آبیناز جان علیکالملکھاری

شکرگزاری آپ کو صحت مند رکھتی ہے ۔۔ آبیناز جان علی ( موریشس )

اپنے آس پاس نظر دوڑاتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم ہر اعتبار سے نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ احسان مند ہونا نہ صرف عاجزی کی ترجمانی کرتاہے بلکہ یہ اس بات کا بھی اعتراف ہے کہ دنیا میں اچھائی موجود ہے۔ شکر ادا کرنے سے ہم دوسروں کی عنایتوں کو سراہتے ہیں کیونکہ ہم زندگی کے اس موڑ تک ان کی سخاوت اور دریادلی کی معرفت پہنچے ہیں۔ شکر ادا نہ کرنے سے اپنی برکتوں پر نظر نہیں جاتی اور اس سے ہمیں خوشی نہیں ملتی ۔ یوں گمان ہوتا ہے کہ ہماری چیزیں کوئی معنی نہیں رکھتیں اور جو ہمارے پاس فی الحال موجود نہیں وہی سب کچھ ہے۔ شکر ادا کرنا وہ کنجی ہے جس کے ذریعے ہماری نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی توجہ ان چیزوں پر مبذول کریں گے جو ہمارے پاس نہیں تو ہم زندگی سے لبھی مطمئن نہیں ہو پائیں گے۔
انسانی ذہن احسان فراموشی کا قائل ہے۔ یہ اس وقت کی دین ہے جب ہم غاروں میں قیام کیا کرتے تھے۔ زندہ رہنے کے لئے خوب سے خوب تر کی تلاش نہایت ضروری تھی۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے میں یا ایک چیز سے دوسری چیزپر فتح پانے میں ہی ہوشیاری تھی۔
الحمداللہ کہنے سے ہماری نظر زندگی کی چھوٹی چھوٹی فتوحات پر پڑتی ہے جن سے زندگی ہمیں نوازتی رہتی ہے۔ زندگی پر مثبت رویہ رکھنا اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا جشن منانے سے ایک سکون قلب و ذہن پر طاری ہوتا ہے۔ سر پر چھت ہونا، تین وقت کا کھانا نصیب ہونا، نل کھولتے وقت صاف پانی دستیاب ہونا کسی رحمت سے کم نہیں۔ دن کا آغاز کافی کے کپ سے کرنا، پرسکون ملک میں رہائش ہونا، صحت مند جسم کا مالک ہونا اور خوبصورت خاندان کا حصّہ ہونا۔۔۔یہ سب نعمتیں ہی تو ہیں۔
مادہ پرستی کے اس دور میں ہم زیادہ سے زیادہ چیزوں کے حصول میں اس قدر منہمک رہتے ہیں کہ ہم اپنی جیت کو عام یا معمولی قرار دے کر مستقبل کی خوشی سے محروم ہوجاتے ہیں۔ جس دنیا میں انسانی قدر و منزلت شہرت اور دولت سے کی جاتی ہے وہاں ہر وقت شکر منانے سے مکمل جہاں سے وابستگی کا احساس اجاگر ہوتا ہے۔ اپنی توجہ اپنی کم مائیگی پر صرف کرنے کے بجائے اپنی خوشیوں پر مرکوز کرنے سے ہم حاجتمند ذہنیت کے حصار سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
یونانی لفظ مکاریوس خوش ہونا اور زندگی کے سردوگرم سے مبرہ ہونے کے معنی میں آتا ہے۔ لفظ مکاریوس سے مراد وہ شخص بھی ہوتا ہے جس کو زندگی نے اچھی صحت عطا کی ہو یا ثروت مند بنایا ہو۔ جبکہ شادمانی کا یونانی لفظ چے ریو ہے۔ اس کا مفہوم روح سے وابستہ اچھے مزاج کی انتہایعنی تسکینِ قلب ہے۔ قدیم یونانی معلومات کے تحت چے ریو صرف خدا میں پایا جاتا ہے اور بڑی حکمت اور دانائی سے انسان کی روح میں منتقل ہوپاتا ہے۔
شکرگزار ہونے سے شادمانی آتی ہے۔ خوشیوں کا محور خارجی چیزیں ہیں جبکہ شادمانی ہماری روح سے جڑی ہے۔ اس سے عمیق روحانی مسرت کا تجربہ نصیب ہوتا ہے۔ شادمانی اسی وقت ملتی ہے جب ہم خود کو اس بات کا یقین دلا پاتے ہیں کہ دنیا کا کاروبار ہمارے حق میں کام کر رہا ہے۔ زندہ ہونے کا لطف اس وقت ہی آتا ہے جب ہمارے قلب و ذہن کو اپنی اندونی خزانوں کا یقین ہو۔ اسی سے خود اعتمادی پنپتی ہے۔
ان تمام تر خوبیوں کے باوجود ہم اکثر الحمدللہ کہنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس کی اہم وجہ خوف ہے۔ شکر ادا کرنے کے لئے صدق دلی کی ضرورت پڑتی ہے اور نسان اس شدید تجربے سے اکثرخائف رہتا ہے۔ کبھی کبھی اس کا بھی ڈررہتا ہے کہ شکر کرنے سے اور اپنی خوش بختی کا اعتراف کرنے سے خوشیوں کو نظر لگ جائے گی اور وہ دور بھاگ جائیں گی۔ شاید ایسا کرنے سے ہم مصیبت کو دعوت دے رہے ہیں۔ یا پھر اب ہم نے اپنی خوشی کو قبول کر لیا ہے تو پھر اس کے بعد کیا ہونے والا ہے۔ یہ سوچ ہمیں پریشانی میں مبتلا کرتی ہے۔ جیسے ایک ماں اپنے بچے کو پالنے میں سوتے ہوئے دیکھ کر ایک پل کے لئے سوچ لیتی ہے کہ اس بچے کی آمد نے اس کی زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں بھر دیں ہیں، پھر اچانک یہ خوف گھر کرنے لگتا ہے کہ کہیں بچے کو کچھ ہو نہ جائے۔
بہر کیف شکرگزاری کے کئی فوائدو ثمرات ہیں۔ اعترافِ نعمت سے جسم میں کئی ہارمون پھیل جاتے ہیں۔ دوپومین اشتیاق پیدا کرتا ہے اور کام کی تکمیل کی تسلی کو اجاگر کرتا ہے۔ ایندورفین خوشی عطا کرتا ہے۔ اوکسیٹوسین اعتماد، اتحاد، اتفاق اور اشتراک کے جذبے کو ابھارتا ہے۔ سیراتونین خوش مزاجی کا سبب بنتا ہے جس سے ہاضمہ، قوتِ حافظہ اور نیندپر خوشگوار اثرات پڑتے ہیں اور ہمیں اس بات کا یقین ہونے لگتا ہے کہ ہم اہمیت اور پذیرائی کے لائق ہیں۔
اظہارِ احسان مندی سے رونما ہونے والے جذبات جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط تر بناتے ہیں۔ جسمانی و روحانی طور پر زیادہ تندرست ہونے سے زندگی کو نئے ذاویے سے دیکھنے کی بصیرت ملتی ہے۔ لحاظہ سردی اور زکام کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ ہم زیادہ ورزش کر پاتے ہیں اور دوسروں کو زیادہ سہارا بھی دے پاتے ہیں۔ احسان شناسی اچھی کارکردگی کا پروردہ ہے، مزاج کو متاثرکرتاہے اور ہم آرام محسوس کرنے لگتے ہیں ۔ منت شناسی سے ہم اپنی خوشیوں کا جشن مناتے ہیں۔ درآنحالیکہ خوشیاں ہماری روزمرہ زندگی میں تحلیل ہوتی رہتی ہے۔ وقت نکال کر اپنے محسن اور اپنے خدا کی نعمتوں، رحمتوں اور برکتوں کے شکرگزار ہونے سے ٹھنڈک و طمانیت کا خوشگوار احساس طاری ہوتا ہے۔ اظہارِ احسانمندی کے کئی طریقے ممکن ہیں۔ ایک ڈائری میں اپنے احسانات رقم کئے جا سکتے ہیں۔ یا پھر اس کی مصوری بنائی جا سکتی ہے۔ دعاﺅں میں بھی خدا کاشکر ادا کیا جا سکتا ہے۔ یا پھر کاغذ کے پرچوں پر اپنی برکتوں کو رقم کرنے کے بعد اس کو طے کر کے ایک ڈبے میں رکھا جاسکتا ہے۔ مشکل وقت میں ان کو کھول کر پڑھنے سے دل کو راحت ملتی ہے اور حوصلہ بلند ہوتا ہے۔ ہر روز خود سے سوال کریں کہ آج، یا اس ہفتے، یااس مہینے میرے ساتھ کون سا اچھا واقعہ پیش آیا ہے۔ اس طرح مثبت چیزوں کی طرف دھیان دینے میں ذہن کی بھی تربیت ہوتی ہے۔
وقت نکال کر دوسروں کی کرم فرمائی کے لئے ان کو شکریہ کا ایک خط بھیجا جا سکتا ہے تاکہ دوسروں کی اچھائیوں اور ان کی مہربانی کا اعتراف کیا جا سکے۔ اس طرح وہ آئندہ بھی اپنی عنایتوں سے ہمیں نوازنے سے قاصرنہیں ہونگے اور دنیا میں نیکی پھیلتی رہے گی۔ نیز دوسروں کی اچھائی کا باور بختہ ہوگا اور خود اعتمادی بڑھے گی اور انہیں تعظیم کا احساس ہوگا۔ دوسروں کے مشفقانہ رویہ کا اعتراف کرنے سے ہمارے رشتے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔مراقبہ کرتے ہوئے ہم اپنے رشتوں، کام، صحت، روحانی زندگی اور مالی حالت پر تدبر کرتے ہوئے ممنونیت کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اپنے فون پر ا لارم لگا کر اپنی مصروف کن زندگی سے وقت نکال کر اپنی نعمتوں پر تشکر کے چند فقرے کہہ سکتے ہیں۔
میرے ذاتی تجربے سے منت شناسی منفی لوگوں کو زندگی سے دور رکھتی ہے۔ منفی سوچ اتنی پامال ہے کہ وہ انسان میں اچھائی کے جذبے کو کم کر سکتی ہے۔ مستقل منت کشی سے ذہن کو زندگی کے روشن پہلوﺅں کی طرف راغب کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح ہم یاسیت اور مایوسی کی دلدل سے با آسانی نکل پاتے ہیں۔ گویا احسانمندی مشکل کے وقت مسند کی طرح سہارے کا کام کرتی ہے۔
رسولِ خدا ﷺ کا فرمانا ہے کہ جو دوسروں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ خدا کا شکر ادا نہیں کرتا۔ خدا بھی قرآن میں فرماتا ہے کہ اگر تم احسانمند بنو گے تو میں تمہیں بڑھاﺅں گا۔ شکر ادا کرنے سے زندگی میں مزید نعمتیں داخل ہوتی ہیں۔ اگلی صبح جب آپ نیند سے بیدار ہوں تو شکر ادا کریں کہ آپ کو اس دنیا میں ایک اور دن نصیب ہوا اور اگر آپ کے گھر میں سب لوگ ابھی بھی بقیدِ حیات ہیں تو یہ مقامِ مسرت ہے اور الحمدللہ کہنے کا ایک اور موقع بھی ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker