اہم خبریں

میت سے کورونا نہیں پھیلتا : جنازے باعزت طریقے سے کرائے جائیں : عالمی ادارہ صحت

لندن : دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین کے بہت دلخراش مناظر سامنے آئے ہیں خاص ھور پر ان میتوں کے جن کا ایک بھی پیارا ان کی آخری رسومات میں شامل نہ ہوا ہو۔
یہ مناظر نہ صرف کورونا وائرس سے موت واقع ہونے کے خوف کو بڑھاوا دے رہے ہیں بلکہ لوگوں کے دلوں میں کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی لاشوں سے بھی خوف کو جنم دے رہے ہیں۔
تو کیا کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی لاشوں سے کووڈ 19 وائرس دوسروں میں منتقل ہو سکتا ہے؟ کیا ان کی جنازے ادا کرنا محفوظ ہے اور کیا ان کی آخری رسومات باعزت طریقے سے انجام دی جا سکتی ہیں؟
عالمی ادارہ صحت کے مطابق جب تک حفاظتی اقدامات کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے تب تک کورونا سے متاثرہ مریض کی لاش سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔عام اوقات میں کورونا کا مرض زیادہ تر متاثرہ فرد کے کھانسنے، چھینکنے اور بولنے سے خارج ہونے والے انسانی تھوک کے چھینٹوں سے پھیلتا ہے۔ تاہم یہ وائرس کسی بھی سطح پر کئی دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی پین امریکن ہیلتھ آرگنائزیشن کے ترجمان ولیم ادو کرو کا رواں ماہ ایک پریس کانفرنس میں کا کہنا تھا کہ ’آج کی تاریخ تک متاثرہ افراد کی لاشوں سے وائرس منتقل ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارا یہ کہنا کہ متاثرہ شخص کی لاش سے وائرس منتقل نہیں ہوا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اپنے پیاروں کی میت کو چومنا یا پیار کرنا شروع کر دیں۔‘’ہمیں ہر صورت میں خود پر قابو پانا ہے اور احتیاطی تدابیر کو اپنانا ہے۔‘
مارچ میں عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا تھا کہ ’ جریان خون کے امراض جیسا کہ ایبولا، ماربرگ یا ہیضہ کے علاوہ لاشیں عمومی طور پر جراثیم منتقل نہیں کرتیں ہیں۔
صرف انفلوائزہ سے مرنے والے افراد کے پوسٹ مارٹم کے دوران اس لاش کی مناسب انداز میں دیکھ بھال نہیں کی جائے تو شخص کے پھیھڑوں میں موجود وائرس کسی دوسرے کو متاثر کر سکتا ہے
تاہم وہ افراد جو کسی سانس کی موذی بیماری سے ہلاک ہوتے ہیں ان کی پھیھڑوں اور دیگر اعضا میں وائرس زندہ رہ سکتا ہے۔اور یہ وائرس پوسٹ مارٹم کے دوران یا لاش کی اندرونی صفائی کے دوران طبی آلات کے ذریعے خارج ہو سکتے ہیں۔
کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کے رشتہ داروں اور دوستوں کو یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ متاثرہ فرد کی تدفین یا آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے مناسب تربیت یافتہ عملہ ہی ہاتھ لگائے۔دنیا کے بعض مقامات میں کورونا کے باعث ہونے والی ہلاکتوں نے تجہیز و تدفین کی صنعت میں بحران پیدا کیا ہے۔اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی ہدایات کے باعث مختلف ممالک نے کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کے نماز جنازہ میں شرکت پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ تاہم دیگر ممالک نے جنازوں میں محدود تعداد کے ساتھ شرکت کی اجازت دی ہوئی ہے۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا سے ہلاک ہونے والے فرد کے دوست اور اہلخانہ جنازے کے دوران تمام حفاظتی اقدامات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے لاش کو دیکھ سکتے ہیں۔ان حفاظتی اقدامات کے تحت وہ لاش کو چھوئے اور چومے مت، دوران جنازہ سماجی فاصلے کو برقرار رکھیں، فاصلے سے لاش کو دیکھیں اور اپنے ہاتھ اچھی طرح پانی اور صابن سے دھوئیں۔ایسے افراد جن میں سانس کی بیماری کی علامات ہوں وہ ان جنازوں میں شرکت مت کریں، یا کم از کم اپنے چہرے کو ماسک سے ڈھانپیں تاکہ وہ یہ انفیکشن دوسروں کو منتقل نہ کر سکیں۔اس کے علاوہ بچوں اور 60 برس سے زائد عمر والے افراد لاش کو براہ راست ہاتھ مت لگائیں۔ ایسے افراد بھی لاش کے قریب مت جائیں جنھیں پہلے سے کوئی عارضہ لاحق ہو۔
عالمی ادارہ صحت کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ عام طور پر ایک غلط خیال ہے کہ ان افراد کو جو کسی موذی مرض کے باعث ہلاک ہوتے کہ کی لاشوں کو جلایا جانا چاہیے، یہ ایک سماجی عمل اور دستیاب وسائل سے منسلک عمل ہے۔‘تاہم وہ افراد جو لاش کی تدفین یا آخری رسومات کے عمل میں کام کرتے ہیں مثلائ وہ افراد کو تدفین کے دوران مردہ کو لحد میں اتارتے ہیں کو لازمی دستانے پہننے چاہیے اور مردہ کو لحد میں اتارنے کے بعد اچھی طرح ہاتھ دھوئیں اور دستانے کو مناسب انداز میں تلف کریں۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی میتوں کو دفنانے میں بے احتیاطی اور جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ کورونا سے ہلاک ہونے والے شخص کی ذاتی استمال کی اشیا کو جلایا جائے، انھیں دستانے پہن کر اچھی طرح جراثیم کش ادویات جن میں بلیچ یا 70 فیصد الکوحل موجود ہو یا ڈیٹرجنٹ سے صاف کیا جا سکتا ہے۔متاثرہ افراد کے کپڑوں کو بھی مشین میں گرم پانی میں سرف یا ڈیٹرجنٹ ڈال کر دھویا جا سکتا ہے یا پھر گرم پانی میں کسی ڈرم میں بھگو کر چھڑی کی مدد سے دھویا جا سکتا ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker