دنیا میں ایک نئی اور خوفناک وباءکورونا نے 44 ممالک میں لاک ڈاؤن اور کرفیو کے ذریعے ایک ارب لوگوں کو گھروں میں محصور کر دیا ہے شہر کے شہر اور بستیاں ویران اور سنسان ہو کر رہ گئی ہیں پاکستان میں بھی یہ وباءتیزی سے پھیلتی دکھائی دے رہی ہے اور حکومت نے عوام کے تعاون سے اس کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے جس میں فوج قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیاسی و سماجی طبقے بھی اپنا حصہ ڈالنے کیلئے پرعزم ہیں۔
حکومت کیلئے بھی ایک نیا چیلنج سامنے آیا ہے اور ٹڈی دل کے حملے کے بعد کورونا وائرس سے نپٹنے کیلئے حکمت عملی وضع کر لی گئی ہے بقول منیر نیازی
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
سوشل میڈیا پر بھی کورونا وائرس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ایسے میں الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے ماہرین سے دست بستہ گزارش ہے کہ عوام تک آگاہی میں اپنا موثر کردار ادا کریں نہ کہ اپنی ماہرانہ صلاحیت سے متاثر کرنے کیلئے عوام کو ڈرانے کا باعث بنیں اس وقت لوگوں کو کورونا وائرس سے ڈرانے کی نہیں بلکہ اس موذی وباءکے خلاف لڑنے کی ضرورت ہے۔
ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ موت برحق ہے اور اپنے وقت پر آتی ہے اس کے باوجود ”نیند کیوں رات بھر نہیں آتی “والی صورت حال بھی درپیش ہے۔
حیرت کی بات ہے کہ امت مسلمہ اپنے مرکز سے دور ہو گئی ہے کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ خالق اپنی مخلوق سے ناراض ہو گیا ہے۔ بے موسمی بارشیں اور کورونا جیسی وباءنے لوگوں کو گھروں میں محصور کر دیا ہے۔ مسجد، مندر، مے خانے، سینما گھر، شاپنگ مالز، ریسٹورنٹ، تفریح گاہیں سبھی ویران ہو گئے ہیں جہاں خوبصورت چہروں ، نقرئی قہقہوں اور روشنیوں کی چمک دمک اور رنگوں کی بہار دکھائی دیتی تھی وہاں اب حیرانیوں اور ویرانیوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔
منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
جہاں لوگ گلوبل ویلج کا حصہ بنتے ہوئے دور دراز کے لوگوں سے رابطے پر تھے جہاں ایک شہر ایک بستی اور ایک گلی کے مکین اپنے ہمسایوں کے دکھ درد اور خوشی غمی سے بے نیاز اور لاپرواہ تھے اب پھر ہر شخص ایک دوسرے سے کنی کتراتا نظر آ رہا ہے کورونا وائرس ہوا میں ہے یا فضا میں ہے ہر کوئی ایک بے نام سے خوف کا شکار ہے۔ بار بار ہاتھ دھونے کی تلقین کی جا رہی ہے کہ کہیں لوگ اس وائرس کی وجہ سے زندگی سے بھی ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے منع کیا جا رہا ہے پہلے بھی لوگوں کے دل نہیں ملتے تھے اب ہاتھ ملانے سے بھی رہے ایسے ماحول میں بھی ہاتھ دکھانے والے گلے پڑنے والے لوگ اپنی شعبدہ بازیاں دکھا رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے ذریعے اس وائرس کے اثرات روکنے اور کم کرنے کے اقدامات یقینا لائق تحسین ہیں جس پر حکومت اور عوام کو ایک پیج پر ہونا چاہیے کو رونا سے خوف زدہ ہونے کی بجائے احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ اللہ کی طرف بھی رجوع کرنا چاہیے۔ عفو و درگزر کے رویے کے ساتھ ساتھ استغفار کی تسبیح کرنا چاہیے۔ حکومتوں اور عوام کی بے حسی کی وجہ سے اب بہت سے لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام 234 دن سے لاک ڈاؤن کا شکار ہیں دنیا کے کئی ممالک میں انسانوں پر ظلم و بربربیت کی داستانیں رقم ہو رہی ہیں۔ عافیہ صدیقی ایک عرصے سے امریکہ کی قیدی ہے۔
ایک طرف اس وباءکو امریکہ اور اسرائیل کی سازش قرار دیا جا رہا ہے اور دوسری طرف یہ ہم سب کے اعمال کا نتیجہ دکھائی دے رہی ہے۔ آج عمرے اور زیارات سے واپس آنے والوں کے ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں مسلمان اور دیگر مذاہب کے لوگوں کا ان کی مرکزی قومی اور مقامی عبادت گاہوں میں داخلہ محدود کر دیا گیا ہے کیا ایسا تو نہیں کہ خدا بندوں کی ریاکاری اور دکھاوے کی وجہ سے ناراض ہو گیا ہے کہ ہم دکھاوے کی عبادتیں کر کے حقوق العباد کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اللہ کی مخلوق کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ جھوٹ، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، ریاکاری، منافقت، حسد اور لڑائی جھگڑے کے ذریعے معاشرتی مسائل اور بگاڑ کا باعث بن رہے ہیں۔ اللہ جو اپنی مخلوص سے سترماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے اگر ناراض ہے تو پھر آئیے اسے اپنے سجدوں کے ذریعے مناتے ہیں، اپنے ہاتھوں کے پیالے میں دعاؤں کے تحفے سجاتے ہیں اپنے اشکوں میں ندامت کے دیئے جلاتے ہیں۔اپنے دکھ درد اور پریشانی کا احساس ہوتے ہوئے دوسروں کیلئے جینا بھی سیکھتے ہیں دوسروں کیلئے بھی آسانیاں تلاش کرتے ہیں۔ تکبر، غرور ، لالچ اور منافقت کے بتوں کو پاش پاش کرتے ہیں۔ اپنا ظاہر باطن ایک کرتے ہیں تو وہ خالق تو صرف کن اور فیکون پر قادر ہے سب ٹھیک کر دے گا۔
آج ہر شہر کے مکین ہاتھوں میں دستانے اور چہروں پر ماسک چھپائے ایک دوسرے سے چھپتے پھرتے ہیں آپس میں پیار محبت روا رکھنے مصافحہ کرنے اور گلے ملنے کی اسلامی اور اخلاقی اقدار سے پرہیز کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
کے مصداق ایک دوسرے سے ہاتھ چھڑاتے نظر آ رہے ہیں اور گلوبل ویلج کی منزلیں طے کرتے پھر تنہائی کی سٹیج پر آ کھڑے ہوئے ہیں ۔ محمود شام کے بقول
عجیب درد ہے جس کی دوا ہے تنہائی
بقائے شہر ہے اب شہر کے اجڑنے میں
اور بقول جون ایلیاءاب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے لیکن شہر کی بے چراغ گلیوں میں زندگی ابھی انسانوں کو ڈھونڈتی نظر آتی ہے مگر لوگ ابھی حفاظتی اور احتیاطی تدابیر کے نرغے میں ہیں گویا
یونہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر بھی رہا کرو
وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا رو
بشیر بدر کے یہ اشعار موجودہ موسم اور مزاج کی صحیح عکاسی کر رہے ہیں کہ اب تو شام ہی نہیں صبح بھی گھروں میں گزارنے کے احکام جاری ہو چکے ہیں خدا سے دعا ہے کہ تنہائی اور خوف کا یہ ویران موسم جلد تبدیل ہو اور ہر طرف ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے اور ہولے ہولے چلتی بادنسیم بیماروں کیلئے وجہ قرار بن جائے۔
فیس بک کمینٹ

