ڈاکٹر علی شاذفکالملکھاری

ڈاکٹر علی شاذف کا کالم : رشوت دے کر نوکری لینے والے سرخے اور پھونکوں سے طب کا چراغ جلانے والے مولوی کی کتھا

2012 میں یہ فیشنی سرخا ہیلتھ سیکریٹیریٹ لاہور میں بھاری رشوت دے کر چلڈرن ہسپتال ملتان میں سرکاری میڈیکل آفیسر اور اعزازی سینئر رجسٹرار تعینات ہو گیا۔ رشوت لینے والے ایڈیشنل سیکریٹری ہیلتھ نے مجھ سے میری تعلیمی قابلیت پوچھی۔ میں نے بتایا کہ حال ہی میں ایف سی پی ایس کا امتحان پاس کیا ہے۔ نوجوان سیکریٹری نے مجھے گھور کر دیکھا اور بولا، “کیوں نہ آپ کو پنجاب کے کسی بی ایچ یو پر تعینات کر دیا جائے”. میں چپ رہا. پھر وہ بولا، “آپ کہاں جانا چاہتے ہیں؟”. مجھے ان دنوں پیڈز کارڈیالوجی میں دوسری فیلوشپ کرنے کا بہت شوق تھا کیونکہ میں 3 سال کارڈیالوجی ملتان میں کام کر چکا تھا۔ ان دنوں دو مولوی پیڈیاٹرک کارڈیالوجسٹ وہاں کام کرتے تھے۔ دونوں انتہائی خودغرض انسان تھے۔ وہ لوگ اپنے جونیرز کو ایکوکارڈیوگرافی نہیں سکھاتے تھے کیونکہ اس صورت میں ان کا بزنس متاثر ہو سکتا تھا۔ پیڈیاٹرک کارڈیالوجسٹ کا بریڈ اینڈ بٹر ان دنوں ایکو ہی ہوا کرتی تھی۔ مجھے کیتھ لیب میں کام کرنا بہت پسند تھا۔ وہاں ہمیں دل کے مختلف امراض میں مبتلا بچوں کی انجیوگرافی وغیرہ کرنے کا موقع ملتا رہتا تھا۔ سیکرٹری کے پوچھنے پر میں نے فوراً جواب دیا کہ میری پوسٹنگ کارڈیالوجی ملتان میں کر دیں۔ سیکرٹری نے کہا کہ اس کے خیال میں چلڈرن ہسپتال ملتان میں میری زیادہ ضرورت ہے۔ میں نے سوچا کہ وہاں بھی ایک پیڈیاٹرک کارڈیالوجی کا یونٹ ہے، تو میں وہاں بھی کام کر سکتا ہوں، سو میں نے ہاں کردی۔
میں خوشی خوشی تعیناتی کے احکامات لے کر چلڈرن ہسپتال ملتان پہنچ گیا۔ وہاں ان دنوں مولوی عمران نامی پروفیسر ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ تھے۔ ان کے ساتھ میں پہلے بھی نشتر ہسپتال ملتان میں پانچ چھ سال کام کر چکا تھا اور وہ تجربہ بےحد ناخوشگوار رہا تھا۔ موصوف شدید نرگسیت کے شکار اور انتہائی مغرور انسان تھے۔ اپنے من پسند ڈاکٹروں میں گھرے رہتے تھے اور بےحد خوشا مد پسند تھے۔ خود کو طبی تحقیق کا ماہر سمجھتے تھے جب کہ تحقیق کی الف ب بھی نہیں جانتے تھے۔ سائنس کی بجائے اپنی ذاتی رائے اور قرآنی آیات اور پھونکوں وغیرہ کی مدد سے بچوں کے علاج پر یقین رکھتے تھے۔ میں ان کے ناپسندیدہ افراد میں شامل تھا کیونکہ میں غیرمذہبی اور محنتی تھا اور چاپلوسی کے فن سے ناآشنا تھا۔ حضور کچھ میڈیسن کمپنیوں کی مخصوص ادویات لکھنے کی ہدایات دیتے رہتے تھے اور خدمت خلق کا ڈھونگ بھی بخوبی رچاتے تھے۔ اونچے پائنچوں والی شلوار اور لمبی داڑھی رکھنے کی وجہ سے معاشرے میں انہیں ایک بلند و بالا مقام حاصل تھا۔بلا کے منافق تھے اور منافقت کی ترویج بھی کرتے تھے۔ خواتین میں مقبول تھے کیونکہ بباطن مکار اور بظاہر معصوم تھے۔ کم گو تھے تاکہ ان کی جہالت لوگوں پر کم کھلے۔ بہرحال میں ان صاحب کے پاس وہ خط لے کر پہنچا۔ پوچھنے لگے کہ کہا‌ں جانا چاہتے ہو۔ میں نے انہیں اپنا پیڈیاٹرک کارڈیالوجی کا تجربہ بتایا اور عرض کی مجھے اسی شعبے میں بھیج دیا جائے۔ لیکن انہوں نے حکم جاری کیا کہ آپ ہیماٹولوجی یعنی شعبہ خون میں جائیے اور ایمرجنسی ڈیوٹی بھی ادا کیجیے۔ میں ان دنوں (اور کسی حد تک اب بھی) بڑوں کے سامنے بحث نہیں کرتا تھا کیونکہ میرے والدین نے میری تربیت ہی کچھ اس طرح کی تھی۔
