اہل دانش نوٹ فرما لیں کہ اگلے چند دنوں میں یہ بالکل واضح ہو جائے گا کہ پاکستانی سیاستدانوں میں سے امریکہ کا اصل اور بڑا ایجنٹ کون کون ہے؟ کیونکہ امریکی ریاستی ادارے کھلم کھلا ان کی حمایت میں سامنے آ جائیں گے۔ امریکی میڈیا کا ایک مخصوص حلقہ بھی اس کی حمایت میں سرگرم ہو جائے گا؛ مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں پیشرفت کا آغاز ہوچکا ہے۔۔۔ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی میڈیا اطلاعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے گا اور یہ سب کچھ اس انداز میں ہوگا کہ سب کچھ قابل یقین لگے گا کیوں کہ اسٹیبلشمنٹ کی روایتی طاقت پرستی اور زورآوری کے زعم کے باعث اندرون و بیرون ملک پاکستانی ریاست کی شہرت پہلے ہی اچھی نہیں ہے علاوہ ازیں اب بین الاقوامی ایجنڈے میں کسی کم ترقی یافتہ ملک میں کسی بڑی اور طاقتور اور منہ زور فوج اور ایک حد سے زیادہ موثر انٹیلیجنس ایجنسی کی گنجائش نہیں ہے خاص طور پر مسلمان دنیا میں عراق اور لیبیا کے بعد پاکستان اور ایران اس ایجنڈے پر سرپرست قرار دیئے جاتے ہیں۔ پاکستان کو معاشی میدان جدل میں گھیر کر ایک ایسی گھاٹ کی طرف دھکیلا جارہا ہے جہاں وہ بےبس ہوکر ہر (ناقابل قبول) شرط ماننے پر مجبور ہو جائے۔۔۔
اگلے کچھ عرصے میں پاکستان کے اندر پراکسی جنگ بھی بہت تیز کی جاسکتی ہے، کئی طرح کی بین الاقوامی پابندیوں میں اضافہ ہونے لگے گا کیونکہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی روایتی امریکہ انحصاری کے باعث عالمی اور قومی سطح پر عمومی خیال یہ ہے کہ دیگر عالمی قوتیں خاص طور پر چین اور روس وغیرہ اس پر کسی طور اعتماد نہیں کریں گے اور پاکستان کے بچاو کیلئے جیسا کہ قرائن بتا رہے ہیں۔ ایک حد سے آگے نہیں بڑھیں گے۔ اس سلسلے میں مختلف تجزیہ نگار پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے بطور ادارہ اور اس کے خاص افراد کے نجی مفادات کا تذکرہ بھی کرتے رہے ہیں۔ یہی معاملہ پاکستان کے دیگر مراعات یافتہ طبقوں اور طالع آزما افراد کا بھی ہے جن کے سارے انڈے امریکہ اور مغربی یورپ کی ٹوکریوں میں رکھے ہوئے ییں پاکستان میں ایک مخصوص انداز کی پاپولسٹ سیاست کا ڈول بھی اس عالمی ایجنڈے کے ایسے ہی مقاصد کے حصول کےلئے ڈالا گیا ہے جو فی الوقت بے جہت اور کنفیوزڈ لگتی ہے ۔
عالمی تاریخ میں پاپولسٹ سیاست کے پیچھے برا بھلا کوئی نہ کوئی نظریہ دکھائی دیتا ہے لیکن ہمارے ہاں پاپولسٹ سیاست کا یہ تجربہ عجیب ہے کہ اس کے پیچھے کوئی نظریہ ہی نہیں ہے اگرچہ اس بے جہت تحریک کے حامی اس درویش کی اس رائے پر بہت سیخ پا ہونگے(اور میں خوفزدہ ہوں کہ وہ مجھے اپنی مخصوص زبان میں دھوئیں گے) لیکن اس کا کیا کریں کہ معاملات ایسے ہی ہیں ۔ نفرت البتہ ایک ایسا موثر جذبہ اور حربہ ہے جو ہر فسطائی اور پاپولسٹ تحریک کے خمیر میں شامل ہوتا ہے جو ہماری اس دیسی تحریک(اگر اسے تحریک کہا جاسکتا ہے تو) کی بھی بنیاد ہے۔ مراعات یافتہ طبقوں،سیاستدانوں، اداروں اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف عوامی بیزاری اور نفرت کی تاریخی، سماجی، معاشی اور سیاسی وجوہات ہیں جن پر تفصیلی بات ہو سکتی ہے بہرحال عوام اپنی تمام تر محرومیوں مصیبتوں اور بدحالی کا سبب مذکورہ طبقوں اداروں اور افراد کو سمجھتے ہیں اور ان سب کا سرپرست وہ امریکہ کو دیکھتے ہیں اس لئے امریکہ سے عوامی سطح کی نفرت بھی ہمارا قومی ورثہ اور حسب ضرورت کئی سیاستدانوں کا اہم سیاسی اثاثہ رہا ہے جس کو حسب موقع و ضرورت استعمال کیا جاتا ہے اور شواہد یہی بتاتے ہیں امریکہ دشمنی کے ان نام نہاد اعلان ناموں کی خود امریکہ بہادر سے پیشگی اجازت لے لی جاتی ہے کیوں وہی امریکہ دشمن ان نعروں کے بل بوتے پر انتخابات(چاہے آزادانہ ہوں یا انجینئرڈ) جیت کر امریکہ ہی کی گود میں جا بیٹھتے ہیں۔
(جاری ہے)
فیس بک کمینٹ

