لندن میں رہنے والے اردو کے اہلِ قلم اس اعتبار سے خوش نصیب ہیں کہ انہیں اس ملٹی کلچرل شہر اور اردو کے اس تیسرے بڑے مرکز میں پاکستان اور بھارت سے آنے والے اردو کے نامور ادیبوں اور شاعروں سے ملاقات اور تبادلہ خیال کا موقع میسر آتا رہتا ہے اور پھر فخر کی بات یہ ہے کہ برطانوی دارالحکومت میں رضا علی عابدی، راشد اشرف، آصف جیلانی، صفدر ہمدانی، عابد علی بیگ اور علی جعفرزیدی جیسے لوگ موجود ہیں جن کی اردو ادب اور صحافت کے لئے خدمات کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ 80ء اور 90ء کی دہائی میں لندن میں فیض احمد فیض اور مشتاق احمد یوسفی سے لے کر گوپی چند نارنگ اور علی سردار جعفری کے ساتھ منعقد ہونے والی محفلیں یہاں کی ادبی تاریخ کا یادگار اور خوشگوار حوالہ ہیں۔ ویسے تو لندن میں آباد اردو کے شاعروں اور ادیبوں کی کتابیں شائع ہوتی رہتی ہیں اور اُن کی پذیرائی کے لئے بڑے پیمانے پر تقریبات کا بھی اہتمام ہوتا ہے لیکن گذشتہ چند برسوں میں جن چند کتابوں نے مقبولیت حاصل کی اُن میں ساقی فاروقی کی کتاب”آپ بیتی پاپ بیتی“، رضا علی عابدی کی کتاب ”کتابیں اپنے آبا کی“، علی جعفر زیدی کی کتاب ”باہر جنگل اندر آگ“، عابد علی بیگ کی کتاب ”قومی ترانہ فارسی یا اردو“، ڈاکٹر جاوید شیخ کی کتاب ”کچھ میرے ہم نشیں“ اور راشد اشرف کی”بھوکی سڑک (ترجمہ)“ شامل ہیں اور اب حال ہی میں معروف براڈ کاسٹر ماہ پارہ صفدر کی کتاب ”میرا زمانہ میری کہانی(خودنوشت)“ کی بہت پذیرائی ہو رہی ہے۔
لندن سے جب اردو کے کسی ادیب کی کوئی معیاری اور قابل توجہ کتاب شائع ہوتی ہے تو میں نہ صرف اسے شوق سے پڑھتا ہوں بلکہ اپنے دوست احباب کوبھی ترغیب دینے کی کوشش کرتا ہوں کہ وہ یہ کتاب ضرور پڑھیں۔ اچھی کتاب وہ ہوتی ہے جو پڑھنے والے کو اپنے حصار میں لے کر اُسے سوچنے اور غور و فکر کرنے کی تحریک دے۔ علی جعفر زیدی کی کتاب ”باہر جنگل اندر آگ“ ایسی ہی ایک کتاب ہے۔ 712صفحات پر مشتمل یہ کتاب پاکستان کی سیاسی کشمکش کے سفر کا دانشورانہ تجزیہ ہے۔ یہ کتاب تاریخ اور سیاست کے ہر اس طالب علم کو پڑھنی چاہئے جو پاکستان میں حقیقی جمہوریت اور روشن خیالی کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ علی جعفر زیدی کا شمار پیپلز پارٹی کے اُن نظریاتی رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے 1967ء میں پی پی پی کے قیام کے بعد نہ صرف ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ کام کیا بلکہ ہفت روزہ نصرت کے مدیر کی حیثیت سے عالمی سامراج، ملائیت اور انتہا پسندی کے خلاف برسرپیکار رہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں وہ لندن آئے اور تب سے عوامی حاکمیت، قومی آزادی کی تحریکوں اور معاشی بالادستی کے لئے مسلط کی جانے والی جنگوں کے خلاف اپنی جدوجہد کو مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ”باہر جنگل اندر آگ“ کا پہلا حصہ علی جعفر زیدی کی پولیٹیکل بائیوگرافی ہے جبکہ دوسرا حصہ تاریخ کے اُن ابواب پر مشتمل ہے جو مسخ کر دیئے یا بھلا دیئے گئے ہیں۔
انہوں نے اپنی کتاب کے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ ”ایک ایسے وقت میں جبکہ پاکستان کے عوام مایوسی اور غربت و افلاس کے اندھیرے جنگلوں میں بھٹک رہے ہیں، کئی دہائیوں سے بے چراغ راستوں میں جدوجہد کرنے والے بچے کھچے دیانتدار سیاسی کارکنوں کی کھنڈر آنکھوں میں غم آباد ہیں۔بقول محسن نقوی ایسا لگتا ہے
اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسن
دیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کر
ایک بار سحر کو مقدر کے لئے چراغ جلانے کی ضرورت ہے۔ ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی قتل کے بعد عوام کے اس قومی اور طبقاتی شعور کو جو حکمران طبقات اور عالمی سامراج کے لئے کسی بھی طرح کا کوئی خطرہ بن سکتا تھا مذہبی اور لِسانی تعصبات کی اونچی اونچی دیواریں کھڑی کر کے قید کر دیا جس کے بعد ہوا کے رخ پر چلنے والی بے شمار کشتیاں نمودار ہو گئیں، طوفان سے لڑنے والے بادبان نظر آنا بند ہو گئے، پاکستان نظریاتی مملکت اور اسلامی مملکت کا ڈھول بجانے والے اسلام فروشوں اور پھر وطن فروشوں کے ہتھے چڑھ گیا۔ اسلام کے نام پر امریکہ کے مفادات کی جنگ میں پاکستان کو دھکیل دیا گیا جو آج تک اس دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ دینی مدرسے انسانی بم ساز فیکٹریاں بن گئے ہیں، راہزن راہبر ہیں، سیاسی جماعتیں جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہیں ہیں، عوام روٹی اور روزگار کے فقدان کے سبب مر رہے ہیں، جو معاشرہ جنم لے چکا ہے اس کے حکمران عوام سے اجنبی ہیں۔ پاکستان کے عوام ان کے لئے ایسے ہی ہیں جیسے ان کی پوشاک اور اِن کی کاریں جن کو وہ جب چاہیں اور جس طرح چاہیں استعمال کریں۔ معاشرے میں منطقی اندازِ فکر اور معروضی حالات کو سمجھنے اور پرکھنے کی صلاحیت مر گئی ہے۔ نہایت اعلیٰ قسم کی بکواس نے منطق کی جگہ لے لی ہے۔ تحقیق، مطالعہ، ذہنی اور سماجی تہذیب، متوازن رائے اور انکسار سب ختم ہو گیا ہے۔ اختلافِ رائے کا مطلب ذاتی دشمنی ہے۔ قوت ِ برداشت مٹ چکی ہے اور ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے مگر اس کے باوجود ہمیں امیدوں کے چراغ جلائے رکھنے ہوں گے کیونکہ جب غریبوں کی امیدوں کے چراغ جلنے لگتے ہیں تو عوام دشمن طبقات اور عالمی سامراج کے چہرے بجھنے لگتے ہیں۔اس بار لاچار اور مجبور عوام کو کسی مسیحا کے انتظار کی بجائے ایک بار پھر یہ ثابت کرنا ہو گا کہ”طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہیں“۔علی جعفر زیدی کی کتاب اپنے قارئین کو دعوت فکر دیتی ہے اور انہیں احساس دلاتی ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد سے مسلسل اُن کو اربابِ اختیار نے کس کس طرح دھوکے اور فریب دیئے۔ اسلام اور جمہوریت کے نام پر کس کس طرح سبز باغ دکھائے گئے ہیں۔غیر طبقاتی معاشرے کے قیام اور حقیقی عوامی جمہوریت کے حصول کی جدوجہد کرنے والوں کے لئے یہ کتاب واقعی ایک مشعلِ راہ ہے۔ اس کتاب میں دو عالمی جنگوں کے بعد دنیا پر اُن کے اثرات اور ہندوستان کی تقسیم کا سماجی تاریخی اور سیاسی تجزیہ کر کے جن حقائق سے پردہ اُٹھایا گیا ہے وہ فکر انگیز ہونے کے ساتھ ساتھ مستقبل پر اس کے اثرات کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔
علی جعفر زیدی چونکہ بائیں بازو کے رہنما اور انسانی حقوق کے علمبردار ہونے کے ساتھ ساتھ ”سٹاپ دی وار کولیشن“ جیسی عالمی تنظیموں سے بھی وابستہ ہیں اور 2005ء میں ایک سوشلسٹ امیدوار کے طور پر برطانوی پارلیمنٹ کا انتخاب بھی لڑ چکے ہیں۔ اس لئے ان کی اس کتاب میں سوشلزم کے حوالے سے جو ابواب تحریر کئے گئے ہیں وہ بھی بڑی توجہ سے پڑھنے کے لائق ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام سے حالاتِ حاضرہ تک اس سیاسی جماعت اور اس کی قیادت نے جن مراحل اور آزمائشوں کا سامنا کیا اور عوام کو جن مشکلات سے گزرنا پڑا اس بارے میں بھی علی جعفر زیدی نے بڑی وضاحت کے ساتھ لکھا ہے۔ پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت عوامی توقعات کو پورا کیوں نہیں کر سکی؟اس سلسلے میں بھی مصنف نے بڑی حقیقت پسندی سے تجزیہ کیا ہے۔ ہندوستان کی تقسیم، مسئلہ کشمیر، پاک بھارت جنگوں اور بنگلہ دیش کے قیام کے تناظر میں بھی اس کتاب کے چند باب بہت سے تاریخی حوالوں پر مبنی ہیں۔ اس لئے بھارت میں اس کتاب کا ہندی زبان میں ترجمہ کر کے شائع کیا جا چکا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت کے بارے میں یوں تو بہت کچھ لکھا جا چکا ہے لیکن اس کتاب میں علی جعفر زیدی نے قائد عوام کے بارے اپنے ذاتی مشاہدات اور تاثرات کو بہت عمدہ انداز سے تحریر کیا ہے۔ ”باہر جنگل اندر آگ“ کئی حوالوں سے بہت دلچسپ کتاب ہے۔ پیپلز پارٹی کے وابستگان اور خیر خواہوں کے علاؤہ پولیٹیکل سائنس اور تاریخ کے طالب علموں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہئے۔ اچھی کتابیں پڑھنے کے شوقین قارئین کو یہ کتاب مایوس نہیں کرے گی۔
فیس بک کمینٹ

