انگلش کرکٹرز شرمندگی مٹانے کیلئے ایک نئے دعوے کے ساتھ سامنے آئے بھی تو حساب کتاب رکھنے والوں نے انکی چالاکی پکڑ لی.کورونا وائرس کی وجہ سے انگلش کرکٹ بورڈ و یونین کو معاوضوں کی کٹوتی سے انکار کے 5 دن بعد ہونے والی تنقید اور ناپسندیدگی کا وہ سامنا نہ کرسکے اور کھلاڑیوں نے اپنی تنخواہ میں سے 5 لاکھ پاؤنڈز بورڈ کو کرکٹ ریلیف فنڈز میں دینے کا اعلان کردیا.
ٹیسٹ کپتان جوئے روٹ، ورلڈ کپ ونر کپتان اوئن مورگن نے دعوی کیا کہ مشکل کی گھڑی میں کرکٹ بورڈ وملکی ڈومیسٹک کرکٹ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور اس میں انگلش ویمنز ٹیم بھی ساتھ ہوگی.
جمع تفریق کرنے والوں نے جب اس رقم کو معاوضوں کے ترازو میں تولا تو جنا ب حیرت انگیز انکشاف ہوا.
5 لاکھ پاؤنڈز کی یہ رقم 3ماە کی 20 فیصد کٹوتی جتنی ہی بنتی ہے جس کی منتیں بورڈ اور پلیئرز ایسوسی ایشن کرتی رہی تھی. انکار پر بورڈ نے 61ملین پاؤنڈز کی گرانٹ جاری کرنے کا اعلان کیا تھا اور پلیئرز کے معاوضے نہ کاٹنے کا فیصلہ کیا تھا. کرکٹرز اب بھی پوری تنخواہ لیں گے اور پھر وصول کرکے بورڈ کو واپس "مدد”کے نام پر دیں گے.
انگلینڈ میں سنٹرل کنٹریکٹ یافتہ پلیئرز کے معاوضے میں کٹوتی کی خبریں جیسے ہی عام ہوئی تهیں توٹیسٹ ٹیم کے کپتان نے کھل کر مخالفت کی اورصاف الفاظ میں انکار کیا تھا. جوئے روٹ نے کہا تھا کہ کورونا پر حتمی بات کرنا مشکل ہے. اسلئے پہلے سے ہی ستمبر تک کی تنخواہ کم کرنے کی سوچ اچھی نہیں. حالات بہتر ہوسکتے. بند گراؤنڈز میں کھیلنے کی ایک تجویز بھی توہے. اگر 6 ما ە کرکٹ نہیں بھی ہوتی تو اگلے عرصے میں تمام سیریز ری شیڈول کی جاسکتی ہیں. آج چند ماہ بعد کی صورتحال فرض کرکے فیصلے کرنا دانش مندی نہیں ہے. گویا انگلش کپتان 6 ما ە کا ملکی سیزن ختم ہونے پر بھی تنخواہ کی کٹوتی کے حامی نہیں تھے .اس میں انہوں نے پلیئرز کرکٹ ایسوسی ایشن کا بھی ذکر کرتے کہا تھا کہ یہ بورڈ اور کرکٹرز نہیں بلکہ کھلاڑیوں کی محافظ تنظیم پی سی اے اور ای سی بی کا مسئلہ ہے.
فیس بک کمینٹ

