عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

عطا ء الحق قاسمی کا کالم:ڈرو اس وقت سے زمین کے خداؤ!

اس دن کا ہم کو بہت بے تابی سے انتظار ہے جب ہم ’’ان شاء اللّٰہ‘‘ کا لفظ عدم تحفظ کے احساس کی وجہ سے نہیں بلکہ اس یقین کی بدولت کہیں گے کہ خدا قادر مطلق ہے اور یوں کوئی کام ہمارے اٹل ارادوں کے برعکس بھی ہوسکتا ہے۔ فی الحال جب ہم کہتے ہیں کہ ان شاء اللّٰہ میں کل آپ کے پاس آئوں گا تو اس ’’ان شاء اللّٰہ‘‘ کے پیچھے ایک خوف بھی ہوتا ہے جو لااینڈ آرڈر کی دن بدن خراب ہوتی ہوئی صورت حال کے نتیجے میں ہمارے لاشعور کا حصہ بن گیا ہے اور وہ خوف یہ ہے کہ ممکن ہے مجھے کل کا دن دیکھنا نصیب ہی نہ ہوسکے۔ میں گھر سے نکلوں تو دو موٹر سائیکل سوار میرا راستہ روک لیں اور میری کنپٹی پر اپنا ریوالور خالی کردیں یا بھرے بازار میں دو پارٹیوں کے درمیان فائرنگ کی زد میں آکر مارا جائوں یا اغوا برائے تاوان والے اٹھا کر لے جائیں یا کسی ملکی یا غیر ملکی ایجنسی کے کارندے مجھے کسی نامعلوم مقام پر لے جائیں یا اسی قسم کا کوئی اور حادثہ پیش آجائے، اسی طرح ہماری مائیں اور بہنیں جو سارا سارا دن مصلے پر بیٹھ کر وظیفے پڑھتی رہتی ہیں ان کابھی ایک بڑا مقصد ردِ بلا ہی ہوتا ہے، وہ اپنے پیاروں کی جان و مال کے تحفظ کے لئے خدا کے حضور دعائیں مانگتی ہیں جب کوئی فرد گھر سے باہر جانے لگتا ہے ان کے لبوں پر ان کی حفاظت کی دعائیں ہوتی ہیں تاکہ یہ دعائیں نادیدہ دشمن کے مقابلے میں حصار کا کام دیں۔ میں نے گزشتہ دنوں ڈاکٹر سے اپنی ایک داڑھ نکلوائی اور جاتے ہوئے پوچھا کہ مجھے کون سی اینٹی بائیوٹک استعمال کرنا چاہئے تو انہوں نے کہا ’’کسی اینٹی بائیوٹک کی ضرورت نہیں کیونکہ مجھے اپنے اوزاروں کے بارے میں یقین ہے کہ یہ جراثیم سے پاک ہیں‘‘۔ کاش جب ہم ’’ان شاء اللّٰہ‘‘ کہیں تو صرف خدا کے قادر مطلق ہونے پر یقین کے اظہار کے لئے کہیں، ورنہ ہمیں مکمل اطمینان ہو کہ گھر کے اندر اور گھر کے باہر ریاست میری جان و مال کے تحفظ کی مکمل ذمہ دار ہے۔
ہم میں سے کوئی بے گناہ علاقے کے ایس ایچ او کی گرفت میں آتا ہے یا جب وہ منصفوں کے سامنے پیش ہوتا ہے تو اسے انصاف کی کوئی امید نہیں ہوتی۔ اس کے اہل خانہ انصاف کے لئے اللّٰہ سے رجوع کرنے کے لئے گھر میں آیت کریمہ کا ختم کراتے ہیں اور خدا کے حضور گڑگڑا کر دعائیں مانگی جاتی ہیں تاکہ منصف کے دل میں رحم آ جائے اور بے گناہ اپنے گھر بخیر و عافیت لوٹ سکے!
وہ تمام مسائل جنہیں حل کرنا ریاست کے فرائض میں شامل ہے اس کے لئے ہم پیروں سے تعویز لیتے ہیں۔ عالموں کے کہنے پر کالے بکرے کی سری اور ماش کی دال وغیرہ کسی چوک میں رکھ دیتے ہیں۔ ہم میں سے بے شمار لوگ جب بیمار پڑتے ہیں تو ان کےپاس علاج کے لئے پیسے نہیں ہوتے ریاست انہیں صرف مرنے کی سہولت مہیا کرتی ہے۔ چنانچہ نادار اور مجبور لوگ مولوی صاحب سے دم کرا کر شفا کےلئے آسمان کی طرف دیکھنا شروع کردیتے ہیں۔ جب کسی بچی کی شادی جہیز نہ ہونے کے باعث نہیں ہو پاتی، بچی کے والدین پھر آسمان کی طرف دیکھنا شروع کردیتے ہیں اور جب ان کی شنوائی نہ زمین پر ہوتی ہے اور نہ آسمان پر تو پھر وہ زمین اور آسمان دونوں سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ اسی طرح بےروزگارنوجوانوں کا ایک ’’ریوڑ‘‘ ہے جو ڈگریاں ہاتھوں میں تھامے حکمرانوں کے دروازے پر دستکیں دیتا ہے لیکن نوکریاں ’’میرٹ‘‘ پر ملتی ہیں اور میرٹ کا حتمی فیصلہ ’’اوپر والوں‘‘ نے کرنا ہوتا ہے۔ سو وہ بھی آخر میں ڈاکو بنتے ہیں یا خود کشی کرتے ہیں اور یا پھر دم درود میں سکون تلاش کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جن ممالک میں ریاست اپنے شہریوں کو علاج، روزگار اور تحفظ فراہم کرتی ہے انہیں انصاف مہیا کرتی ہےکیا وہاں لوگ خدا کے منکر ہوجاتے ہیں؟وہ خدا کے منکر نہیں ہوتے خدا کے خود ساختہ نمائندوں کے منکر ضرور ہو جاتے ہیں لہٰذا ہماری دین دار ریاست کو محض اس خوف سے اپنے فرائض سے غفلت نہیں برتنی چاہئے کہ اگر لوگوں کو سب کچھ مل گیا تو وہ کہیں خدا سے بے نیاز نہ ہو جائیں اور یوں قیامت کے روز یہ ریاستی اہلکار خدا کو منہ نہ دکھاسکیں حالانکہ قیامت کا روز صاحبان اقتدار پر صرف اس صورت میں بھاری ہوگا اگر وہ خدا کے بندوں پر ان کے حقوق پورے کئے بغیر اپنی حکومت کا رعب جمائے رکھیں گے۔ سو! اے صاحبانِ اقتدار ڈرو اس وقت سے جو تم پر آنے والاہے!
آخر میں اسد اعوان کی ایک غزل:
خواب گاہوں میں سبھی شعلہ بدن اُٹھ بیٹھے
چاندنی پھیل گئی اہلِ سخن اُٹھ بیٹھے
ساقیا! ہم تو اذانوں سے نہ جاگے لیکن
تیری آواز پہ ہم توبہ شکن اُٹھ بیٹھے
اک نظر دیکھا تھا دریا کی روانی کی طرف
میرے اندر کے سبھی تشنہ دہن اُٹھ بیٹھے
کون آیا ہے اسیروں سے یہ ملنے کے لئے
آج زندان میں پابندِ رسن اُٹھ بیٹھے
باغبانوں کی یہ سازش بھی کھلی ہے ہم پر
گلبدن سارے سرِ صحنِ چمن اُٹھ بیٹھے
تیری آنکھوں کا فسوں ہے کہ کرشمہ ہے کوئی
تُو نے دیکھا ہے تو ہم چشمِ زدن اُٹھ بیٹھے
میں نے زنخوں سے ملاقات کا سوچا ہے اسد
اِس خبر پر تو مرے وعدہ شکن اُٹھ بیٹھے
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker