ڈاکٹر علی شاذفکالملکھاری

ڈاکٹر علی شاذف کا کالم : ” لعنت بھیجیں اس نوکری پر “

میں نے پچھلے سال یعنی 2020 اور اس سال بھی بےروزگاری کے دوران بچوں کے کنسلٹنٹ کی نوکری کے لیے کئی جگہوں پر درخواستیں دیں۔ کوئی مجھے انٹرویو کے لیے بلاتا، کوئی نہ بلاتا۔ کوئی فوراً کال کرتا، کوئی چار سے چھ ماہ بعد یاد کرتا۔ ان میں زیادہ تر نوکریاں عام ماہر امراض بچگان کی ہوتیں۔ ایک بار پیڈیاٹرک انکالوجی کی جاب بھی آئی تھی ۔انٹرویو کے لیے کہیں میں خود پیش ہوتا، کہیں آن لائن بات چیت ہوتی۔ سچ پوچھیں تو زیادہ تر نوکریوں میں مجھے خود دلچسپی نہیں ہوتی تھی اور میں انہیں صاف بتا دیتا تھا کہ میں نے مجبوراً آپ کے ہاں درخواست جمع کروائی ہے۔ ایک دفعہ میں نے انٹرویو میں کہا کہ میری دلچسپی پیڈیاٹرک انکالوجی میں ہے لیکن میں جنرل پیڈز بھی کر لوں گا۔ اس بات پر انٹرویو کرنے والی ایک خاتون کرسی پیچھے دھکیل کر اٹھیں اور اونچی ہیل والی جوتی پٹختی ہوئی وہاں سے چلی گئیں۔ باقی لوگوں نے فوراً مجھے کہا کہ آپ تشریف لے جائیے، ضرورت ہوئی تو ہم آپ سے رابطہ کریں گے۔
ان انٹرویوز کے دوران بعض اوقات بہت دلچسپ سوالات کیے جاتے ۔مثلاً ایک صاحب میری سی وی دیکھتے ہوئے بولے کہ 2001 میں آپ نے بہاولپور سے ہاؤس جاب کی، پھر آپ ملتان آ گئے، بہاولپور اور ملتان کی ہاؤس جابز کے درمیان دو ماہ کا وقفہ ہے ۔ان دو ماہ میں آپ کیا کرتے رہے؟ آپ نے ہاؤس جاب کے بعد پوسٹ گریجویشن کے لیے تربیت شروع کرنے میں اتنے مہینے لگا دیے، آپ اتنے ماہ کیا کرتے رہے۔ یوں انہوں نے ساری نوکریوں کے درمیان موجود فراغت کے وقفوں کی وجوہات دریافت کیں۔کچھ مجھے یاد آئیں، کچھ نہیں۔ ایک صاحب نے آن لائن مجھ سے کہا کہ آپ نے کراچی کے لیے درخواست دے دی جب کہ آپ لاہور میں رہتے ہیں، کراچی میں کام کرنا آپ کے لیے ممکن ہی نہیں ہے۔ بعد ازاں انہی صاحب نے مجھے کوئٹہ کے لیے رکھ لیا ۔
ایک جگہ مجھے بہت کم تنخواہ بتائی گئی۔ میں نے اس وجہ سے آفر مسترد کر دی کہ یہ جاب ملتان میں تھی۔ ایک دن لاہور میں مجھے اس ہسپتال سے کال آئی کہ کمپنی کے مالک یعنی ہسپتال کے بڑے صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں، وہ لاہور میں فلاں جگہ رہتے ہیں، آپ وہاں جا کر ان سے مل لیں۔ میں ان کے پاس چلا گیا۔ وہ ایک شاندار بنگلہ تھا ،ایک عالیشان ڈرائنگ روم میں کچھ دیر انتظار کے بعد نیکر اور ٹی شرٹ میں ملبوس ایک صاحب وہاں تشریف لائے۔ بولے میں ایک ریٹائرڈ جرنیل ہوں اور یہ ہسپتال میں شوقیہ چلا رہا ہوں ۔کہنے لگے آپ جیسے ڈاکٹر ہماری قوم کا سرمایہ ہیں۔ میرا سینہ فوجیوں کی طرح چوڑا ہو گیا۔ پھر بولے کہ ہم ہسپتال کی پالیسیاں کسی ایک فرد کی وجہ سے نہیں بدلتے، لیکن آپ کے لیے ہم اپنا قانون بدلیں گے۔ آپ کو ہم سینیئر رجسٹرار نہیں بلکہ اسسٹنٹ پروفیسر کا عہدہ دیں گے ۔لیکن ہم آپ کو اسسٹنٹ پروفیسر والی تنخواہ نہیں دے سکیں گے۔ آپ کو ہم سینیئر رجسٹرار کی تنخواہ سے دس ہزار روپے زیادہ دیں گے۔ میں نے ان کی چائے کی تعریف کی اور ان کے کمرے میں موجود مصوری کے مہنگے شاہکاروں کو بھی سراہا۔ پھر وہ ایک فوجی کی طرح اٹھے اور بولے، آل رائٹ جینٹل مین! ویلکم ٹو آور آرگنائزیشن۔ بعد میں میں نے بیگم سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ لعنت بھیجیں اس نوکری پر۔ ایک جگہ انٹرویو لینے والے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے اور مجھے جواب دیا کہ ان کے حساب سے میں ان کے لیے اوور کوالیفائیڈ ہوں۔ ایک ہسپتال کے مالک نے مجھے بتایا کہ ان کے ہسپتال میں بہت سے بچے پیدا ہوتے ہیں اور بچوں کے ڈاکٹر کو ہر بچے کو دیکھنے کے لیے آنا پڑتا ہے، آپ کیسے ہر بچے کو آ کر دیکھ سکیں گے کیونکہ آپ ہمارے ہسپتال سے پورے 26.5 کلومیٹر دور رہتے ہیں۔
ان انٹرویوز میں ناکامی سے میں مایوس نہیں ہوتا تھا بلکہ دل کو تسلی دیتا رہتا تھا کہ میں فارغ نہیں بیٹھا۔آخری انٹرویو جس میں مجھے منتخب کر لیا گیا، میں نے یہی بتایا کہ میں فارغ نہیں بیٹھا بلکہ جگہ جگہ دھکے کھاتا رہا۔ ایک بےروزگار شخص کے لیے دھکے کھانے سے بڑا تجربہ کوئی نہیں ہوتا۔ ڈاکٹروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی پیشہ ورانہ زندگی چالیس کے بعد شروع ہوتی ہے۔ لیکن میں نے اپنی زندگی میں سب سے زیادہ دھکے چالیس سال کی عمر کے بعد کھائے۔ آنے والے وقت کا کچھ پتہ نہیں کیونکہ اس نظام میں ہم غریبوں کی قسمت کے فیصلے ہم نہیں بلکہ ہماری کمپنیوں کے مالک کرتے ہیں۔ میرے ساتھ پوسٹ گریجویشن کرنے والے آج کروڑوں کی جائیدادیں بنائے بیٹھے ہیں اور فیس بک پر اپنی نئی کاروں اور کوٹھیوں کی نمائش کرتے نظر آتے ہیں، ان کے نزدیک بس یہی زندگی ہے اور یہی دنیا کی اوقات ہے کیونکہ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker