ہمارے معاشرے میں میڈیکل کالج میں داخلے سے پہلے اسکولوں اور کالجوں میں سوائے اونچے یا اونچے متوسط طبقے کے نجی تعلیمی اداروں کے مخلوط تعلیم کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بچے اور بچیاں ایک دوسرے کے لیے خلائی مخلوق کی طرح ہوتے ہیں۔ یہ ایک دوسرے کی جانب کشش رکھتے ہوئے بھی معاشرتی اور مذہبی مجبوریوں کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے یا کھل کر ملنے جلنے سے کتراتے ہیں۔ ہمارے ہاں جنس مخالف سے تعلق رکھنا ایک گناہ تصور کیا جاتا ہے اور اسی لیے اس تعلق کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔ تعلقات کو خفیہ رکھ کر یہاں کسی بھی حد تک جایا جا سکتا ہے۔
غریب اور متوسط طبقے کے طلباء و طالبات جب میڈیکل کالج میں داخل ہوتے ہیں تو گویا وہ ایک نئی دنیا میں قدم رکھتے ہیں۔ انگلش میڈیم یا برگر میڈیکل اسٹوڈنٹس کے لیے یہ دنیا نئی نہیں ہوتی اور یہ نوجوان لڑکے لڑکیاں جلد ہی ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں۔ دوسری طرف کے میڈیکل طلباء و طالبات اگرچہ اکثریت میں ہوتے ہیں لیکن یہ سب دیکھ کر احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ طبقہ قوت اظہار کی کمی کی وجہ سے آپس میں پسندیدگی کا تعلق ہونے کے باوجود شدید جنسی مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ کئی طلباء و طالبات پانچ سال تک ایک دوسرے سے محبت کے باوجود اس کا اظہار نہیں کر پاتے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے الگ ہو کر اپنی نجی زندگیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ یہ افراد عمر بھر میڈیکل کالج کی محبت سے نکل نہیں پاتے اور مستقل پچھتاوے کا شکار رہتے ہیں۔
کچھ غریب طلباء و طالبات اپنی اہمیت ثابت کرنے کے لیے تعلیمی میدان میں بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ غیرصحت مندانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگ شدید اندرونی اور بیرونی تضادات کے باعث ذہنی الجھنوں اور نفسیاتی امراض کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔
میڈیکل کالج سے نکل کر طلباء و طالبات ہسپتالوں کی عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں۔ اس زندگی کا پہلا قدم ہاؤس جاب ہوتا ہے۔ اس نئے ماحول میں کچھ غریب اور متوسط طبقے کے طلباء و طالبات جو میڈیکل کالج میں خاموش اور گمنام زندگی گزارتے تھے، اچانک ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔ یہاں معاشرہ ان کو ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے اور ملنے جلنے کی مکمل آزادی دیتا ہے۔ کچھ نوجوان لڑکیاں اور لڑکے عملی زندگی میں کامیاب ہونے یعنی معاشی خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے شادی کر لیتے ہیں کیونکہ اس طرح وہ دونوں مل کر پیسے کما سکتے ہیں۔
2000 میں جب میں ہاؤس جاب کے لیے بہاول وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور میں ملازم ہوا تو مجھے میری بری تعلیمی کارکردگی کی وجہ سے بچوں کے ایسے وارڈ میں کام کرنے کی جگہ ملی جہاں "ذہین” طلباء عموماً جانے سے کتراتے تھے۔وہاں مجھے اپنی ایک سینیئر خاتون ہاؤس آفیسر سے یکطرفہ محبت ہو گئی۔ اس ناکام محبت کا انجام محترمہ کی شادی کی صورت میں ہوا اگرچہ اس کے بعد بھی ایک عرصے تک میں ان سے رابطے میں رہنے کی کوشش کرتا رہا۔ اس ناکام محبت کے بعد ہاؤس جاب کے دوران مجھے خوبصورت نرسوں اور ڈاکٹروں میں کبھی کوئی کشش محسوس نہیں ہوئی اور میں نے کسی بھی طرح کے تعلقات کے بغیر شدید ذہنی دباؤ میں اپنی ہاؤس جاب مکمل کی۔
ہاؤس جاب کے دوران سینیئر ڈاکٹر ہم سے سوال کرتے تھے کہ آپ نے اپنی ہاؤس جاب پکی کی ہے یا نہیں؟ اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ کیا آپ نے کسی نرس یا ڈاکٹر کے ساتھ عین غین کیا ہے یا نہیں۔ اس کارنامے کے بغیر ہاؤس جاب کچی تصور کی جاتی تھی۔
ایسے مرد ہاؤس افسر جو اپنے ساتھ کام کرنے والی خواتین پر جال پھینکتے تھے، شکاری کہلاتے تھے۔ ان شکاریوں کا نشانہ عام طور پر نرسنگ کی معصوم غریب طالبات ہوتی تھیں۔ یہ طالبات کسی ڈاکٹر کی توجہ ملتے ہی مستقبل کے سنہری خوابوں میں کھو جاتی تھیں۔ لیکن عام طور پر مرد ڈاکٹر اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد ان سے تعلقات ختم کر لیتے اور کسی دوسرے شکار کی تلاش میں نکل جاتے۔ نرسنگ کی طالبات کے علاوہ کچھ کم خوش شکل یا کسی جسمانی کمزوری یا معذوری کا شکار لیڈی ڈاکٹرز بھی ان شکاریوں کا شکار ہوا کرتیں۔ ان سرگرمیوں کا سب سے خوفناک پہلو یہ ہوتا تھا کہ بچوں کے ساتھ لواحقین کے طور پر آنے والی مائیں یا خالائیں وغیرہ بھی ان کا نشانہ بنتیں۔ یہ ڈاکٹر کسی پر بھی ڈورے ڈال سکتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ خواتین جو ایسے تعلقات استوار نہیں کرنا چاہتی تھیں، شدید جنسی ہراسانی کا شکار ہو جاتیں ۔اکثر یہ خواتین بدنامی کے ڈر سے خاموش رہتیں کیونکہ ایسے واقعات میں انہی کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا۔ اسے آج کل وکٹم بلیمنگ کہا جاتا ہے۔
ہاؤس جاب کے دوران ایک معذور لیڈی ڈاکٹر مجھ سے منتیں کرتی رہیں کہ میں اپنے دوست سے کہوں کہ وہ ان سے شادی کر لے۔ وہ دوست ان سے تعلقات کا فائدہ اٹھانے کے بعد ان سے تعلق توڑ چکا تھا۔ پندرہ سولہ سال کے بعد وہی خاتون مجھے لاہور میں ملیں تو خوفزدہ ہو گئیں کہ کہیں میں ان کا ماضی کسی کو بتا نہ دوں۔
میری ہاؤس جاب کے آخری دن ہاؤس آفیسر لاج سے نکلتے ہوئے ایک خاتون میرے رکشے کے پیچھے دوڑنے لگیں۔ میرے ایک کولیگ ہاؤس افسر کے ان سے تعلقات تھے۔ میں نے رکشہ رکوایا اور باہر نکلا تو وہ میرے قدموں میں گر گئیں اور مجھ سے میرے دوست کے گھر کا پتا مانگنے لگیں۔ میں نے انہیں اٹھایا اور سمجھایا کہ اس شخص کی شادی ہو چکی ہے۔ وہ بلک بلک کر رونے لگیں اور مجھے انہیں اسی حالت میں چھوڑ کر جانا پڑا کیونکہ مجھے دیر ہو رہی تھی۔
پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کے دوران بھی میں نے جنسی ہراسانی کے واقعات دیکھے۔نشتر ہسپتال کے وارڈ نمبر بیس میں ایک مولوی ڈاکٹر اس حوالے سے مشہور تھا۔ ایک بار اس نے کسی ڈاکٹر جوڑے کو قابل اعتراض حالت میں دیکھا تو انہیں بلیک میل کرنے لگا۔ جب خاتون نے اسے لفٹ نہیں کرائی تو اس نے انہیں وارڈ میں بدنام کر دیا۔ اسی وارڈ میں ایک مرد ڈاکٹر کا نشانہ خواتین لواحقین ہوا کرتی تھیں۔ ایک دفعہ اس ڈاکٹر نے کہنی مار کر مجھے ایک مریض بچے کی ماں کی طرف متوجہ کیا جو اپنے بچے کو اپنا دودھ پلا رہی تھی۔
آغاخان ہسپتال اور شوکت خانم ہسپتال میں جنسی ہراسانی پر پالیسی بہت سخت تھی اس لیے میں نے وہاں یہ واقعات زیادہ نہیں دیکھے لیکن ایک بار شوکت خانم ہسپتال سے میرے شعبے کے ایک ڈاکٹر کو خواتین کو تنگ کرنے پر نوکری سے نکال دیا گیا تھا۔
مشرف دور کے بعد سے کام کرنے والی جگہوں پر جنسی ہراسانی پر قوانین سخت ہیں لیکن کچھ خواتین ان کا ناجائز فائدہ بھی اٹھاتی ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ معاشرے میں جنسی ہراسانی دن بدن بڑھ رہی ہے۔ اس کا مستقل حل یہ ہے کہ خواتین کو ایک جنس نہیں بلکہ انسان سمجھا جائے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں معاشی طاقت کی کمی اور مردانہ جبر کی وجہ سے عالمی سطح پر خواتین کمزور ہیں اور ایسے واقعات کا شکار ہوتی رہتی ہیں۔ ایک اشتراکی معاشرے میں، جس میں مرد اور عورت کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے، مردانہ بالادستی کا خاتمہ ہو جائے گا اور جنسی ہراسانی کے واقعات بھی بتدریج ختم ہو جائیں گے۔ موجودہ بین الاقوامی نظام میں ایسا ممکن نہیں ہے۔

