ولنگٹن : پاکستان کرکٹ ٹیم کےکپتان بابر اعظم نیوزی لینڈ کے خلاف صرف ٹی 20 سیریز سے باہر نہیں ہوئے ہیں بلکہ ان کی پہلے کرکٹ ٹیسٹ میں شرکت کے امکانات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں،نیوزی لینڈ کے خلاف پہلا ٹیسٹ 26دسمبر سے شروع ہوگا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی 13 دسمبر کو جاری کی گئی خبر کے مطابق بابر اعظم انگوٹھے میں فریکچر کی وجہ سے 12 دن میدان سے باہر رہیں گے،نیٹ پریکٹس تک بھی نہیں کرسکیں گے کیونکہ ڈاکٹرز نے بابر کو 12دن مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے۔ اب یہ 12 دن 25 دسمبر کو مکمل ہونگے،اس دوران 18سے 22دسمبر تک کے 3 ٹی 20 میچز سے وہ باہر ہوچکے ہیں،25دسمبر کو پہلے دن کی نیٹ پریکٹس کے اگلے روز کیا وہ ٹیسٹ میچ کھیلنے کے لائق ہونگے؟
ایسا نہیں ہوتا ہے کہ انتہائی سیریس چوٹ کے بعد جس میں فریکچر ہوچکا ہو،اس کا جو وقت دیا جائے،عین اس کے مطابق کھلاڑی فٹ ہوجائے اور اگر ایسا ہوبھی جائے تو بھی ایسے کھلاڑی کو واپسی کے لئے چند دن پریکٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔بابر اعظم اگر 12دن بعد فٹ ہوتے ہیں تو وہ 25 دسمبر کو پریکٹس شروع کریں گے،ایسے میں اگلے دن سے شروع ہونے والے باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں ان کی شرکت کے امکانات معدوم لگتے ہیں۔
پی سی بی نے نے ٹی 20 میں شاداب خان کو ان کا نائب بنایا تھا،شاداب خان کے بھی ان فٹ ہونے کی اطلاعات ہیں۔اگر وہ فٹ ہوئے تو ٹی 20 میں کپتانی کرتے دکھائی دیں گے اوراگر وہ فٹ نہ ہوئے تو ٹی20 میں کپتان کون ہوگا؟
اسی طرح بابر اگر پہلا ٹیسٹ نہ کھیل سکے تو طویل فارمیٹ میں وکٹ کیپر محمد رضوان کو ان کا نائب بنایا گیا تھا تو کیا وہ نوجوان کھلاڑی اپنے کیریئر کے پہلے ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ میں کپتانی کرتے دکھائی دیں گے؟ پی سی بی کے اپنے ہی وضع کردہ پلان کو دیکھا جائے تو ٹی 20 میں شاداب اور ٹیسٹ میں رضوان کپتان ہونگے لیکن یہ بھی دستیاب نہ ہوں(جیسا کہ ٹی 20 میں شاداب کی دستیابی مشکوک ہوگئی ہے) تو پھر کون کپتان ہوگا؟
کرک سین تجزیہ کے مطابق ایسی صورت میں سابق کپتان سرفراز احمد مختصر فارمیٹ میں دوبارہ کپتانی کرتے دکھائی دے سکتے ہیں لیکن اس کے لئے پی سی بی چیئر مین احسان مانی کی حتمی منظوری ضروری ہوگی،اگر ایسا ہوا تو یہ کمال اتفاق ہوگا کیونکہ سرفراز کی ٹی 20 فارمیٹ میں کپتانی کے لئے اب بھی آوازیں بلند ہوتی ہیں،حال ہی میں سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھرنے سرفراز احمد کی کپتانی کے حق میں بیان دیا تھا جسے کرکٹرز و شائقین نے بے حد پسند کیا تھا۔
(بشکریہ: کرک سین)
فیس بک کمینٹ

