شاکر بھائی آج پھرحاضر ہوں
جمعرات کو تمہیں خط پوسٹ کرکے بک سٹال پر پہنچا تو امروزدیکھ کر جی باغ باغ ہوگیا۔ سرفہرست تمہارا انشائیہ چھایا ہواتھا۔ ذرا غورسے دیکھا تو اپنی غزل بھی نظر آگئی۔ خوشی کی وجہ یہ تھی کہ جس تقاضے کے ساتھ میں تم سے تحریریں منگواتا ہوں اسی صورت اور اہتمام کے ساتھ شائع بھی ہورہی ہیں۔ یقیناً تم نے انشائیہ دیکھ لیاہوگا۔ اگرتم امروز جمعرات اورجمعہ کوخریدتے ہو تو جمعے کو میرا کتوں والا انشائیہ بھی پڑھ لیاہوگا بلکہ انشائیہ کہاں وہ مزاحیہ مضمون تھا۔خدا بھلا کرے عزیزاثری صاحب کا وہ تو مضمون پڑھنے کی زحمت بھی نہیں کرتے۔ تمہارے انشائیے میں ایک جملہ تھا،”بعض فقیر اپنے اندھے ہونے کی تختی اپنے گلے میں لٹکاتے ہیں اور بعض بھکاریوں کااپنا آزاد گروپ ہوتا ہے“۔ میراخیال تھا آزاد گروپ والی بات وہ کاٹ دیں گے مگر وہ پڑھتے تو کاٹتے۔ مقبول جہانگیر والا مضمون شاید اس مرتبہ جمعہ میگزین میں آئے۔ صبح فون کرکے سعید بدر کویاددہانی کراﺅں گا۔ جمعرات کو دوبارہ ملتان چلا گیا ۔جمعہ ،ہفتہ کی چھٹی تھی ۔میں نے سوچا اقبال ڈے کی وجہ سے تین چھٹیاں ہیں۔ اگر یہاں وقت گزارا تو بھی تیس روپے کاخرچہ ہوگا کیوں ناں تیس روپے میں ملتان ہو آﺅں۔
میرا یہ غیر متوقع دورہ سب کو حیران کرگیا۔ کیونکہ میں منگل کوتو لاہور آیاتھا۔ ایک ہی روز بعد واپس پہنچا تو بہت سوں نے سوچا کہ شاید لاہور سے لڑ کر آگیا ہے۔ اس مرتبہ ذاکر کو تمہارے لیے دواورکتابیں دے کر آیا ہوں۔ ایک بشری رحمان کا ناولٹ ”اللہ میاں جی“ اوردوسرا ممتاز حیدر ڈاہر کا سرائیکی مجموعہ”اندھارے کی رات“ ۔میرا خیال ہے کہ بھابھی کے ہاتھ تمہارے پاس بہت سے مال پہنچ جائے گا۔ پڑھتے رہنا۔ ملتان میں ممتازاطہر کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوگئے۔ میں نے جو کیس کیاتھا وہ آہستہ آہستہ عدالت جا پہنچا ہے۔ موصوف نے اب اپنی ضمانت کرالی ہے ۔
ملتان میں نوشابہ نرگس کے شعری مجموعے کی تعارفی تقریب میں بھی شرکت کی۔لو بھئی اب میں ذرا انور سدید صاحب کے گھرجارہا ہوں ،باقی باتیں آکر کروں گا۔
جی بھائی میں واپس آگیا۔ انور سدید صاحب سے بھی ملاقات ہوئی اوررحمان مذنب سے بھی ملاقات ۔ رحمان مذنب کو تو تم بخوبی جانتے ہوگے۔ پنجابی ڈرامہ ”پتن“ انہوں نے ہی لکھا تھا۔ بہت اچھے آدمی ہیں۔ مجھے شاہ نورکے علاقے میں مکان میں ملا ہے ۔اقبال ٹاﺅن قریب ہی ہے جو ادیبوں، شاعروں کا گڑھ ہے۔واپسی پر رحمان صاحب مجھے اپنا گھر دکھانے لے گئے۔
ملتان میں قیام کے دوران پرسوں میں نے ایک انشائیہ نما مضمون لکھا عنوان ہے ”الو“۔ امروز کے جمعہ میگزین میں مضامین کا سلسلہ شروع کررہاہوں ۔یہ مضامین اس طرح ہوں گے ،الف سے الو، ب سے بدھو، ف سے فوجی، میم سے مولوی وغیرہ۔ الو والا مضمون تم نے پڑھ لیا ہوگا۔اس مضمون کا ایک فقرہ دیکھو، ”ایک بچے نے ہم سے پوچھا، بھائی جان عمران خان کے پٹھے اور الو کے پٹھے میں کیافرق ہوتا ہے۔ہم نے جواب دیا بیٹا عمران خان کا پٹھہ چڑھ جاتاہے مگر الو کاپٹھا نہیں چڑھتا“۔ پھرمیں نے الو نقادوں کابھی ذکر کیا۔ ”الوالعزم الو “ کابھی تذکرہ ہوا۔ قاسمی صاحب کے ایک شعر کابھی تختہ کردیا۔
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرجاﺅں گا
میں تو الو ہوں سمندر میں اترجاﺅں گا
ملتان میں اقبال ساغر صدیقی امین صاحب سے کہہ رہے تھے رضی نے لاہور جاکر عزیز اثری سے دوستی کرلی ہے۔اب ہرہفتے رضی اورشاکر شائع ہوا کریں گے۔ گزشتہ خط میں تمہیں حسنین اصغر تبسم کا سلام لکھاتھا یا نہیں ۔ اگرنہیں لکھا تو اب لکھ رہا ہوں۔ اگرلکھ دیاتھاتو بھی دوبارہ لکھ رہاہوں۔
لاہور میں موسم بدل رہاہے۔ ٹھنڈی ہوائیں ہیں ۔رفتہ رفتہ سردی آہی جائے گی۔ نیا لطیفہ سنو، ایک آدمی نے عورت سے کہا پنجابی ایسی زبان اے جیدے ہر جملے وچوں دومعنی نکلدے نے۔ عورت کہنے لگی کڈ کے وکھاﺅں، آدمی بولا، ایدے وی دومعنی نکلدے نے۔بھائی آج کل ایسے ایسے لطیفے موجودہیں کہ اپھارہ ہورہاہے۔ سننے والاجو کوئی نہیں۔ خیر اب نیند آرہی ہے ،تم بھی کام کرو،طاہر بھائی اور مظاہر بھائی کوسلام ،
تمہارا اپنارضی
10نومبر1985
خط صبح پوسٹ کروں گا۔
فیس بک کمینٹ