میں نے ہیماٹولوجی یونٹ جوائن کر لیا اور ساتھ ساتھ ایمرجینسی وارڈ میں بھی سینیر رجسٹرار کی ڈیوٹیاں کرنے لگا۔ سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجینسیاں غریبوں کو قابل علاج بیماریوں سے مارنے کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ وہاں آپ بےحد مجبوری اور بےبسی میں کام کرتے ہیں اور اپنی آنکھوں کے سامنے بچوں کو مرتا ہوا دیکھتے رہتے ہیں۔ غریب خاندان اپنے بچوں کی اموات پر زیادہ شورشرابا نہیں کرتے اور انہیں اللہ کی رضا سمجھ کر چپ چاپ وہاں سے چلے جاتے ہیں ۔ہم ڈاکٹر ان ایمرجینسیوں کے خدا ہوتے ہیں کیونکہ وہاں ہونے والی اموات میں ہمارا ہاتھ بھی ہوتا ہے ۔ان اموات کو ظاہر کرنا یا نہ کرنا بھی ہمارے اختیار میں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر چوبیس گھنٹوں میں بیس اموات ہوں تو ہم صرف دو ظاہر کر کے اٹھارہ کے چارٹ غائب کر سکتے ہیں۔ کسی معمولی بیماری کے ساتھ داخل ہونے والے بچے کو اس کی موت کے بعد انتہائی بیمار ظاہر کرنا بھی ہم بخوبی جانتے ہیں۔ ایمرجینسی وارڈ میں کام کرنا یا نہ کرنا بھی آپ کی مرضی ہے، سب مریضوں کو توجہ سے دیکھنے سے آپ کی ذہنی حالت خراب ہو سکتی ہے اور اس کا اثر آپ کی نجی پریکٹس پر پڑ سکتا ہے۔
ایک دفعہ عید کے دنوں میں میں ایمرجینسی ڈیوٹی پر تھا۔ عید کے دن اکثر میں ہسپتال میں گزارنا پسند کرتا تھا کیونکہ اکثریت کو یہ ڈیوٹی کرنا پسند نہیں تھی۔ اس ڈیوٹی کے دوران ہم نے بہت زیادہ مریض بچے داخل کیے۔ عید پر تعینات دو خواتین ہاؤس آفیسرز غیرحاضر تھیں۔ عید کے بعد میں ان سے ملا تو ان سے کہا کہ وہ مجھے تحریری جواب دیں کہ وہ عید پر کیوں نہیں آ سکیں اور یہ جواب میں پروفیسر عمران اقبال کے پاس لے کر جاؤں گا۔ آدھے گھنٹے بعد مجھے ایم ایس آفس سے بلاوا آ گیا۔ میں ڈاکٹر آفتاب کے دفتر میں پہنچا جو ان دنوں وہاں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ تھے ۔ دیکھا تو وہ دونوں نوجوان خواتین وہاں موجود تھیں۔ ڈاکٹر آفتاب نے مجھے بیٹھنے کو کہا اور ایک نوٹیفیکیشن میرے ہاتھ میں تھما دیا جو کام کرنے والی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے بارے میں تھا۔ اس کے مطابق اگر کوئی مرد ملازم ایسا کرے گا تو اسے نوکری سے برطرف کر دیا جائے گا۔ مجھ غریب کے پسینے چھوٹ گئے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں خواتین سے معذرت کروں۔ میں نے فوراً معذرت کی اور وہاں سے چلا آیا۔ جان بچی سو لاکھوں پائے۔ کچھ دن بعد میرے موبائل پر ایم ایس صاحب کا فون آیا اور انہوں نے مجھے ایک خاتون کے ساتھ آئے ہوئے بچے کا معائنہ کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خاتون ان کے بہت قریب ہیں اس لیے ان کے مریض کا اچھی طرح چیک اپ کروں اور انہیں رپورٹ دوں۔ وہ انتہائی پرکشش خاتون تھیں اور میں انہیں دیکھتے ہی سمجھ گیا کہ ایم ایس صاحب سے ان کے تعلقات کی نوعیت کیا تھی۔
چلڈرن ہسپتال میں سرطان اور خون کے مریضوں کی حالت زار دیکھ کر میں شدید مایوس ہوا۔ یہ مریض حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوتے کیونکہ ہمارے ہاں اکثر بچوں کی اموات انتہائی قابل علاج بیماریوں جیسے اسہال، نمونیا، ٹائیفائیڈ بخار، ملیریا اور ٹی بی وغیرہ کی وجہ سے ہو جاتی ہیں۔ اس صورتحال میں کینسر کے بچوں کو کون پوچھ سکتا ہے جن کی تعداد اور اموات کی شرح دوسرے بچوں کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہے۔ اسی دوران میں نے آغاخان ہسپتال کراچی میں بچوں کے کینسر کی فیلوشپ کے لیے درخواست دے دی اور انٹرویو دینے کے لیے میں خود کراچی جا پہنچا۔ ڈاکٹر زہرا فدو نے مجھے فیلوشپ کے لیے منتخب کر لیا اور وہیں سے میری زندگی کا ایک نیا سفر بھی شروع ہو گیا۔ فیلوشپ کے بعد میں نے سرکاری نوکری کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker