پروفیسر شوکت مغل پہ کالم لکھنا شروع کیا تو سوچا کالم کا عنوان کیا ہونا چاہیے؟ پھر ذہن میں ایک ہی بات آئی کہ اُن کا نام ہی مکمل کالم کا احاطہ کر لے گا۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ 1982ء میں میری جب اُن سے پہلی ملاقات ہوئی تو وہ تب بھی پروفیسر شوکت مغل تھے اور جب وہ دنیا سے رخصت ہوئے تو سینکڑوں طلبا و طالبات کو ایم فل اور پی ایچ ڈی کرانے کے باوجود پروفیسر شوکت مغل ہی تھے۔ پہلی ملاقات گورنمنٹ سول لائنز ڈگری کالج ملتان میں ہوئی تو یہ وہ زمانہ تھا جب اُس کالج میں پروفیسر حسین سحر‘ پروفیسر انور جمال‘ ڈاکٹر محمد امین‘ پروفیسر جابر علی جابر‘ پروفیسر مبارک مجوکہ اور پروفیسر سبطین نقوی جیسے نابغہ روزگار اہلِ علم درس و تدریس سے وابستہ تھے۔ پروفیسر شوکت مغل تب صرف پڑھانے اور کتابیں پڑھنے کا شغل رکھتے تھے لیکن اہلِ دانش کے حلقے میں وہ اپنی گفتگو کی وجہ سے منفرد مقام رکھتے تھے۔ اُردو پڑھانے کے باوجود اُن کی اصل توجہ سرائیکی ادب اور تحقیق پر تھی! وہ ہر وقت یہ سوچتے رہتے تھے کہ سرائیکی علاقے کو اُس کی شناخت کب ملے گی؟ یہاں کے لکھنے والوں کو ریڈیو‘ ٹیلیویژن اور اخبارات میں کوریج کیوں نہیں ملتی؟
اُنہی دنوں انہوں نے اپنے استادِ محترم پروفیسر مرزا مسرت بیگ کے فن اور شخصیت پر ”ملتان کا سرسید“ کے نام سے ایک کتاب مرتب کی۔ کتاب کا سرنامہ ’موجدِ خطِ رعنا‘ اور معروف خطاط ابنِ کلیم سے لکھوایا۔ پروفیسر شوکت مغل یہ کتاب لے کر ہر اُس شخص کے پاس گئے جو پروفیسر مرزا مسرت بیگ کا شاگرد تھا یا اُن کا ہم عصر تھا۔ گورنمنٹ سول لائنز ڈگری کالج ملتان میں ہم اُن سے اُردو پڑھا کرتے تھے ۔سرخ و سفید رنگ، چہرے پہ چوڑے فریم والی عینک‘ ہاتھ میں لیدر کا چھوٹا بیگ‘ خوش رنگ لباس اور اُردو میں بات کرتے ہوئے سرائیکی زبان کی آمیزش اُن کو مزید خوبصورت بنا دیتی تھی۔ وقت گزرتا رہا تو پروفیسر شوکت مغل نے صرافہ بازار میں اپنی مغل مارکیٹ میں سرائیکی اکیڈمی کے اجلاس کو نہ صرف بہت زیادہ وقت دینا شروع کر دیا بلکہ اُس کے ہفتہ وار اجلاس میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو دعوت دینے لگے۔ اُسی دوران انہوں نے سوچا کہ وہ سرائیکی ادب کے اُن گوشوں پر کام کریں گے جس پر اُس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ سو انہوں نے سرائیکی ادب کی تحقیق و تنقید جیسا مشکل شعبہ انتخاب کیا اور سب سے پہلے انہوں نے ”سرائیکی اکھان“ جمع کرنے شروع کیے۔ بڑے سائز کی اُس کتاب کی کئی جلدوں پر کام کیا اور آخرکار دن رات کی محنت کے بعد وہ ملتان کے معروف خوشنویس ظہور تابش کے پاس بیٹھ کر اس کی کتابت کروانے لگے۔ اُس کے ساتھ ساتھ انہوں نے قدیم اُردو کی لغت اور سرائیکی زبان کے موضوع پر بھی کام شروع کر دیا۔ یہ پروفیسر شوکت مغل کے تخلیقی کام کا آغاز تھا اور اُس کے بعد پھر اُنہوں نے اپنے تخلیقی سفر کو تادمِ مرگ جاری رکھا۔ جس وقت اُن کو کورونا کے موسم میں کفن پہنایا گیا تو اُن کی 56 کتابیں شائع ہو چکی تھی اور تقریباً 10 کتب کمپوزنگ اور تدوین کے مراحل میں تھیں۔ یوں دیکھا جائے تو سرائیکی زبان و ادب پر سب سے زیادہ تنقیدی و تحقیقی کام پروفیسر شوکت مغل کا ہی دکھائی دیتا ہے۔ دُور دُور تک اُن کا کوئی ثانی جنوبی پنجاب میں دکھائی نہیں دیتا۔ اُن کی بیشتر کتب بی اے اور ایم اے کے نصاب میں شامل ہیں۔
پروفیسر نسیم اختر راوی ہیں کہ جب کبھی کسی طالب علم کو ایم اے سرائیکی کے لیے کتب کی ضرورت ہوتی تو پروفیسر شوکت مغل اپنی لائبریری سے فوٹو کاپی کروا کر طالب علم کو بھجوا دیتے۔ اپنے شاگردوں سے اس انداز کی محبت آج کے دور میں کم دیکھنے کو ملتی ہے۔
وقت گزرتا رہا ہم تعلیمی مدارج طے کر کے عملی زندگی میں آ گئے اور پروفیسر شوکت مغل بھی آخرکار ریٹائرمنٹ کے بعد گھر بیٹھ گئے۔ اِس خطے میں ریٹائرمنٹ کا صحیح فائدہ انہوں نے اٹھایا کہ وہ ایک طرف سرائیکی زبان و ادب کےلئے کام کرتے رہے دوسری جانب جنوبی پنجاب کے حقوق کےلئے بھی آواز اٹھاتے رہے۔ اُس کےلئے روزنامہ خبریں ملتان نے انہیں ہمیشہ اہمیت دی اور آج سے تقریباً 18برس قبل جب ’کُل جنوبی پنجاب سرائیکی مشاعرہ‘ کا آغاز ہوا تو پہلے مشاعرے کی صدارت کا قرعہ استادِ محترم پروفیسر شوکت مغل کے نام نکلا! اُس کے بعد پھر ہر مشاعرے کی صدارت انہوں نے کی حالانکہ وہ خود شاعر تو نہ تھے لیکن سرائیکی ادب کے حوالے سے اُن کی خدمات کو دیکھتے ہوئے ”خبریں“ نے ہمیشہ اُنہی کو صدرِ محفل رکھا۔ اُس دوران سیّد یوسف رضا گیلانی سے لے کر سرائیکی خطے کے تمام بڑے سیاستدان‘ دانشور‘ ماہرِ تعلیم” خبریں“ ملتان کے اُس مشاعرے میں شرکت کرتے رہے لیکن صدر پروفیسر شوکت مغل ہی رہے۔ ہر سال اُن کی صدارتی تقریر نئے موضوع اور نئے مطالبات پر مبنی ہوتی اور اُن کی گفتگو کا چرچا ہفتوں رہتا۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ میرے اُستاد تھے‘ بعد میں ہر تقریب میں وہ میرا ذکر بڑی محبت سے کرتے اور کہتے کہ مجھے اپنے شاگردوں میں چند ہی پر ناز ہے جن میں رضی اور میرا خاص طور پر ذکر کرتے۔ آخری ملاقات گورنمنٹ سول لائنز ڈگری کالج میں پروفیسر ریاض حسین کی کتاب کی رونمائی میں ہوئی تو اُس دن پروفیسر شوکت مغل پینٹ کوٹ اور ٹائی لگائے سٹیج پر بیٹھے ہوئے تھے۔ مَیں کچھ تاخیر سے ہال میں پہنچا تو سٹیج سیکرٹری سجاد نعیم نے مجھے اُن کے پہلو میں بیٹھنے کے لیے بلایا تو انہوں نے آواز بلند کی‘ شا کر کی تقریر سب سے آخر میں کروائی جائے! یہ ہر تقریب میں تقریر کر کے بھاگ جاتا ہے۔ مَیں نے انہیں کہا کہ آج اِس تقریب میں میرے دو اساتذہ آپ اور انور جمال موجود ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ کی تقریر سنے بغیر غائب ہو جاؤں؟ کہنے لگے! مجھے پتہ تم ہمیشہ ہمارے ساتھ یہی کرتے ہو۔ بس تمہاری تقریر سب سے آخر میں ہو گی۔ اُس تقریب کے بعد ہم نے پرنسپل ڈاکٹر عبدالسلام کے کمرے میں بیٹھ کر چائے اکٹھی پی۔ پروفیسر شوکت مغل چائے کی بجائے کولڈ ڈرنک شوق سے پیتے تھے۔ اُس دن موسم سرد تھا اور وہ چائے پی کر کہنے لگے کہ ہمیں وہ زمانہ یاد آ گیا جب شاکر اور رضی اس کالج میں پڑھا کرتے تھے اور ہم انہیں پڑھایا کرتے تھے۔
پروفیسر شوکت مغل کا معمول تھا‘ وہ آتے جاتے ”کتاب نگر“ کو عزت بخشتے! تقریبات میں ملاقات ہوتی تو محبت سے تذکرہ کرتے‘ موت سے دو دن پہلے اُن کی علالت کی خبر سوشل میڈیا پر آئی! مَیں نے سوچا پروفیسر شوکت مغل کو کیا ہو سکتا ہے نہ وہ سگریٹ پیتے ہیں نہ چائے سے رغبت نہ کسی کی غیبت کرتے ہیں نہ کسی سے جیلس! ایسے سچے اور کھرے آدمی کو بیماری کیا کہے گی؟ لیکن پھر وہی خبر آ گئی جس کا ہم سوچ بھی نہیں رہے تھے۔ پروفیسر شوکت مغل ہم سے جدا ہو گئے۔ یکم جنوری 2020ء کو جب گورنمنٹ ایمرسن کالج کے میدان میں ڈاکٹر طاہر تونسوی کا جنازہ پڑھا توسب سے زیادہ دل گرفتہ پروفیسر شوکت مغل تھے۔ اُن سے سب نے اظہارِ افسوس کیا کہ طاہر تونسوی کے علمی وارث تو پروفیسر شوکت مغل ہی تھے اور جب اُن کا اپنا انتقال ہوا تو سینکڑوں لوگوں میں سے کوئی بھی ایک شخص ایسا نہ تھا کہ جس کو ہم پروفیسر شوکت مغل کا متبادل جان کر اُس سے افسوس کرتے! اس خطے میں اپنے تحقیقی اور تنقیدی کام کے حوالے سے ایک ہی نام پروفیسر شوکت مغل کا تھا جس نے کئی اداروں کا اکیلے بیٹھ کر کیا۔ اِسی لیے تو مَیں اس کالم کا عنوان ”پروفیسر شوکت مغل“ رکھا۔ یہ اُن کے کام کی شان و شوکت کے حوالے سے ایک مکمل عنوان ہے۔
فیس بک کمینٹ

