سیلاب اور بارشوں سے تباہی کی نئی داستان رقم ہو رہی ہے وفاقی اور صوبائی حکومتیں بوجہ بے بس نظر آتی ہیں خیبر پختونخواہ‘ بلوچستان‘ جنوبی پنجاب اور سندھ کے متاثرین مایوس نظر آ رہے ہیں گو غیر سرکاری تنظیمیں اور مخیر حضرات ذاتی طور پر جمع کی گئی امدادی اور چندہ کی رقوم سے تباہ حال متاثرین کی اشک شوئی کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وسائل کی کمی کے باعث اب بھی پانی میں گھرے خاندانوں تک رسائی نہیں کر پا رہے اس کی بنیادی وجہ ایسے علاقوں میں رسائی کا معاملہ ہے جہاں کچھ علاقے زمینی راستے کھو بیٹھے ہیں سفری اور بار برداری کیلئے رابطہ سڑکیں پانی میں بہہ گئی ہیں یا پھر ان پر سیلابی پانی موجود ہے ایسے میں ملک بھر میں سپلائی چین برے طریقے سے متاثر ہو چکی ہے ریلوے صرف روہڑ ی تک بحال ہو سکی ہے جبکہ باقی علاقوں میں رسائی ممکن نہیں رہی یہی وجہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل بند ہو کر رہ گئی ہے اور تقریباً پانچ سو سے زیادہ آئل ٹینکر سیلابی علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں اگر ان کیلئے سفر کا راستہ کلیئر نہیں ہوتا تو پٹرولیم مصنوعات کی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے ۔
اقوام متحدہ سمیت متعدد عالمی ادارے پاکستان میں حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے پریشان ہیں اسے عالمی حدت میں اضافے کی وجہ قرار دے رہے ہیں جس کیلئے وہ عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) میں اضافے کا باعث بننے والے ممالک کو بھی خبردار کر رہے ہیں کہ ایسا سب کچھ ان کی پالیسیوں کا کیا دھرا ہے ان اداروں کی پاکستان میں ماضی کی حکومتوں کی طرف سے موسمیاتی تبدیلیوں کو سنجیدہ نہ لینا اور پھر اس مقصد کیلئے ملنے والے فنڈز کو کرپشن کی نذر کرنا بھی ایک بڑ ی وجہ قرار دیا جا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ متاثرین کی امداد کیلئے فنڈز اور سامان فراہم کرنے والے عالمی ادارے حکومت پاکستان سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ضرورت کا امدادی سامان‘ خوراک اور بحالی کیلئے فراہم کیے جانے والے فنڈز کے سخت ترین آڈٹ کروائے جائیں تا کہ اس بات کا اطمینا ن حاصل کیا جا سکے کہ ضرورت مند متاثرین کی مدد ہو رہی ہے یہ دراصل نہ موجودہ بلکہ ماضی کی حکومتوں پر عالمی ڈونرز اداروں کا عدم اعتماد بھی ہے جس کیلئے ضروری ہے کہ اور کچھ نہیں تو کم از کم امدادی سامان کی ضرورت مندوں تک ترسیل کو ہی شفاف بنا لیا جائے اور بحالی کے کام کو سخت مانیٹر کیا جائے تاکہ حق داروں تک پہنچانے میں مدد مل سکے۔
گو حکومتی اداروں نے ابھی تک سیلاب سے تباہ کاریوں کے نقصان کا صرف ابتدائی اندازہ لگایا ہے لیکن متعدد عالمی ادارے صرف سندھ میں ایک ارب 30کروڑ ڈالر سے زیادہ نقصان کا اندیشہ بتا رہے ہیں اس میں چاول،کپاس،اور گنے سمیت دوسری فصلیں شامل ہیں لیکن ان اداروں نے ابھی تک بلوچستان کو بالکل نظر انداز کررکھا ہے، جنوبی پنجاب دامان،کوہ سلمان اور دوسرے علاقوں میں ہونے والی تباہیوں کا اندازہ لگانا ابھی باقی ہے اسی طرح خیبر پختون خواہ میں ہونے والی تباہیوں کے نقصان کا ابھی تک اندازہ نہیں لگایا جاسکا۔جس کے بارے میں اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کا اندازہ ہے کہ بنیادی ڈھانچہ سمیت سڑکوں،پلوں اور فصلوں کی بربادی کو ملا کر جو نقصان ہوا ہے وہ 30ارب ڈالر سے بڑھ جائے گا انہی اطلاعات اور شواہد کی روشنی میں بین الا قوامی ادارے پاکستان کیلئے ایک طرف تو ترقی یافتہ ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈز اور بنکوں سے یہ مطالبہ بھی کررہے ہیں کہ پاکستان کے قرضوں کی ادائیگی کو کم ازکم دو سال کیلئے موخر کیا جائے۔ ادھراقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتوینو گو تریس نے سیلابی علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے پاکستانی عوام کی طرف متاثرین کی مدد کے جذبے سے متاثر ہوئے اور تعریف کی اور کہا کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں کے عوام فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے ہیں، چاہے وہ زلزلے کی تباہی ہو یا سیلاب سے بے گھر ہونے والے افراد کی مدد، پاکستانی عوام ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔حال ہی میں پاکستان میں ہونے والی تباہ کن بارشوں اور سیلابی صورت حال کے پیش نظر بڑے پیمانے پر ہونے والے جانی و مالی نقصان کے بعد بھی پاکستان میں حکومت اور فلاحی اداروں کے علاوہ عوام بھی سیلاب متاثرین کی مدد میں پیش پیش نظر آئے جس کا اعتراف اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی سوشل میڈیا پر کیا۔سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں انتونیو گوتریس نے لکھا کہ پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لوگوں کے پاس گیا، ان کے پاس جو کچھ ہے وہ دوسروں کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں، پاکستانی عوام کی موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہی کے باوجود دوسروں کے ساتھ یکجہتی کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔دوسری طرف لیکن پاکستانی سیاستدان بے کس متاثرین کی اشک شوئی کرنے کی بجائے جلسے،ریلیوں اور ضمنی انتخابات کے بخار میں ماضی کی طرح مبتلا ہیں اور الزام تراشی پر مبنی بیانات آج بھی سیلاب کی تباہ کاریوں کی رپورٹ پر سبقت لیتے ہیں ضرورت ہوتو گزشتہ صرف ایک ہفتے کے اخبارات کے صفحہ اول اور آخر کی نیوز سٹوریز کی پلیس منٹ چیک کرلیں۔
فیس بک کمینٹ

