ڈاکٹر علی شاذفکالملکھاری

ڈاکٹر علی شاذف کا کالم: شوکت خانم کینسر ہسپتال کا حال : اندر کی کہانی

شوکت خانم کینسر ہسپتال لاہور غریبوں کی خدمت کے لیے نہیں بلکہ امیروں کی عیاشی کے لیے بنایا گیا تھا۔ دنیا بھر سے بےبہا خیرات، زکوٰۃ، فطرانہ اور جانوروں کی کھالیں وغیرہ تک اکٹھی کر کے وہاں کینسر کے علاج کے نام پر سرمایہ داری کا دھندہ کیا جاتا ہے۔ خیرات لیتے ہوئے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ آپ خیرات دے سکتے ہیں یا نہیں لیکن علاج کرنے سے پہلے ہر کسی سے یہ ضرور پوچھا جاتا ہے کہ آپ علاج کا خرچ برداشت کر سکتے ہیں یا نہیں۔
ہسپتال کے دروازے کے پاس ایک واک ان کلینک ہے جس میں ناتجربہ کار لوگ بٹھائے جاتے ہیں۔ ان کے پاس سرطان کے امراض کی ایک لسٹ اور ہسپتال میں علاج کے لیے قبول کرنے کا معیار تحریری طور پر درج شکل میں موجود ہوتا ہے ۔ یہ معیار ہر تین ماہ کے بعد تبدیل ہوتا رہتا ہے. بےشمار مریضوں کو اس معیار پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے انکار کر دیا جاتا ہے اور دوسرے ہسپتالوں کی راہ دکھا دی جاتی ہے۔ سینکڑوں میل دور سے علاج کی آس میں آئے ہوئے کئی لوگ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ شاید ان کا مرض قابل علاج ہے ہی نہیں جب کہ حقیقت میں اس کا بہت اچھا علاج موجود ہوتا ہے۔ صرف پچھتر فیصد مریضوں کا علاج مفت کیا جاتا ہے. باقی مریضوں میں سے کچھ کو 100 فیصد، کچھ کو 50 فیصد اور کچھ کو 25 فیصد اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں ۔ یاد رہے کہ ایک کم سے کم خطرناک کینسر کے علاج کا خرچ بھی دس سے پندرہ لاکھ تک ہوتا ہے۔ لوگوں کو پرائیویٹ علاج کروانے کی پیشکش بھی کی جاتی ہے جس کے مطابق انہوں نے لاکھوں روپے ایڈوانس جمع کروانا ہوتے ہیں اور اس کے بعد لاکھوں کے علاج کا تخمینہ لگا کر الگ سے بتایا جاتا ہے۔ یہ آفر سنتے ہی اکثریت کو راہ فرار اختیار کرنا پڑتی ہے۔ دوردراز سے آئے ہوئے غریب مریضوں کو گورمے کمپنی کے بنائے ہوئے ایک سرائے میں رکھا جاتا ہے جس کی حالت کسی مہاجر کیمپ جیسی ہے۔ سرائے میں جگہ محدود ہونے کی وجہ سے غریب مریضوں اور ان کے لواحقین کو فٹ پاتھ پر سونا پڑتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ہسپتال کے باہر ایک چمن بھی ان مریضوں کے رہنے کا ٹھکانہ تھا لیکن اسے پل بنانے کے لیے مسمار کر دیا گیا ہے۔ اردگرد بہت سے سستے ہوٹل بھی موجود ہیں جو غریب مریضوں سے منہ مانگے دام لیتے ہیں۔
ہسپتال کے اندر شدید طبقاتی تقسیم موجود ہے۔ ایک طبقہ صرف عیاشی جب کہ دوسرا اکثریتی طبقہ صرف کام کرتا ہے۔ کام کرنے والا بیشتر عملہ شدید ذہنی دباؤ کی وجہ سے یا خود ہسپتال چھوڑکر چلا جاتا ہے یا اسے وہاں سے نکال دیا جاتا ہے۔ وہاں کام کرنے والوں کے ذہنی دباؤ کا اندازہ تین سال پہلے وہاں کے ایک ماہر ڈاکٹر کی افسوسناک خودکشی سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس معاملے کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی تھی تاکہ ہسپتال کی ساکھ متاثر نہ ہو۔
پی ٹی آئی کی حکومت میں وہاں کے سی ای او کو وفاقی وزیر کے برابر ایک عہدہ دے دیا گیا ہے۔ ان صاحب کی نااہلی ملک میں کورونا کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور ویکسینیشن میں بےانتہا بدانتظامی سے ثابت ہو چکی ہے۔ ہسپتال میں جونیئرڈاکٹرز کو ملک سے باہر کانفرنسوں میں یا ٹریننگ کے لیے جانے کی خاطر اپنے اخراجات خود برداشت کرنا پڑتے ہیں‌ جب کہ امیر اور سینیر ڈاکٹروں کو مفت یہ سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔
شوکت خانم لاہور کی طرز پر پشاور میں بھی ایک ہسپتال بنایا گیا ہے جہاں کام کرنے کے لیے کوئی ملک سے باہر کا تربیت یافتہ ڈاکٹر تیار نہیں ہوتا جب کہ اس ملک کے تربیت یافتہ ڈاکٹر ہسپتال کے معیار پر پورے نہیں اترتے ۔ ہسپتال مریضوں سے زیادہ خرچہ مارکیٹنگ پر کرتا ہے۔ کینسر کے غریب اور شکل و صورت سے پیارے لگنے والے بچوں کو ماڈل بنا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ بھیک اکٹھی کی جا سکے۔ ملک بھر میں شوکت خانم لیبارٹریوں کا ایک جال بچھایا گیا ہے جہاں عام سے عام ٹیسٹ بھی مہنگے داموں کیے جاتے ہیں۔ یہ پیسے بھی سرمایہ دار انتظامیہ کی جیبوں میں جاتے ہیں جب کہ بتایا کچھ اور جاتا ہے۔
ہر سال ایک شوکت خانم سمپوزیم بھی منعقد کیا جاتا ہے جہاں دنیا بھر سے پسندیدہ ڈاکٹروں کو نام نہاد ترقی یافتہ ملکوں کے افسانے سنانے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔ اس سمپوزیم کا انعقاد پرل کونٹینیٹل جیسے مہنگے ہوٹل میں کیا جاتا ہے۔ وہاں بہت سے جونیر غریب ڈاکٹر بھی مدعو کیے جاتے ہیں لیکن انہیں ہوٹل کا مہنگا کھانا اپنے پیسوں سے کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
یہ ہسپتال بھی پی ٹی آئی کی حکومت کی طرح 1992 کے کرکٹ ورلڈکپ کا تحفہ ہے جس نے عوام کو ملک کی خدمت کے نام پر دھوکہ ہی دیا ہے۔ اس وقت حالات یہ ہیں کہ یہ سارا ملک شوکت خانم اسٹیٹ بن چکا ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker