میں اور میرے والدین مہاجر نہیں ہیں کیونکہ ہم سب قیام پاکستان کے بعد پیدا ہوئے. میرے والد لاہور، میری والدہ مظفر گڑھ اور میں خود پتوکی ضلع قصور میں پیدا ہوا. اس لحاظ سے ہم تینوں پنجابی ہیں. لیکن ہمیں پھر بھی اردو بولنے والے مہاجرین سمجھا جاتا ہے کیونکہ ہمارے اجداد نے 1947 کے خونی بٹوارے کے بعد مرادآباد ہندوستان سے ہجرت کی تھی. اس سے پہلے ہمارے آبا کہیں اور، اور اس سے پہلے کہیں اور آباد تھے. 21 سال سے ہم ملتان میں مقیم ہیں. میری بیوی اور ان کے خاندان کا تعلق تونسہ شریف سے ہے اور وہ سرائیکی زبان بولتے ہیں. میرے بچے ملتان میں پیدا ہوئے لیکن وہ اپنی والدہ کے سرائیکی ہونے کے باوجود اردو بولتے ہیں. پھر بھی چونکہ ان کی والدہ سرائیکی ہیں اس لیے تکنیکی اعتبار سے وہ سرائیکی اسپیکنگ ہیں.
یعنی میں اور میرے بیوی بچے مختلف اقوام سے تعلق رکھتے ہیں. ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے خاندان کے اندر قومی تقسیم موجود ہے لیکن ہم سب کو اس کا ادراک نہیں ہیں. اس تقسیم سے صرف ایک ہی طبقہ واقف ہے اور وہی اس کا پرچار کرتا نظر آتا ہے. اس طبقے کو ہم قوم پرست طبقہ کہتے ہیں. میں نے اور میری بیوی دونوں نے غریب گھرانوں میں آنکھ کھولی. لیکن قومیت کی بنیاد پر ہم میں سے صرف میری بیوی اور بچے مظلوم ہیں کیونکہ وہ مظلوم سرائیکی خطے کے باسی ہیں.
قومیت کے معنی سمجھ سے بالاتر ہیں. دنیا میں موجود تمام ریاستیں خود کو اقوام کہتی ہیں. انہیں اقوام عالم بھی کہا جاتا ہے. یعنی عالمی سطح پر سرحدوں کے ذریعے بٹے ہوئے لوگوں کو ان کی ریاستوں کے حوالے سے ان اقوام کے لوگ کہا جاتا ہے جیسے امریکی، برطانوی، اطالوی، ایرانی، سعودی، سوڈانی یا نائیجیرین اقوام. تقسیم ہند قومیت کی بنیاد پر ہوئی. اس میں مذہب کے نام پر ہندو اور مسلمان کے الگ الگ قومی تشخص کا تصور دیا گیا. جناح صاحب کے مطابق برصغیر میں مسلمان قوم اس دن وجود میں آئی جس دن سندھ کی ایک مظلوم لڑکی کی آواز پر محمد بن قاسم نے ہندوستان پر حملہ کیا. تقسیم کے بعد ہندو اور مسلمان اقوام کا تصور فوراً ختم ہو گیا اور ریاستی پہچان کی بنیاد پر پاکستانی اور ہندوستانی اقوام وجود میں آ گئیں. اس تصور کے وجود میں آتے ہی ہندوستان اور پاکستان میں موجود بہت سے مختلف مذاہب کے لوگ اپنے اپنے مذاہب سے بالاتر ہو کر صرف دو اقوام میں تقسیم ہو گئے. یعنی ہندوستانی مسلمان، مسلمان نہیں بلکہ ہندوستانی اور پاکستانی ہندو، ہندو نہیں بلکہ پاکستانی قوم بن گئے. جوں جوں وقت گزرتا گیا ان دونوں ریاستوں میں قومیت کا تصور بھی بدلتا گیا. کچھ اقوام اپنی برادریوں کے نام پر مختلف اقوام بن گئیں جیسے سید، راجپوت، تیلی، موچی، ارائیں وغیرہ. اس کے علاوہ مختلف صوبوں کے نام پر ان میں آباد لوگ کشمیری، بنگالی، گجراتی، سندھی. بلوچی، پختون، پنجابی اور سرائیکی اقوام وغیرہ سے تعلق رکھنے والے افراد کہلانے لگے. 1947 کی تقسیم کے بعد 1971 میں ایک اور تقسیم بنگالی قوم کے الگ تشخص کی بنیاد پر ہوئی اور بنگلہ دیش معرض وجود میں آگیا.
1971 کی تقسیم کے بعد پاکستان کا صوبہ مغربی پاکستان چار صوبوں پنجاب، سندھ، سرحد اور بلوچستان میں بٹ گیا. پھر قومیت کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم کی جدوجہد کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا. ہندوستان میں بھی خالصتان کی تحریک سکھ قومیت کے نام پر شروع ہوئی جبکہ سکھ ایک قوم نہیں بلکہ مذہب تھا. پاکستان میں سرمایہ دار فوجی اشرافیہ کا تعلق زیادہ تر پنجاب سے تھا. اس اشرافیہ نے طاقت کی بنیاد پر کمزور قوموں کو دبا کر رکھنا شروع کر دیا تاکہ پاکستان کی ریاست کو اپنے سرمایہ دارانہ مفادات کی خاطر مزید ٹوٹنے سے بچا سکے. پاکستان میں مختلف اقوام نے الگ الگ رہ کر ریاستی جبر کے خلاف ایک دوسرے سے مختلف انداز میں جدوجہد شروع کی. ان تحریکوں میں سے کچھ قیام پاکستان کے فوراً بعد اور کچھ بہت بعد میں شروع ہوئیں. ان میں سب سے بڑی تحریک بلوچ قوم پرست تحریک تھی جس نے سیاسی اور عسکری دونوں راستے اختیار کیے. سندھ میں جی ایم سید کی سندھودیش تحریک اور کراچی میں اردو بولنے والے مہاجروں کی جناح پور تحریک الگ ریاستوں کے قیام کے لیے تھیں. صوبہ سرحد میں پختون قوم پرست تحریک شروع ہوئی. آج کل اس تحریک کے روح رواں منظور پشتین ہیں لیکن اس تحریک کا مقصد الگ ریاست کے قیام کی بجائے پاکستان میں رہتے ہوئے آئین کے مطابق پختونوں کو ان کے حقوق دلوانا ہے. پنجاب میں سرائیکی قوم پرستوں نے سرائیکی صوبے کی تحریک شروع کی ہوئی ہے. یہ لوگ بھی محب وطن ہیں اور اپنے آئینی حقوق کی باتیں کرتے ہیں.
پاکستان پیپلز پارٹی 1967 میں وجود میں آئی. اس جماعت کے قیام کے پیچھے ریاست کا ہاتھ تھا اور یہ ایک وفاق پرست اور محب وطن جماعت تھی. اس جماعت کے بنانے کا مقصد محنت کشوں کی سوشلسٹ تحریک کو دبانا اور ہائی جیک کرنا تھا. اس جماعت نے اسلام ہمارا دین ہے اور سوشلزم ہماری معیشت ہے جیسے متضاد نعرے پاکستانی قوم کو دیے جنہیں کروڑوں عوام نے قبول کیا. ذوالفقار علی بھٹو اپنی کرشماتی شخصیت کی وجہ سے عوام میں بےحد مقبول ہو گئے اور ساری قوم ان کی قیادت میں متحد ہو گئی. میرے والد پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی کارکن ہیں اور آج بھی دل و جان سے بھٹو کے دیوانے ہیں. میں نے سوشلزم کا لفظ بچپن میں اپنے والد سے ہی سنا. انہوں نے مجھے قوم کا الگ مطلب بتایا. ان کے مطابق سوشلزم طبقاتی بنیادوں پر کرہ ارض پر دو ہی قوموں کے وجود کا قائل ہے، ایک امیر اور دوسری غریب، ایک سرمایہ دار اور دوسری پسی ہوئی محنت کش قوم.
سوشلسٹ بنیادوں پر دنیا میں دو متضاد قوموں کے وجود کا تصور کارل مارکس نے دیا تھا. زمین پر مختلف ریاستوں، سرحدوں، خطوں، زمینی ٹکڑوں اور پھر اقوام کا وجود اس وقت شروع ہوا جب انسانوں کے درمیان ملکیتوں، مملکتوں، املاک اور پھر سرمائے کی بنیادوں پر جنگوں کا آغاز ہوا. ملکیت کا تصور بالکل غیرفطری تھا لیکن انسان نے اسے خدا کی تقسیم بنانے کے لیے مذہب کا سہارا لیا. مذہب نے ملکیت کے نظام کو خدائی نظام قرار دے دیا. مختلف مذاہب کے درمیان جنگیں دراصل ایک دوسرے کی املاک پر قبضے کے لیے ہوئیں لیکن اسے مقدس لبادہ پہنا دیا گیا. ان جنگوں میں لوٹے گئے مال کو مال غنیمت کا مقدس مذہبی نام دیا گیا. مفتوح ملکوں کے اشرافیہ کو فاتح مذاہب غلام اور لونڈیاں بنا لیتے اور اپنے اپنے مذہبی عقائد کے مطابق ان کے ساتھ کچھ بھی کرنے کا حق رکھتے.
دور حاضر میں مٹھی بھر سرمایہ دار اکثریتی محنت کش طبقے پر جبر کے ذریعے حکومت کرتے ہیں اور انہیں مختلف اقوام میں بانٹ کر اپنے خلاف متحد ہو کر جدوجہد کرنے سے روکتے ہیں.
پاکستان میں بلوچ قوم پرست محکوم اور مظلوم طبقہ پنجابیوں سے نفرت کرتا ہے. اس نفرت میں وہ یہ نہیں دیکھتا کہ پنجاب میں بھی اکثریت مظلوم محنت کش طبقے کی ہی ہے. اس نفرت میں وہ بلوچستان میں آ کر کام کرنے والے پنجابی محنت کشوں کا قتل عام کرنے سے بھی نہیں چوکتا. وہ سمجھتا ہے کہ پنجابی محنت کش بھی پنجابی اشرافیہ کا حصہ ہے. قوم پرستی کے جنون نے اسے سکھایا ہے کہ ظالم ریاست پنجابی ہے جو بلوچ قوم کی نسل کشی کرنا چاہتی ہے. حقیقت یہ ہے کہ یہ ریاست بلوچ کی نہیں بلکہ محنت کش طبقے کی دشمن ہے. ریاست کا مقصد کسی قوم کا وجود مٹانا نہیں بلکہ سرمایہ اکٹھا کرنا ہے. یہ ایک کھوکھلی ریاست ہے جو دنیا بھر سے بھیک مانگتی پھرتی ہے. اگر محکوم طبقہ ایک ہو جائے تو اس خطے سے سرمایہ داری کا وجود بھی ختم ہو جائے. بلوچ قوم پرست سوشلزم کو ایک بہترین نظریہ مانتا ہے لیکن سوشلزم کے اس تصور سے انکار کرتا ہے کہ دنیا کا ہر مظلوم اور محکوم طبقہ خواہ وہ دنیا کے کسی بھی خطے سے تعلق رکھتا ہو، درحقیقت ایک ہی طبقہ ہے. سوشلزم کے مطابق نام نہاد ترقی یافتہ ریاستوں کا محنت کش انسان محکوم اور غریب ریاستوں کے محنت کش کے طبقے سے ہی تعلق رکھتا ہے. لیکن یہ سب سوچنے کے لیے دماغ کی ضرورت ہوتی ہے. بدقسمتی سے دنیا بھر کے قوم پرستوں کے پاس دماغ موجود ہی نہیں ہے. یہی وجہ ہے کہ وہ دوسری مظلوم قوموں کے ساتھ مل کر سرمایہ داری کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر یقین نہیں رکھتے اور اپنی اقوام کی خاطر مر مٹنے اور فنا ہونے کے لیے تیار رہتے ہے.
فیس بک کمینٹ

