ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

رئیس کلیم چاچڑ …آنکھیں دیکھتی ہی رہ گئیں:وسیب/ظہور دھریجہ

میرے آبائی گاؤں دھریجہ نگر میں عید کے دوسرے دن ہر سال سرائیکی کانفرنس ہوتی ہے ۔ اس مرتبہ 14ویں سالانہ سرائیکی کانفرنس تھی ، کانفرنس کا اہتمام خطیب جامع مسجد دھریجہ نگر مولانا احسان اللہ دھریجہ نے کیا تھا۔ کانفرنس کے موقع پر وسیب کے ادیب ، شاعر، دانشور، سیاسی و سماجی رہنما سب آتے ہیں۔ خصوصاً خانپور کی دو شخصیات پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما میجر فرخ رضا خان اور ہم سب کے مشترکہ دوست رئیس محمد کلیم چاچڑ خصوصی طور پر شریک ہوتے ہیں۔ عید کے دوسرے دن ہمارے موضع کے نمبر دار جام طارق کانجو کی والدہ کا جنازہ تھا ، وہا ں مجھے ریلوے آفیسر چوہدری انجینئر عتیق ملے، میں نے انہیں کانفرنس میں آنے کی دعوت دی تو انہوں نے کہا کہ میجر فرخ رضا خان ، رئیس کلیم اور دوسرے دوست اکٹھے آئیں گے، میں نے میجر فرخ رضا خان کو کانفرنس میں شمولیت کی دعوت دی ۔ انہوں نے کہا کہ میں تو لاہور کے لئے روانہ ہو چکا ہوں ، میں نے رئیس کلیم کو فون کیا تو انہوں نے سرائیکی میں کہا ’’ سئیں سِر بھرڑیں امدے پیوں‘‘ جس کا مطلب ہے کہ سئیں سَر کے بل آ رہے ہیں ۔دوسرے دن کانفرنس تھی ، کانفرنس میںسب آئے مگر رئیس کلیم نہ آئے ، آنکھیں دیکھتی رہ گئیں۔ کانفرنس کے دوسرے روز دیر سے اٹھا ، بہت تھکاوٹ تھی ، دوپہر کو بہت سے احباب ملنے آئے، شام کو ارادہ کیا کہ جو دوست کانفرنس میں شریک ہوئے ان کا شکریہ ادا کروں اور جو نہیں آ سکے ان سے شکوہ کروں ، یہ سوچ ہی رہا تھا کہ میرے کزن حاجی شمس الدین دھریجہ جو میجر فرخ رضا خان کے ساتھ ہوتے ہیں ‘ کا فون آیا کہ رئیس کلیم چاچڑ حرکت قلب بند ہونے سے اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں ، یقین نہیں آ رہا تھا، میں نے دوبارہ پوچھا تو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ حاجی شمس نے سرائیکی میں کہا ’’ادا سئیں میں کوڑ نی مریندا ‘رئیس صاحب جھوک لڈا گن‘‘ یہ سن کر ذہن کی سکرین پر بیتے لمحات کی فلم چلنے لگی ، میرے جواں سال چھوٹے بھائی ایوب دھریجہ کی وفات پر رئیس کلیم سب سے زیادہ روئے اور کہا کہ دھریجہ صاحب کا نہیں میرا بھائی فوت ہوا ہے ۔رئیس محمد کلیم چاچڑ اور ان کے بھائی رئیس محمد سلیم چاچڑ ( اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان) سے صرف وسیبی تعلق نہ ہے بلکہ روح کا رشتہ ہے ۔دونوں بھائی اپنی دھرتی ، اپنی مٹی اور اپنے وسیب سے محبت کرنے والے ہیں دونوں بھائی عین جوانی میں ہمارے ساتھ سرائیکی تحریک میں شامل ہوئے اور تحریک کا دامے درمے ، قدمے سخنے ساتھ نبھایااور اس دوران کبھی ایک پل کے لئے بھی ہم ایک دوسرے سے الگ نہ ہوئے۔ نہ شہرت کا شوق، نہ کوئی طمع نہ لالچ، خلوص اور محبت کے ساتھ سرائیکی تحریک کا ساتھ دیا۔ الیکشن کے چند دن بعد ملاقات ہوئی تو رئیس کلیم بہت خوش تھے اور امید سے تھے کہ اب ہمارا صوبہ بنے گا انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیخ رشید احمد ریلوے کے وزیر بن رہے ہیں تو خانپور ریلوے جنکشن کا مسئلہ بھی حل ہوگا کہ شیخ رشید نے اپنی گزشتہ دور حکومت میں وعدہ کیا تھا کہ خانپور کو ریلوے کا حب بنائیں گے اور چاچڑاں ریلوے لائن کو بحال کر کے کوٹ مٹھن کے ساتھ ملائیں گے ۔ رئیس کلیم سے جب بھی ملاقات ہوتی تو زیادہ گفتگو سرائیکی وسیب کے مسائل کے حوالے سے کرتے۔ دوران گفتگو انہوں نے کہا کہ خانپور ضلع بحال ہونا چاہیے اور نشتر گھاٹ کا بقایا کام جلد مکمل ہو اور خاص طور پر گنے کے سیزن میں حمزہ شوگر مل تک بہت رش ہوتا ہے ، چنی گوٹھ چوک سے براستہ خان پور ، چوک بہادر پور تک سڑک کو ون وے ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں آپ کالم لکھیں ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر سی پیک منصوبے میں ہمارے علاقے کو کوئی صنعتی زون نہیں ملتا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔اس سلسلے میں نئے منتخب ہونے والے لوگوں کو اسمبلی میں آواز بلند کرنی چاہیے، خصوصاً تحریک انصاف جس میں سرائیکی وسیب سے کامیابی حاصل کی ہے ان کو وسیب کی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ رئیس محمد کلیم چاچڑ ہر سال دھریجہ نگ کی کانفرنس میں آتے اور شہر کی تقریبا ت میں بھی شریک ہوتے لیکن انہوں نے کبھی تقریر نہ کی ، کئی ایک مرتبہ میرے اصرار کے با وجود بھی انہوں نے سٹیج پر آنے سے گریز کیا لیکن وہ بہت زیادہ سیاسی ادراک رکھتے تھے ، سرائیکی صوبے کے قیام کیلئے ہر وقت فکر مند رہتے اور جب بھی ملاقات ہوتی انکا پہلا سوال سرائیکی صوبے کی پیش رفت کے بارے میں ہوتا، پیپلز پارٹی کا دور تھا اور وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سرائیکی صوبے کے متعلق اسمبلی میں بھر پور تقریر کی ، میں جب خان پور آیا تو رئیس کلیم نے مجھے وزیر اعظم کی تقریر کا کلپ اپنے موبائل پر دکھایااور اس کے ساتھ ایک اخبار کا تراشہ بھی انہوں نے کاٹ کر رکھا ہوا تھا جس میں صدر آصف زرداری نے سرائیکی بنک بنانے کا اعلان کیا تھا ، رئیس کلیم اس وقت بھی بہت پر امید تھے کہ اب ہمارا صوبہ بھی بنے گا ، ہمارا بنک بھی بنے گا مگر جب پیپلز پارٹی رخصت ہوئی تو رئیس کلیم نے مجھے فون کر کے کہا کہ کیا سرائیکی صوبہ اسی طرح ایک خواب رہے گا ؟ رئیس کلیم تو جواں سال تھا ابھی اس کی عمر ہی کچھ نہ تھی لیکن ہمارے سینکڑوں اکابرین سرائیکی صوبہ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی حسرت لے کر قبروں میں جا سوئے ، ابھی کل کی بات ہے معروف سرائیکی شاعر قیس فریدی ، معروف دانشورپرو فیسر شمیم عارف قریشی اور معروف موسیقار و سنگر استاد سجاد رسول اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ ان کی بھی تمنا یہ تھی کہ سرائیکی صوبے کا خواب ہماری زندگی میں شرمندہ تعبیر ہو ، مگر ایسا نہ ہو سکا رئیس کلیم بھی ایک ایسا ہی نوجوان تھا جسے اپنے سوال ’’ کیا سرائیکی صوبہ اسی طرح ایک خواب رہے گا ؟‘‘کا جواب نہ مل سکا اور سرائیکی صوبہ کی حسرت لے کر وہ قبر میں جا سوئے ۔ رئیس کلیم بنیادی طورپر زمیندار تھے ، مگر وہ بزنس میں آئے تو بہت نام کمایا،وہ نئے اور پرانے ٹریکٹروں کا کارو بار کرتے تھے اور ان کا شمار ملک کے نامور ٹریکٹر ڈیلروں میں ہوتا تھا ۔ انکے بڑے بھائی رئیس سلیم نے ریڈیو پاکستان پر خدمات سر انجام دیں اس کے ساتھ چین میں انہوں نے چائنہ ریڈیو کی اردو سروس کے لئے بہت عرصہ کام کیااور تھوڑا عرصہ پہلے وہ اپنے چھوٹے بھائی رئیس کلیم کے اصرار پر چین سے واپس آئے۔وہ کارو بار میں ان کا ہاتھ بٹا سکیں ۔ رئیس سلیم اور ان کے چھوٹے بھائی رئیس ندیم چاچڑ غم سے نڈھال تھے ، رئیس سلیم بار بار یہی کہہ رہے تھے کہ کلیم کیا تو نے مجھے اس لئے چین سے بلایا تھا کہ میں اب یہاں نہیں رہوں گا ۔ رئیس کلیم کی عمر 47سال تھی ، انکے دو بیٹے ابھی بچے ہیں اور پڑھ رہے ہیں ، رئیس کلیم کے والد رئیس محمد حسن چاچڑ بھی تقریباً 50سال کی عمر میں فوت ہوئے ، رئیس کلیم کے دادا رئیس خمیسہ چاچڑ جن کے نام سے ان کا گاؤں موسوم ہے ،بہت اچھے انسان تھے ۔ پورا وسیب اس گھرانے کے اخلاق کی تعریف کرتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ انکے نماز جنازہ میں ہزاروں افراد شریک تھے اور کوئی ایسی آنکھ نہ تھی جو اشک بار نہ ہو۔وہ لوگ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں جو اپنی دھرتی ، اپنی مٹی اور اپنے وسیب سے محبت کرتے ہیں اور انسانوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں، رئیس کلیم بھی زندہ رہیں گے اپنی خوبصورت یادوں کے ساتھ۔ دعا ہے کہ رب العزت ان کی مغفرت فرمائے اور تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker