نئی تحریر کے لیے کسی نئے موضوع کی متلاشی تھی کہ چند نوجوانوں سے ملنے کااتفاق ہوا جو بہتر مستقبل کے لیے کوشاں یونیورسٹی میں مختلف چیلنجز سے نبردآزما تھے۔ان سے گفتگو کرکے عجیب سی کیفیت سے دوچارہوگئی وہ جس قدرپریشان تھے بلاشبہ دروغ گوئی نہیں کررہے تھے پھرمیں نے فیصلہ کرلیا کہ آج کی تحریر میرے معاشرے کے معزز اساتذہ کے اعزاز میں ہوگی۔
ہم آدھی صدی کے لوگ ہیں ،ہمارے استاد سیدھے سادھے لوگ تھے بس پرچہ حل کیا جتنا جس نے گڑڈالا اسے اتنے میٹھے نمبر مل جاتے۔ Sassionalنمبرز کی کوئی میٹھی کڑوی گولیاں استاد کے بستے میں نہیں تھیں کہ وہ بلیک میل کرسکتا کہ میٹھا میٹھا پسند کے بچوں میں بانٹ سکتا۔ خیر مختصر مختصر یہ کہ جو بچوں سے گفتگو کے دوران نتیجہ اخذ کرسکی وہ یہ ہے کہ ایک طالب علم جو انگریزی کاایک جملہ نہیں صرف ایک لفظ بولنے اورلکھنے سے بھی قاصرتھا وہ گولڈ میڈلسٹ ہو گیا کیونکہ پروفیسر صاحبان کودیسی انڈوں اور گھی کی کمی نہیں ہونے دی اس نے ۔اس سے آگے چلیں میں نے دوبارہ ایچ ای سی کاٹیسٹ دلوایا دوبارہ وظیفے کاٹیسٹ پاس کیا لیکن بڑے میڈیاہاﺅس کا رپورٹر کلاس فیلوتھا گولڈ میں اس کو حصہ داربنایاگیا۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں نہیں ہیں حق تلفی کس قدر ذہنی اذیت کاباعث بنتی ہے اس کااندازہ نہیں کیاجاسکتا۔ دوسرا یہ کہ سٹوڈنٹس کی تربیت کیا ہورہی ہے ۔یہ ایک علیحدہ حقیقت ہے ۔ایک میڈیکل کالج میں طلباءکے چند تحفظات تھے ان پرسٹرائیک کی گئی اور جلوس کی شکل میں اکٹھے ہوگئے۔ گلگت سے تعلق رکھنے والے ایک بچے نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور تقریر بھی کرڈالی ۔مسلسل تین باراسے فیل کیاگیا تیسری مرتبہ یہ ہوتا ہے کہ داخلہ کینسل کردیا جاتا ہے ۔اس بچے نے ٹرین کے سامنے کھڑے ہو کر زندگی کا خاتمہ کرلیا ۔اس سے دلدوز بات کیا ہوگی ؟
مجھے پتہ چلا کہ اسی کالج کی ایک بچی کسی بات پر لیڈی ڈیمانسٹیٹر سے الجھ پڑی ا ور جاتے ہوئے دروازہ زور سے بند کرگئی ۔ وہ لیڈی ڈیمانسٹیٹر ایچ اوڈی کی گڈ بک میں تھی کہ اس بچی کو مسلسل تین بار فیل کرکے کالج سے آﺅٹ کیاگیا۔ایک استاد جی نے خود بتایا کہ سپیشل نمبرز طلباءکوقابو کرنے کا ذریعہ ہیں۔ ہمارے دور میں یہ ذریعے نہیں تھے مگر ہم استاد سے آگے چلنے کی جسارت نہیں کرتے تھے۔ میں عینی شاہد ہوں کہ ایک کالج جواب یونیورسٹی کاشرف پاچکا ہے۔ بی ایس انگلش کلاس میں ڈائریکٹر ایجوکیشن کی بچی بھی تعلیم حاصل کررہی تھی ایک استاد نے بچی کوصرف ریگولر ہونے کی استدعا کرنے کی جرات ہی کی تھی کہ اگلے روز ڈائریکٹر صاحب کا وزٹ ہوا بتایاگیا کہ گھٹیا لوگوں کے بچوں نے ساتھ یہ سپریئر بچہ بھی ہے لہذاکسی کو حاضری چیک کرنے کی جرات نہیں ہونی چاہیے۔ اور سالانہ امتحان میں اس بچی کی جس طرح مدد کی گئی کہ باقی بچے خاموش تماشائی بنے دیکھتے رہے میں یہ لکھنے میں حق بجانب ہوں کہ کسی سیاستدان، جج، بیوروکریٹ کی کرپشن کی کوئی حیثیت نہیں انتہائی شرمناک ہے وہ معاشرہ جہاں استاد کی ایسی مثالیں موجودہوں ۔سپیشل نمبرز استاد کے ہاتھ میں کیوں دیئے جا ئیں ۔ہمارے دور میں حاضری رجسٹرکافی تھا۔ حاضری کی پرسنٹیج ٹھیک ہے اور ٹیسٹ ریکارڈ میں حاضری اور نمبرز ٹھیک ہیں تو کالج انتظامیہ مارکننگ کرسکتی ہے ۔بہت سی مثالیں دے سکتی ہوں جو میں نے خود دیکھیں ۔۔افسوسناک ہے یہ بات کہ طالب علم جس پہ ہماری معاشی، معاشرتی، اخلاقی عمارت تعمیرہونے جارہی ہے سب سے زیادہ استحصال کا شکار ہیں ۔فیسوں میں ہوشربا اضافہ تو ایک طرف رہا۔ سکولوں کا وزٹ کیجئے جہاں گراسی پلاٹ ریگستان کا منظرپیش کر رہے ہیں ایک پرنسپل نے تسلیم کیا کہ پانی کے لیے بجٹ نہیں ہے کہ گراسی پلاٹ بنا سکیں۔ شرمناک بات ہے کہ کئی سکولوں میں لیٹرین نہیں اگر ہیں تو پانی دستیاب نہیں۔ سرکاری سکولوں میں بچے پہلے کلاس میں جھاڑو پونچھا کرتے ہیں کوئی کب دیکھے گا اس طرف بھی ۔۔لیکن نہیں یہاں سب سے گھٹیا طبقہ ہم عوام ہیں اوراس پر یہ ظلم کہ خود عوام کواپنے حقوق کا ادراک ہی نہیں ہم نے تسلیم کرلیا ہے کہ ہم گھٹیا طبقہ ہیں۔ سپریئرلوگ وہ ہیں جو ایوانوں میں بیٹھے ہیں ،جوڈیشل کمپلیکس میں بیٹھتے ہیں ،جھنڈے والی گاڑی میں گھومتے ہیں اور ان کے استقبال میں سڑکیں بند کرکے ان گھٹیالوگوں کو روک دیا جاتا ہے کہ آج تم سڑک
استعمال نہیں کرسکتے۔
معذرت خواہ ہوں کہ سخت لفظ استعمال کیامگر اس طبقے کوکوئی فرق نہیں پڑتا۔ شاید حاصل پور کے کسی کالج کی ویڈیو نظر سے گزری لڑکیوں کا استادوں کے ساتھ ہوشربا رقص کسی فحش مجرے کوشرمارہاتھا۔ ان طلباءسے زیادہ وہ پرنسپل اوراساتذہ بے غیرتی کی گہرائیوں میں گرے ہوئے تھے جس کی مثال ناپید ہے۔ ہم من حیث القوم کرپٹ ہوچکے بلاشبہ اس وقت ہمارا مسئلہ معاشیات نہیں اخلاقیات ہے اوراس کی درستی کادور دور تک امکان نہیں۔۔۔۔
فیس بک کمینٹ

