عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

ایک ہوتی تھی صبح اور اب ایک ہے شام ِ:روزن دیوار سے /عطا ء الحق قاسمی

آج اتوار کا دن ہے، آپ پوچھ سکتے ہیں کہ میں نے صرف یہ کیوں نہیں کہا کہ آج اتوار ہے۔ اتوار کا دن کہنے کی مجھے کیا ضرورت تھی؟آپ کا اعتراض بجا ہے لیکن میرے استاد گرامی چول گرامی کہا کرتے ہیں کہ بات پوری کیا کرو، اس میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہئے۔ میں اگر صرف یہ لکھتا کہ آج اتوار ہے، تو انہوں نے میری کلاس لینا تھی کہ دن تو سورج ڈھلنے تک ہوتا ہے، اب پڑھنے والے کو کیاپتہ چلے گا کہ تم اتوار کی صبح کی بات کررہے ہو،دوپہر کی بات کررہے ہو یا تم نے سہ پہر کی بات کی ہے، استاد چول گرامی اگرچہ میرے استاد ہیں، مگر میں ان کی آدھی بات مانتا ہوں، ساری بات ماننے سے لوگ مجھے بھی چول سمجھنے لگیں گے، چنانچہ میں نے صرف اتوار کی بجائے اتوار کا دن لکھ دیا ہے جس میں صبح دوپہر اور سہ پہر بھی آجاتے ہیں، شام بالکل نہیں آتی، امید ہے استاد گرامی میرے اس تھوڑے کہنے کو ’’بوتا‘‘ سمجھتے ہوئے مجھے اپنی شاگردی سے عاق نہیں کریں گے۔ استاد چول گرامی 1947ء میں گڑ گاؤں سے ہجرت کر کے لاہور تشریف لے آئے تھے اور اب انہیں یہ شہر دل و جان سے بھی عزیز ہے، جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں ان کے شاگرد ان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، جب بور ہوتے ہیں تو ان کے قدموں میں آن بیٹھتے ہیں اور ان کی ’’اتوار کے دن‘‘ ایسی موشگافیوں سے محظوظ ہوتے ہیں، ان کا نام نامی اسم گرامی تو کچھ اور ہے مگر شاگردوں کا دیا ہوا نام چول گرامی انہیں اتنا پسند آیا کہ اب وہ خود کوبھی چول گرامی کہلاتے ہیں، شروع شروع میں انہوں نے ہم لوگوں سے پوچھا تھا کہ یہ چول کیا ہوتا ہے جس پر ہم نے انہیں دو چار نہایت معزز دکھائی دینے والے افراد سے ملایا جن میں ایک یونیورسٹی کے پروفیسر تھے، ایک صف اول کے ادیب تھے ایک بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر تھے، ایک ریٹائرڈ جج تھے مگر اپنی عادات و اطوار کی وجہ سے شہر کے صف اول کے چول حضرات میں شامل سمجھے جاتے ہیں، جس پر استاد گرامی چول گرامی نے چول کہلانا خود کے لئے اعزاز سمجھااور اب وہ پورے فخر سے خود کو چول کہلاتےاور لکھتے ہیں۔
ایک تو میں اپنی اس عادت بد سے بہت تنگ ہوں کہ بات کوئی اور شروع کرتا ہوں اور وہ بات کہیں درمیان میں رہ جاتی ہے اور میں ادھر ادھر کی ہانکنے لگتا ہوں، میں آپ کو بتانے جارہا تھا کہ آج اتوار کا دن ہے، میں گھر کے برآمدے میں بیٹھا ہوں، میٹھی میٹھی دھوپ نکلی ہوئی ہے، میرے گھر کے چھوٹے سے لان میں رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے ہیں اور میں نہایت لذیز چائے کی چسکیاں لے رہا ہوں، میں چائے کے معاملے میں بہت نازک مزاج ہوں، چائے کارنگ پنک ہونا چاہئے اور اس کا گھونٹ بھریں تو لگے چائے پی رہے ہیں کوئی بھنگ نہیں پی رہے۔ ایک دفعہ بیرون ملک دوستوں نے لنچ اور ڈنر پہلے سے بک کئے ہوئے تھے اور کئی دوست شکوہ کناں تھے کہ انہیں خدمت کا موقع نہیں دیا جارہا، ایک مداح تو بضد ہوگئے کہ کچھ بھی ہو آپ نے میری طرف آنا ہے، چنانچہ میں نے بادل نخواستہ ان کی ناشتے کی دعوت قبول کرلی۔ ناشتہ کیا تھا، وہ میرا ذوق خوراک ہی جانتا ہے، زہر مار کیااور اس توقع پر کہ چائے منہ کا ذائقہ بہتر کردے گی۔ مگر لگتا تھا کہ ناشتے اور چائے کے درمیان بدمزگی کا مقابلہ تھا جس میں چائے جیت گئی تھی۔ میزبان کو چائے پر خصوصی طور پر ناز تھا، چنانچہ اس نے داد طلب نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ’’آپ کو چائے کیسی لگی؟‘‘ انسان آخر کہاں تک صبر کرسکتا ہے، میں نے کہا ’’برادر مزا نہیں آیا‘‘ اس کو میری یہ بات تیرکی طرح چبھی اور درد ناک آواز میں بولا ’’جناب یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، یہ چائے نہیں، خاص طور پر آپ کے لئے دودھ پتی بنائی تھی‘‘ وہ بچارا صحیح تھا کیونکہ ہمارے ہاں دودھ پتی کا اہتمام خاص مہمانوں کے لئے کیا جاتا ہے جبکہ میرے نزدیک دودھ پتی نہ دودھ کا مزا دیتی ہے اور نہ پتی کا۔ میرے خیال میں اس کا شمار تیسری جنس میں ہونا چاہئے، میں تو ’’ٹرک مارکہ‘‘ چائے کا رسیا ہوں۔
دیکھا پھر وہی ہوا نا، میں ایک دفعہ پھر بھٹک گیا، بات اتوار کی سہانی صبح کی ہورہی تھی اور اس کا رخ تیسری جنس کی طرف ہوگیا اور ہاں تیسری جنس ان دنوں لاہور کے ہر ٹریفک سگنل پر جوق در جوق کھڑی نظر آتی ہے۔ ہمارے ہاں مشہور ہے کہ ’’اونتروں‘‘ (بے اولاد) کی دعا جلد قبول ہوتی ہے اور ظاہر ہے خواجہ سرا بے اولاد ہی ہوتے ہیں، چنانچہ بہت سے لوگ انہیں کچھ دے دلا کر ان سے دعا کی توقع کرتے ہیں، یہ آپ کی گاڑی کے گرد جمع ہو جاتے ہیں اور تالیاں بجانا شروع کردیتے ہیں، مجھے موسیقی سے شروع ہی سے شغف رہا ہے چنانچہ اگر کوئی تال میں تالی بجائے تو اسے شاباش دے کر گاڑی آگے بڑھا دیتا ہوں، پیچھے سے ان کی کچھ گالی نما آوازیں سنائی دیتی ہیں، جس پر میں توجہ دینا مناسب نہیں سمجھتا۔ میں اس وقت خصوصاً سخت بدمزا ہوتا ہوں جب میں دیکھتا ہوں کہ چھ چھ فٹ کے کھسرے بھی گاڑی کے گرد جمع ہیں، جنہوں نے شیو بھی نہیں کیا ہوتا اور ان کی آوازیں فلم مغل اعظم کے ظل سبحانی پرتھوی راج جیسی بلند آہنگ ہوتی ہیں۔ اب ان ’’تیسری دنیا کے لوگوں ‘‘کا کیا کرے کوئی۔ خصوصاً اس صورت میں جب اسی طرح کے لوگ ان مسندوں پر بھی بیٹھے ہوں جو ہماری قسمتوں کے فیصلے کرتے ہیں۔
اور اب میں نے بالآخر فیصلہ کیا ہے کہ اتوار کی سہانی صبح پر چار حرف بھیجے جائیں کہ جب چاروں طرف چول قسم کے لوگ اور ’’تیسری دنیا کے لوگ‘‘ اعلیٰ مسندوں پر رونق افروز ہوں، تو سرما کی خوبصورت صبح کے ذکر کی بجائے سرما کی اداس شاموں کا ذکر کرتے ہوئے شعیب بن عزیز کے اس شعر پر بات ختم کردینا چاہئے کہ
اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker