ستیہ پال آنندمعروف ہندوستانی نژاد امریکی شاعر، نقاد اور مصنف تھے۔ 24 اپریل 1931 میں کوٹ سارنگ میں پیدا ہوئے، جو اب پاکستان میں ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کے حصول کے بعد 1947 میں راولپنڈی کے سیکنڈری اسکول میں داخلہ لیا۔ تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان لدھیانہ( مشرقی پنجاب) چلا گیا ۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی ( چند ی گڑھ) سے انگریزی زبان میں تعلیمی امتیاز کے ساتھ ماسٹرز کیا۔ بعد ازاں انگریزی ادب اور فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔
انہوں نے انگریزی، اردو، ہندی اور پنجابی زبانوں میں افسانوں اور شاعری کی کئی کتابیں تخلیق کیں ۔ ان کے ناولوں میں’’ آہٹ، چوک گھنٹہ گھر، عشق موت اور زندگی، شہر کا ایک دن‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ’’جنی کے لیے، اپنے مرکز کی طر ف، دل کی بستی، اپنی اپنی زنجیر، پتھر کی صلیب‘‘ وغیرہ ستیہ پال کی لکھی ہوئی مختصر کہانیاں ہیں۔ آپ نے ہندی میں بھی کچھ کتابیں لکھیں جیسے ’’یوگ کی آواز، پینٹر باوری، آزادی کی پکار، بھری دل کی بستی، چوک گھنٹہ گھر، گیت اور غزلوں کا گلدستہ‘‘ ۔
ستیہ پال کی ادبی خدمات پر لکھی گئی کتابیں: ’’ستیہ پال کی نظم نگاری( ڈاکٹر اے عبداللہ)‘‘ اور ’’ ادب ساز(نصرت ظہیر)‘‘ شامل ہیں۔ستیہ پال نے ، ’’روبرو مرزا غالب‘‘ ؔ : ستیہ پال، ترتیب دی۔
ڈاکٹر ستیہ پال رواں ماہ 3 /اگست 2025 ء بروز اتوار ٹورنٹو، کینیڈا میں 94 برس کی عمر میں وفات پاگئے۔ اُردو ادب میں اُن کی ادبی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ بحیثیت ِ شاعر ستیہ پال آنند اُردو ادب میں نصف صدی سے زائد عرصہ تک لکھتے رہے۔پانچ سو سے زائد نظمیں تخلیق کیں۔ مطبوعہ شعری مجموعہ ہائے کلام کی تعداد آٹھ ہے۔ اس تمام عرصہ کے دوران اُن کی ادبی خدمات کا احاطہ کرنا آسان کام نہ ہوگا۔ ستیہ پال کے فن کی مختلف جہات سے متعلق مضامین، شعری مجموعوں کے پیش لفظ یا حرفِ آخر، مطبوعہ کتابوں پر تبصرے، عملی تنقید کے تجزیے اور مختلف جریدوں میں ان کے لئے مختص گوشوں میں تجزیاتی تحریریں، ہندو پاک میں منعقد کئے گئے سیمیناروںمیں ان کے بارے میںتحقیقی مضامین ان کی ادبی خدمات کے اعلٰی معیار کا بعین ثبوت ہیں۔
ڈاکٹر ستیہ پال آنند اُردو ادب میں ایک نظم گو شاعر کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ڈاکٹر ستیہ پال جیسے سخت گیر ’’غزل مخالف‘‘ کے ساتھ اہلِ سُخن کا جہاد تھا، جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ ہی سہی غزل گوئی ، اسلوب اور اس صنف کے موضوعات کے انتخاب میں تبدیلی آئی۔ غزل کے اس نئے آہنگ میں شعرا نے موضوعات، متون، اسالیب(استعارہ، تمثال سازی اور لفظیات) اپنے آس پاس کی زندگی سے لے رہے ہیں، تو یہ غلط نہ ہوگا۔ اور یہی نئی غزل ہے ، جس کے لئے ستیہ پال آنند نے ساری عمر جدوجہد کی۔ اس کے علاوہ شعری ادب میں کچھ اسلوبیاتی رویے ایسے ہیں جنہیں رواج صرف اور صرف ڈاکٹر ستیہ پال نے دیا۔ اور اب یہی طرز اور رویے باقاعدگی سے استعما ل میں لائے جارہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی ایک خوب صورت نظم، ’’باد خزاں کو کیا پروا ہے ، اکتوبر ہے‘‘
ملاحظہ ہو:
’’باد خزاں کو کیا پروا ہے ، اکتوبر ہے‘‘
کہرے کی اک میلی چادر تنی ہوئی ہے
اپنے گھر میں بیٹھا میں کھڑکی سے باہر دیکھ رہا ہوں
باہر سارے پیڑ
دریدہ پیلے یرقانی پتوں کے
مٹ میلے ملبوس میں لپٹے نصف برہنہ
باد خزاں سے الجھ رہے ہیں
حرف حرف پتوں کا ابجد
پت جھڑ کی بے رحم ہوا کو سونپ رہے ہیں
میں بھی الف سے چلتا چلتا
اب یائے معروف پہ پاؤں ٹکا کر بیٹھا
ایک قدم آگے مجہول کو دیکھ رہا ہوں
ننگے بچے دیمک چاٹے
عمر رسیدہ پیڑ بھی اپنا ابجد کھو کر
برف کا بوجھ نہیں سہہ پاتے گر جاتے ہیں
اکتوبر سے چل کر میں بھی
اپنے ابجد کی قطبینی یہ کی یخ بستہ چوکھٹ پر
جوں ہی شکستہ پاؤں رکھوں گا گر جاؤں گا
باد خزاں کو کیا پروا ہے
اس کو تو پیڑوں کو گرانا ہی آتا ہے
ڈاکٹر ستیہ پال آنند کا تخلیق کردہ ادب ایک عہد ساز اثاثہ ہے۔ نئے لکھنے والوں کے لئے اُن کی شاعری اور نثرروشنی کے مینارے کی حیثیت رکھتے ہیں۔اس مختصر سی تحریر میں اُن کی بھرپور اور اعلٰی پائے کی ادبی خدمات کے اعزاز ہم انہیں بھرپور خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
فیس بک کمینٹ

