پاکستانی صحافت میں پچھلے چند سالوں کے دوران ایکدم ” ٹی وی جرنلسٹس “،اینکرنما“ چرب زبانوں اور یو ٹیوبرز کاایک جتھ سامنے آیا ۔تنخواہ کی جگہ پیکج متعارف ہوۓ ۔مانگ کر سگریٹ پینے والے راتوں رات کروڑوں پتی ہوگئے سب کی صحافت ایک جیسی سب کا ٹارگٹ بھی ایک اور ایک ہی جیسے ٹویٹس ۔
مہنگے تریں ۔ ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں ڈیرے ۔بنی بنائیstories ملنے لگیں ۔اور جنہوں نے he said کے علاوہ کبھی کچھ کہا یا لکھا ہی نہیں تھا ایک دم سے تحقیقاتی رپورٹنگ کے بام عروج پر پہنچ گئے ۔جنہیں ایک سطر بھی لکھنا نہ آتی تھی وہ دفاعی معاشی سیاسی اور نہ جانے کیا کیا کے تجزیہ نگار بن گئے ۔
سیٹھوں کے پبلک ریلیشنز آفیسرز پہلے”کچھ لوگوں “کی آنکھ کا تارا بنے اور پھر ہر ٹی وی چینل پر بیٹھے بھاشن دیتے نظر آنے لگے ۔
اور پھر ۔۔۔۔۔۔
شہرت ،دولت ،طاقت کا خمار چڑھا اور یہ نشہ سر چڑھ کر بولنے لگا اور یہ بھول گئے کہ پانی کو ہمیشہ پل کے نیچے سے ہی گزرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔
فیس بک کمینٹ

