ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

سردار عثمان بزدار کا قصور کیا ہے ؟۔۔ظہور دھریجہ

وفاقی وزیر ہاؤسنگ چوہدری طارق بشیر چیمہ اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے جہانگیر ترین سے ملاقات کے دوران کہا کہ گورنر پنجاب چوہدری سرور کو کنٹرول کریں ، وہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو نہیں چلنے دے رہے ۔ ان کا کہناہے کہ ہم عثمان بزدار کے ساتھ ہیں لیکن انہیں چلنے نہیں دیا جا رہا ۔ یہ ملاقات چوہدری پرویز الٰہی کی رہائش گاہ پر ہوئی اور ملاقات کا ایجنڈا پنجاب میں سینٹ کی دو سیٹوں پر الیکشن کے حوالے سے حکمت عملی تیار کرنا تھی ۔ سوال یہ ہے کہ اس ملاقات کی ویڈیو کس طرح لیک ہو ئی ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ اتحادیوں کے درمیان معاملات اتحاد والے نہیں ۔ چوہدری پرویز الٰہی نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے معاملات کا غصہ بیلٹ پیپر کے استعمال کے موقع پر سامنے آتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ عثمان بزدار کو کیوں نہیں چلنے دیا جا رہا ، ان کا جرم اور ان کا قصور کیا ہے ؟ سردار عثمان بزدار کاتعلق سرائیکی وسیب سے ہے ۔ صرف عثمان بزدار ہی نہیں ، عمران خان کا تعلق سرائیکی وسیب کے علاقے میانوالی سے ہے۔ باوجود اس کے کہ سردار عثمان بزدار خود کو سرائیکی نہیں بلوچ کہتے ہیں اور اسی طرح عمران خان کا بھی جھکاؤ پشتونوں کی طرف ہے۔ اس کے باوجود محض اس بناء پر قبول نہ کرنا کہ وہ محروم خطے سے مینڈیٹ لے کر آئے یا دونوں کا سکنی تعلق سرائیکی وسیب سے ہے، افسوسناک ہے۔ ہم عمران خان یا عثمان بزدار کے وکیل نہیں مگر تھوڑا حوصلے اور برداشت سے کام لینا چاہئے اور بزدار صاحب کو ان کے مینڈیٹ کے مطابق کام کرنے دیناچاہئے ۔ حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو اصل آویزش چوہدری پرویز الٰہی اور گورنر چوہدری سرور کے درمیان ہے اور یہ آویزش شخصی نہیں بلکہ برادری ازم کی بنیاد پر ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ چوہدری سرور اورچوہدری پرویز الٰہی الگ الگ برادریوں کے نمائندہ ہیں۔ یہ آویزش آج سے نہیں بلکہ صدیوں سے چلی آ رہی ہے ۔ ہم نے جنرل ضیاء الحق کے دور کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ، جب جنرل صاحب نے ایک برادری کی اسی طرح سرپرستی کی جس طرح مرحوم ایوب خان نے دوسری برادری کی ۔ اسی برادری ازم کے نتیجے میں رحیم یارخان میں ضیاء الحق کے دور میں ایک برادری کو اہمیت حاصل ہوئی اور جنرل صاحب جو کہ ثقافتی حوالے سے سرائیکی صوبے کے بد ترین مخالف تھے اور انہوں نے صوبے کا راستہ روکنے کیلئے آٹھویں ترمیم کے موقع پر نئے صوبے کیلئے یہ شق بھی شامل کرائی کہ نئے صوبے کیلئے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظوری بھی ضروری ہے ، انہی ضیاء الحق نے ضلع رحیم یارخان میں حلقہ بندیاں خالص لسانی بنیادوں پر بنوائیں اور خانپور قومی اسمبلی کا حلقہ پانچ تحصیلوں یزمان ، لیاقت پور ، خانپور، رحیم یارخان اور صادق آباد کے چکوک تک پھیل گیا ۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں ہونیوالے غلط فیصلوں کی سزا پوری قوم بھگت رہی ہے ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ سردار عثمان بزدار طاقت ور وزیراعلیٰ نہیں ہیں ‘ پہلے دن سے علیم خان ، چوہدری سرور اور چوہدری پرویز الٰہی پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی کہ یہ پنجاب کے معاملات کی نگرانی کریں گے اور اختیاراتی فیصلے ان کی مشاورت سے ہونگے۔ جب پہلے دن سے ہی وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے ہاتھ باندھ دیئے گئے ، ان کو محتاج محض بنا دیا گیا تو پھر یہ توقع کیونکر کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ کر پائیں گے ۔ کہنے کو وزیراعظم عمران خان نے تمام لابیوں کے پریشر کو نظر انداز کر کے عثمان بزدار کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا آج بھی ان کا ایک طویل بیان عثمان بزدار کے حق میں شائع ہوا ہے ،جس میں انہوں نے ایک بار پھر پنجاب کے وزیراعلیٰ سردار عثمان خان بزدار کی تعریف کی اور انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح میں کرکٹ کے کھلاڑی چنتا تھا اور وہ وسیم اکرم اور انضمام الحق بن جاتے تھے ، عثمان بزدار بھی وسیم اکرم اور انضمام الحق کی طرح اچھا انتخاب ثابت ہونگے۔ لیکن معذرت کے ساتھ عمران خان صاحب! سیاست اور کھیل کے میدان الگ الگ ہیں ، آپ کو سیاسی فیصلے کرنے ہونگے اور یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ اصل مسئلہ عثمان بزدار سے زیادہ پنجاب کا حجم ہے ۔ عمران خان نے پناہ گاہ کے سنگ بنیاد کی تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے عثمان بزدار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ پنجاب میں بھی وسیم اکرم نکلے گا ، میں اس نیک کام کے آغاز پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ عثمان بزدار کو عام آدمی کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے۔ انکے علاقے میں اڑھائی لاکھ افراد کیلئے ہسپتال نہیں اور پانی بھی موجود نہیں ۔ انہیں علم ہے کہ عام آدمی کو کیا مشکل آتی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ جب میں نے عثمان بزدار کو بطور وزیراعلیٰ پنجاب انتخاب کیا تو پارٹی میں سے بھی کچھ لوگوں نے خدشات ظاہر کئے ۔ لوگ چاہتے ہیں کہ یہاں بادشاہ سلامت ہوں جو محلوں میں رہے ۔ عمران خان صاحب! آپ نے سرائیکی علاقے کے لئے پسماندہ کا لفظ استعمال کیا ۔ حالانکہ سرائیکی خطہ کسی بھی لحاظ سے پسماندہ نہیں ہے بلکہ یہ پس افتادہ ہے، پس افتادہ کا مطلب ہے ’’ وہ جسے اٹھا کر دور پھینک دیا گیا ہو‘‘ ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ خطہ سات دریاؤں کی سرزمین ہے اور دنیا کا زرخیز ترین خطہ ہے اور یہ خطہ زرخیزی کے ساتھ ساتھ معدنیات کی دولت سے بھی مالا مال ہے۔ یہی اس خطے کا جرم ہے اور اسی بناء پر قبل از تاریخ سے لیکر قیام پاکستان تک ہر حملہ آور اسے زیرِ قبضہ رکھنے کی کوشش کرتا رہا ۔ قیام پاکستان کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ سرائیکی وسیب پر رنجیت سنگھ و انگریز سامراج کے قبضے کو ختم کر کے اس خطے کے لوگوں کو وہی اختیار اور وہی شناخت دی جائے جو وفاق پاکستان میں دوسرے صوبوں کو حاصل ہے ۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا اصل مسئلہ عثمان بزدار نہیں بلکہ پنجاب اور اس کا حجم ہے ۔60 فیصد آبادی کا ایک صوبہ اور 40 فیصد آبادی کے 3 صوبے ، یہ وفاق پاکستا ن کے ساتھ بہت بڑا مذاق ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بلا تاخیر سرائیکی صوبے کا قیام عمل میں لا کر تحریک انصاف اپنے منشور کو عملی جامہ پہنائے کہ سرائیکی صوبہ وسیب کے کروڑوں لوگوں کی ہی نہیں پاکستان کی ضرورت بھی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker