واشنگٹن : امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایوان میں مواخذہ کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی۔ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران جنگ میں امریکا کو دھکیلنے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایوان میں مواخذہ کرنے کی کوشش ناکام بنادی گئی۔صدرٹرمپ کے مواخذے کی تحریک ڈیموکریٹ رکن کانگریس آل گرین نے پیش کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کیلئے صدارتی اختیارات کا غلط استعمال کیا۔
ٹرمپ کے مواخذے کی تحریک پیش کرنے کیلئے ٹیکساس کے رکن اسمبلی کی قرارداد پر ڈیموکریٹس بھی منقسم نظر آئے۔ کئی ڈیموکریٹک اراکین نے ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ تو بنایا مگر زیادہ تر نے مواخذے کی حمایت سے گریز کیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ مواخذے کی تحریک سے متعلق قرارداد 79 کے مقابلے میں 344 ووٹ سے مسترد کردی گئی۔ 128 ڈیموکریٹس نے بھی مواخذے کے خلاف ری پبلکنز کا ساتھ دیا تاکہ قرارداد پیش نہ کی جاسکے۔قرارداد پیش کرتےہوئے رکن کانگریس آل گرین نے کہا تھا کہ انہیں یہ قدم اٹھانےمیں خوشی نہیں تاہم کسی ایک شخص کو 30 کروڑ افراد پر غلبہ کاحق نہیں ہونا چاہیے۔کانگریس کی منظوری کے بغیرجنگ میں نہیں جاناچاہیے۔آل گرین نے کہا کہ انہوں نے یہ اقدام اس لیے کیاکیونکہ اب آئین معنی خیزہوگا یا بےمعنی ہوجائےگا۔
آل گرین صدر ٹرمپ کے شدید مخالفین میں سے ایک ہیں اور ان کے نزدیک ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کو مطلق العنانیت کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ آل گرین کا کہنا تھاکہ انہوں نے مواخذے کا قدم اس لیے اٹھایا تاکہ تاریخ میں یہ بات یاد رہے کہ صدر ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کے اقدامات پر کم سے کم ایک رکن کانگریس نظر رکھے ہوئے تھا۔
صدر ٹرمپ کے کانگریس سے خطاب کے موقع پربھی آل گرین نے غیرمعمولی احتجاج کیا تھا اور اپنی چھڑی لہرا کر کہا تھا کہ ٹرمپ کے پاس اس خطاب کا مینڈیٹ نہیں—فوٹو: فائل
صدر ٹرمپ کے کانگریس سے خطاب کے موقع پربھی آل گرین نے غیرمعمولی احتجاج کیا تھا اور اپنی چھڑی لہرا کر کہا تھا کہ ٹرمپ کے پاس اس خطاب کا مینڈیٹ نہیں جس پر سارجنٹ ایٹ آرمز کو بلا کر 78 برس کے آل گرین کو ایوان سے باہر نکال دیا گیا تھا۔یہ کانگریس میں اپنی نوعیت کا تاریخی واقعہ تھا۔
( بشکریہ : جیو نیوز )
فیس بک کمینٹ

