہے ۔ عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ وسیب میں تعلیم ‘ صحت اور روزگار کے مسائل ہیں اور یہ خطہ محرومیوں کا شکار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چالیس لاکھ آبادی کے شہر ملتان میں ایک بھی نیا ہسپتال نہیں بنایا گیا جبکہ ہم نے خیبرپختونخواہ میں 25 نئے ہسپتال بنائے ۔ عمران خان نے 25 نئے ہسپتال بنائے ہونگے لیکن جس طرح میاں شہباز شریف نے سرائیکی وسیب کو کوئی نیا ہسپتال نہیں دیا ، اسی طرح عمران خان نے بھی خیبرپختونخواہ کے سرائیکی اضلاع ٹانک و ڈیرہ اسماعیل خان میں کوئی نیا ہسپتال نہیں بنایا ، یہی وجہ ہے کہ اس علاقے کے مریض آج بھی نشتر اور ملتان کارڈیالوجی میں آتے ہیں ۔ عمران خان کو پنجاب کے سرائیکی اضلاع کیساتھ ساتھ خیبرپختونخواہ کے سرائیکی اضلاع کی محرومیوں کا ذکر کرنا چاہئے ۔ وسیب کے ساتھ دو نمبری اور دھوکہ نہیں ہونا چاہیے کہ وسیب کے لوگ پہلے بھی پی پی اور ن لیگ کے لالی پاپ کے ستم خوردہ ہیں ۔ تحریک انصاف کی طرف سے منعقد کئے گئے ملتان کے جلسے کی خاص بات یہ ہے کہ جلسے میں عمران خان وزیراعظم اور شاہ محمود قریشی وزیراعلیٰ پنجاب کے نعرے گونجتے رہے ۔ سوال یہ ہے کہ ایک طرف تحریک انصاف پنجاب میں نیا صوبہ بنانے کی بات کرتی ہے اور دوسری طرف پنجاب کی بادشاہت کا بھوت اس پر سوار ہے ‘ اس سے ان کے الگ صوبے کے وعدے کی نفی ہوتی ہے ۔ اس بات کا فیصلہ ہونا چاہئے کہ مخدوم شاہ محمود قریشی پنجاب کے وزیراعلیٰ بننا چاہتے ہیں یا سرائیکی صوبے کے۔ تھوڑا سا ذکر الیکشن کی موجودہ صورتحال کا بھی ہو جائے ، گزشتہ روز ن لیگ کے سربراہ میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان کے دماغ کی طرح ان کے جلسوں میں بھی کرسیاں خالی ہوتی ہیں ۔ لیکن یہی صورتحال میاں شہباز شریف کے روجھان کے جلسے میں دیکھنے میں آئی ۔ وہ آج ملتان میں جلسہ کرنے والے ہیں، کرسیاں اور دماغ خالی والے مناظر دیکھنے کو ملیں گے ۔ الیکشن کے آخری دنوں کی تلخ یادیں جہاں پشاور ‘ مستونگ کے خودکش دھماکے ہیں ‘ وہاں ملتان میں سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے جلسے میں اسلحہ اور حملہ آور کے فرار کے ساتھ ساتھ ان کے بیٹے سید علی موسیٰ گیلانی کی ریلی پر فائرنگ کے واقعات تشویشناک ہیں ۔ قبل اس کے کہ کوئی حادثہ یا خفیہ ہاتھ الیکشن کو سبوتاژ کرے ‘ نگرانوں کی طرف سے بروقت اقدامات ضروری ہیں ۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

1 thought on “آئندہ وزیراعظم کون: وسیب / ظہور دھریجہ”

  1. I precisely desired to thank you very much all over again. I do not know what I might have carried out without these strategies documented by you concerning such concern. It previously was a very frightful crisis for me personally, nevertheless encountering a new specialised form you handled the issue took me to cry with gladness. Now i am happy for your support and even hope you comprehend what a powerful job you happen to be undertaking training people all through a blog. I am sure you haven’t met all of us.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker