ڈاکٹر انوار احمدسرائیکی وسیبکالملکھاری

فیض رساں شخصیت : علامہ رحمت اللہ طارق ( وفات ، 3 اکتوبر 2003 ء ۔۔ ڈاکٹر انوار احمد

rehmatullah tariq
علامہ رحمت اللہ طارق

مسلمان مفکرین میں معتزلہ میں ایک مقام اخوان ُالصفا کابھی ہے،یہ وہ عالم تھے جو قرآن سے متعلق بصیرت رکھتے تھے ، یونانی فلسفیوں کی کتب کا مطالعہ کیا تھا ۔ منطق اور استدلال سے اپنے علمی نکات کو سنوارتے تھے مگر اپنے زمانے کے اس قدر معتوب تھے کہ اپنی جماعت کے ارکان میں خفیہ طور پر اپنی قلمی کتابچوں کا تبادلہ کیا کرتے تھے۔ احمد پور شرقیہ سے تعلق رکھنے والے محمد کاظم نے اُردو میں پہلی مرتبہ اپنی کتاب میں ان رسائل میں اُٹھائے گئے نکات کی تلخیص پیش کی اور یہ بھی بتایا کہ جرمنی میں اِن علمی نکات پر انسائیکلوپیڈیا کی ایک جلد تیار کر لی گئی ہے۔ اِس بات سے متاثر ہوکر میں نے اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد کے ایک ریکٹر[ریٹائرڈ جج] سے کہا تھا کہ وہ بھی اپنی یونیورسٹی میں اس علم افروز اور دانش مند جماعت کے اُن 22 کتابچوں کو یکجا کردیں جس کے علمی نکات آج بہت زیادہ اشتعال انگیز دکھائی نہیں دیتے، تو انہوں نے کہا تھا کہ آپ چاہتے ہیں کہ میرا حشر بھی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے اسلامیات کے اُستاد ڈاکٹر محمد سلیمان جیسا ہو جس کا گھر جلا دیا گیا ، جسے نوکری سے نکال دیا گیا اور پھر وہ اپنی جان بچا کر امریکہ چلا گیا۔
گویا مذہب کے حوالے سے بھی دو د بستانِ فکر ہیں ایک وہ جو قرآن کے حکم کے مطابق تدبر اور تعقل سے کام لیتا ہے اور مذہبی مباحث کو قرین قیاس بناتا ہے تاکہ سائنسی فکر اور تاریخی شعور کے نتیجے میں جو سوالات نئی نسل کے ذہن میں پیدا ہوں وہ لوگوں کو مذہب سے برگشتہ نہ کریں۔ چنانچہ انیسویں اور بیسویں صدی میں سرسید احمد خان ، علامہ اقبال ،عبیداللہ سندھی ، علی عباس جلالپوری ،ڈاکٹر منظور احمد اور رحمت اللہ طارق اسی قافلے کے چند سرکردہ نام ہیں۔ جبکہ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے دینی مدارس قائم کئے ، حدیث ، فِقہ، صرف ونحو اور دیگر مذہبی علوم میں عربی سے فارسی ،فارسی سے اُردو میں تراجم لکھے ، تفسیریں لکھیں، شرحیں کیں اور مذہبی سکالر کہلائے۔جبکہ تیسری طرف وہ طبقہ تھا جنہوں نے اپنے مذہبی علم کو بادشاہوں ، امیروں، جاگیرداروں ، سرداروں اور سرمایہ داروں کی خدمت کےلئے وقف رکھا ۔
میں ملتان میں ایف اے کا طالب علم تھا جب فاطمہ جناح فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے مقابلے میں جمہوریت کی علامت بن کرمیدان میں اُتریں ۔ حبیب جالب کے ترانے فاطمہ جناح کے جلسوں میں گونجنے لگے۔بانی ء پاکستان کی اس دَم ساز ہمشیرہ پر سرکاری مولویوں نے زبان درازی کی انتہا کردی۔ تب ہمیں معلوم ہوا کہ ملتان میں ایک مذہبی سکالر رحمت اللہ طارق بھی ہے جوجھل مگسی بلوچستان میں[18 ا پریل 1929 ء کو] پیدا ہوا ۔ اپنی غربت اور یتیمی کے سبب پہلے سندھ اور پھر ملتان کے مدرسوں میں تعلیم پائی۔ مولانا عبیداللہ سندھی سے فیض پایا اور ملتان کے علمی خانوادوں کی پڑھی لکھی معلمہ سے اُن کی شادی ہوئی اور انہوں نے اُن مولویوں کو ملتان سے للکارا جو پورے ملک میں یہ فتوے عام کررہے تھے کہ عورت امامت یا صدارت کا حق نہیں رکھتی۔پھر آہستہ آہستہ ہمیں معلوم ہوا کہ رحمت اللہ طارق پردے ، حدملکیت ، سرمایہ داری ،ملوکیت ، لونڈی اور غلام رکھنے کی اجازت جیسے موضوعات پر برہنہ تلوار کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ وہ قرآن سے آیات لاتے ہیں ، سیرت ِ رسول سےسند پیش کرتے ہیں اور عقل کو منور کرنے والی دلیلوں سے وہ نکتہ ِ نظر پیش کرتے ہیں جو اس ملک کے اپنے بنیادی حقوق سے محروم انسانوں کا ہے۔ چنانچہ ایوب خان کے زوال کے وقت پورے پاکستان میں اسلامی سوشلزم کی بحث چھڑ چکی تھی اور لاہور سے سِبط حسن کا ’لیل ونہار ‘اور حنیف رامے کا ’ نصرت‘میدان میں اُتر چکے تھے۔ ہمیں خوشگوار تعجب بھی ہوتا تھا اور فخر بھی ہوتا تھا کہ اندرون پاک گیٹ کے رحمت اللہ طارق کے مضامین کو ان میں نمایاں جگہ مل جاتی تھی۔ پھر ضیاءالحق کا دور آیا جب فیض احمد فیض جیسے معصوم اور بے ضرر لوگ بھی سرکار سے برداشت نہ ہوئے اور انہوں نے جلاوطنی میں عافیت خیال کی،تب رحمت اللہ طارق نے اپنا ٹھکانہ لیبیا کو بنایا ۔ اس سے پہلے وہ اپنی عربی دانی کے سبب مشرق ِ وسطیٰ میں تواتر سے جاتے تھے ۔بغداد ،قاہرہ، مکہ، مدینہ،خرطوم،دمشق،مشہد،کابل اور طرابلس کے کتاب خانے ، درس گاہیں اور اہل ِ علم اُن کے لئے اجنبی نہ تھے۔ لیکن ضیاءالحق کے دور میں علامہ صاحب اور اُن کے افراد خانہ نے جو رنج سہے ہونگے اُن کا ہمیں بہت اچھی طرح اندازہ ہے،مگر ہمارے ہاں ابھی بھی اپنی پڑھی لکھی،ایثار پیشہ اور باہمت ماﺅں پر فخر کرتے بچے شرماتے ہیں کہ ان کی نسبتیں اور شرف والد کے نام سے قائم ہوتے ہیں،؟حالانکہ جناب امید ملتانی اور اسلم انصاری کی منجھلی ہمشیرہ نذیر فاطمہ انصاری، رحمت اللہ طارق کی اہلیہ تھیں،جو ڈسٹرکٹ بورڈ کے تحت ملتان کے ایک سکول کی معلمہ تھیں جن کے علمی اور ادبی ذوق کو اسلم انصاری ایک دو مرتبہ یہ کہہ کر خراجِ تحسین پیش کر چکے ہیں کہ’ہمارے گھر میں ایسی علمی اور ادبی[درسی اور ہم نصابی]کتب تھیں،جنہیں میں بچپن سے ہی تواتر سے پڑھتا رہا تھا،انہی میں چودھری افضل حق کی ’زندگی‘ اور محبوبِ خدا‘ بھی تھیں‘۔
بینظیر بھٹو وزیر اعظم ہوئیں تو فاطمہ جناح کے خلاف مورچہ لگانے والے نئے سرے سے سرگرم ہوئے ۔ اُس زمانے میں علامہ صاحب پھر بینظیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کی کمک کےلئے میدان میں آئے ۔لیکن ظاہر ہے دو سال کے اندر اندر جن قوتو ں نے بینظیر اور پیپلز پارٹی کو اپنی دانست میں جلاوطن یا بے گھر کیا تھا وہ بھلا کیسے پہچانتے کہ ملتان کے اس سکالر کا کیا مقام ہے اور کسی جامعہ یا درس گاہ سے اُس کی وابستگی کتنی نسلوں کےلئے فیض رساں ہوسکتی ہے؟۔ اور تو اور بینظیر کے دوسرے دور میں جب مولاناکوثر نیازی پلٹ کر پیپلز پارٹی میں آئے تو انہوں نے کوشش کی کہ رحمت اللہ طارق کو اسلامی نظریاتی کونسل کا رکن ہی بنادیا جائے، تو پیپلز پارٹی کے اُس وقت کے ملتان سے رکن قومی اسمبلی پیر ریاض حسین قریشی اس راہ میں رکاوٹ بن گئے اور اُن کی جگہ اویس لغاری کے ابا جی نے قاری نور الحق کو رکن بنا دیا کیونکہ پیر ریاض حسین قریشی مخدوموں اور جاگیرداروں کے بارے میں علامہ صاحب کے خیالات سے اچھی طرح واقف تھے،اور شاید سردار فاروق خان لغاری بھی ان نظریات سے خوف زدہ تھے جن کا اپناایک امتیاز یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنی پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی زرعی اصلاحات کے خلاف اپنے ’قائد‘ کے قاتل ضیا الحق کی اپنے مقاصد کے لئے بنائی فیڈرل شرعی عدالت میں رٹ کر کے نہ صرف اپنی زمینیں بچائیں بلکہ عدالت سے جاگیرداری کے خاتمے کے خلاف وہ فیصلہ حاصل کیا ،جس کے بارے میں ہمارے بائیں بازو کے قائد عابد حسن منٹو تین عشروں سے سپریم کورٹ کے باہر انتظار کر رہے ہیں کہ شاید کوئی ایسا منصف آ جائے جو ایام گل کے اشارے کے بغیر بھی گریباں چاک کر سکتا ہو (چاک مت کر جیب بے ایام گل۔۔۔۔ کچھ اُدھر کا بھی اشارہ چاہیئے [غالب])
میری اُن سے دو ملاقاتیں ہیں ۔ اپنی بلند آہنگ تحریروں کے برعکس وہ بہت دھیمے اور کسی حد تک شرمیلے تھے۔ اپنی ذات کو نمایاں کرنے کے حق میں نہیں تھے اور اپنی تعریف سن کر وہ کسی قدر شرما جاتے تھے،اس لئے جب ان کے صاحبزادے میر کامران مگسی یہ بتاتے ہیں کہ والد مرحوم کے پراگریسودوستوں اور مداحوں نے جب ایک لائبریری کا نام علامہ رحمت اللہ طارق لائبریری رکھا تو انہوں نے اس کا نام سرسید میموریل لائبریری رکھ دیا تو ان کے علمی انکسار سے واقف احباب کو تعجب نہیں ہوتا۔
ان کی زیادہ تر تصانیف ایسی ہیں،جن کی غواصی مجھ ایسے بے توفیق کے بس میں نہیں،ان کی اہم تصانیف یہ ہیں:
’برہان القرآن“ ، ”میزان القرآن“، ”دانشورانِ قرآن“، ”قرآن کے سایہ تلے“(مقالات کا مجموعہ ) ،میں نے ان کے علمی اسلوب اور نقطہ نظر کی توضیح کے لئے چند مثالیں منتخب کی ہیں،دیکھئے:
۱)موت اور وفات میں فرق
تآنکہ موت نے انہیں وفات دی ، وجہ اعتراض یہ ہے کہ وفات اور موت ایک ہی معنے کے حامل ہیں اس طرح گویا معنے ہوں گے موت نے انہیں موت دی۔
قول فیصل :یہاں وفات کا فاعل موت نہیں وفات کے فرشتے ہیں اب معنے صاف ہوگئے ۔ تآنکہ فرشتہ ء اجل نے انہیں موت سے ہمکنار کیا۔(تفسیر میزان القرآن ، ادارہ ادبیات اسلامیہ ملتان،رحمت اللہ طارق، ص:211 )
۲]قرآن ، حادث یا قدیم؟
قول ِ فیصل
کسی کے ”ذہنی “فیصلہ کرنے پر کیا پابندی ہے لیکن ابن ِ تیمیہ خود ہی ابتدا اور ”عود“کی بات ”عود“ایک ”حادث“صنف ہے جو قدامت کے خلاف ہے ۔ پھر یہ تصور بھی عجیب ہے کہ قرآن اللہ سے نکل کر اسکا ”جز“بن چکا ہے اور بعد میں یہی جز دوبارہ ”کل “سے جاملے گا کیونکہ اس طرح اللہ سبحانہ قابل ِ ”تجزیہ“ذات سے تعبیر ہونگے ۔ جو میں نہیں کہہ سکتا کہ جو ذات نہ جسم سے تعبیر ہو نہ ”جہت“اور مکانیت کی حامل وہ ”تجزیہ “و تحلیل کی لیبارٹری میں لائی جائے ۔ خاص کر یہاں آیة میں ”اُحکمت“کا لفظ ہے جو مستحکم کرنے کو کہا جاتا ہے اور ظاہر ہے استحکام ناقابل تغیر ہونے کے باوصف ”امر حادث“کا غماز ہے کیونکہ اسی آیت کا دوسرا لفظ ”فصلت“ایجاد و”اختراع “کے مفہوم میں استعمال ہوکر فصلت کے ”حدوث“کو پختہ بنا گیا ہے۔ تفصیل کپڑے کو ناپنے ، لمبائی گھیرے ، تیرہ، آستین گردن، سینہ وغیرہ کا ناپ لے کر کاٹنے اور پھر سینے کو کہتے ہیں اور یہ تمام تر ”حادث “در حادث ”صفتیں“ہیں جو ”تفصیل “میں جمع ہوگئی ہیں پھر اسی آیت میں ”لدن “کے لفظ کو ”مضاف “اور حکیم وخبیر کو ”مصاف الیہ “کے طور پر استعمال فرمایا ہے جو نیز قدامت کے منافی ہے ۔ اسی طرح”کتاب“کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے جو اپنی تمام ”توجیہات “کے باوصف ”حادث“ہے اور اگر قدیم ہوتی تو ”لدن “کے ذریعہ اللہ کی جانب مضاف نہ ہوتی۔(ص:161)
3]ابراہیم اور ذبیح کا خوابی مکالمہ
سب ہی خواب کی باتیں ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ آپ نے ذبیح کے ”ذہنی عمق “کا جائزہ لینے کےلئے خواب ہی میں دریافت کیا ؟اور پھر اندر کے ابراہیم ؑ نے زبان ذبیح بن کر خواب ہی میں جواب دیا۔ افعل جو فیصلہ کیا گیا ہے کر گزرئیے ۔ کس نے فیصلہ کیا تھا ؟اسکی وضاحت نہیں ہے تاہم چونکہ اللہ کے حوالہ سے بات نہیں ہوئی لہٰذا یہاں ابراہیم ؑ کے اندر کے ابراہیم ؑ نے خود ہی ”افعل“بھی کہا اور خود ہی ”تو مر“بھی اور پھر اندر کے ابراہیم ؑ ہی نے خواب میں خواب کی تصدیق بھی کرڈالی۔(ص:672)
4]فرعون ذی الاوتاد ۔ کازندہ معجزہ
راقم الحروف کے شعور کی آنکھ ابھی نیم باز تھی کہ بچپن سے علمی ماحول کی وجہ سے ”ترجمہ القرآن “اور تفسیر”جلالین“درساً پڑھ ڈالی تھیں عمر کے اس حصے میں ذہن تقریباً ہمہ آلودگیوں اور آلائشوں سے پاک وصاف اور فطری طور پر اتنا بے لوث ہوتا ہے کہ اس میں ہر چیز قبول کرنے کی صلاحیت بدرجہء اتم موجود ہوتی ہے۔ اساتذہ نے مزاج کو ”وہمیات “کے جس سانچے میں ڈھال دیا وہ ڈھل گیا یعنے انہوں نے اگر کسی تاریخی آیت کے واضح مفہوم میں ”الف لیلائی “رنگ بھردیا تو میں نے اسے قرآن کا زندہ معجزہ اور صداقت کی آخری دلیل سمجھ لیا اور یہ نہ سوچا کہ اس طرح کتاب لاریب میں ریب وتشکیک کا گزر ممکن ہوچلے گا اور قرآن کے تاریخی حصے پر اعتماد کا بحران پیدا ہوجائے گا لیکن میں کر بھی کیا سکتا تا جبکہ سلفاً عن خلف یہی آواز سنائی دے رہی تھی کہ ہمارے اسلاف نے جو کچھ ہمیں دیا ہے اس پر نکتہ چینی یا انگشت نمائی نہیں ہوسکتی۔ مثلاًسورہ الفجر (7تا31)کے مفہوم میں بتلایاجارہا ہے کہ ذی الاوتاد کے معنے ہیں میخوں والا یا میخیں لگانے والا فرعون یعنے اسکے پاس خیمے نصب کرنے کی بہت ساری میخیں تھیں وہ جہاں جاتا ہزاروں آہنی میخیں زمین میں گاڑ کر خیموں کی طنابیں کس کر دیکھتے ہی دیکھتے متحرک شہر بسا لیتا ۔(ص:474 ، 574)…………اوتاد اپنی ساخت میں عربی کا لفظ ہے اور اس کا مفرد ”وتد“ہے جسکے معنے ہیں بلند وبالا عمارت ۔ یا مستحکم وثابت کھڑا ہونا۔ شاعر کہتا ہے :
لافت علی الماءجزیلا واتدا
وکان لا یخلفھا الموعدا
محبوب نے وعدہ وفاعاشق کو پانی کے کنارے (گریاں حالت میں )کھڑا پایا کہ وہ وعدہ خلافی نہ کرسکتا (اساس البلاغة طبع ندیم قاہرہ ،ص:194)
یہاں وتد قدم جما کر کھڑے ہونے کو کہا گیا ہے اور اساس البلاغہ والے زمخشری (4411م)ہی نے عربی کا ایک محاورہ نقل کیا ہے ۔ وانتصیب کانہ واتد۔وہ ایسے کھڑا ہے جیسے پہاڑ(اساس ،ص194)بات صاف ہوگئی کہ ”وتد“مستحکم اور بلند وبالا عمارت جو دِکھنے میں پہاڑ سے ہم سری کرتی ہو،کو نیز کہا جاتا ہے۔
علامہ رحمت اللہ طارق کی و فات3 اکتوبر 2003 ءکو ہوئی،ان کے غیر مدون مضامین اور کچھ کتب کے مسودے ان کے صاحبزادے کی دسترس میں ہیں،جو اشاعت کے لئے وسائل کے منتظر ہیں۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker