ڈاکٹر فرزانہ کوکبسرائیکی وسیبلکھاری

پرفیسر حسین سحر اور دبستانِ ملتان کے ”شام و سحر “ ۔۔ ڈاکٹر فرزانہ کوکب

پروفیسر حسین سحر صاحب کی خودنوشت”شام و سحر” کا مطالعہ میرے لئے محض علم و ادب کی دنیا کی ایک بڑی اور نامور ہستی کی سوانح حیات پڑھنے کا ایک خوشگوار تجربہ ہی نہ تھا۔بلکہ میرے لئے تو یہ سوانح عمری اس نابغہ روزگار ہستی سے میری بالمشافہ ملاقات بن گئی۔جو بہت متاثر کن،سحر انگیز،جذباتی اور یادگار تھی۔
ہر انسان کو زندگی میں گوناں گوں مشاہدات اور تجربات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کبھی بہت مختصر عمر میں ہی تقدیر ان مشاہدات اور تجربات کا سامان پیدا کر دیتی ہے اور کبھی ایک طویل اور بھرپور زندگی گزارنے والے شخص کے لئے قدم قدم پر انوکھے مشاہدات اور تجربات بکھرے پڑے ہوتے ہیں۔
بقول شاعر
مرے روز و شب بھی عجیب تھے،نہ شمار تھا نہ حساب تھا
کبھی عمر بھر کی خبر نہ تھی ،کبھی ایک پل کو صدی کہا


ایک انسان کےاپنی زندگی کے مختلف اوقات میں خود پر بیتنے والے اپنے مشاہدات اور تجربات کا بیان ہی آپ بیتی کہلاتا ہے۔مختلف محققین،ناقدین کے ہاں اور مختلف لغات اور انسائیکلو پیڈیاز میں خود نوشت سوانح حیات یا آپ بیتی کی متعدد تعریفیں موجود ہیں۔اسی طرح ورلڈ بک ڈکشنری کے مطابق
“اس شخص کی کہانی جو اسے خود لکھے”
یورپ میں روسو(rousseao)کی آٹو بائیو گرافی”confessions”(اعترافات)سے اس کی ابتدا ہوئی جبکہ مشرقی ممالک کی ادبیات میں بھی آپ بیتی یا خود نوشت سوانح عمری کا رواج قدیم سے چلا آرہا ہے۔ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد سے قبل آپ بیتیاں ملتی ہیں۔مسلمانوں کی آمد کے بعد بالخصوص سلاطین اور منصب داروں کےاپنے حالات زندگی اپنے ہاتھوں قلمبند کرنے کے باعث خود نوشت سوانح عمری ایک الگ صنف کے طور پر منظر عام پر آئی۔تزک بابری اور تزک جہانگیری متعدد حوالوں سے بہت اہمیت کی حامل ہیں۔
ایک جامع خود نوشت میں فنی اور تیکنیکی لحاظ سے تین بنیادی خصوصیات کا ہونا ضروری ہے۔1۔سچائی2۔شخصیت3۔فن۔
حسین سحر صاحب نے اپنی خود نوشت میں ان تینوں خصوصیات کو بطریق احسن برتا ہے۔
در حقیقت ایسی ہستیاں یکتائے روزگار ہوتی ہیں جو زندگی کی ہر کسوٹی اور ہر آزمائش پر پورا اترنے،ہر رشتہ اور ہر ذمہ داری کو بطریق احسن نبھانے کی استطاعت اور اہلیت رکھتی ہیں۔جن کے لئے غم جاناں اور غم روزگار دونوں ہی برابر اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔
“شام و سحر”میں بھی یہ دونوں پہلو بہت عمدہ انداز میں بیان ہوئے ہیں۔خود نوشت میں مصنف کی زندگی کے مختلف ادوار،حالات و واقعات،شخصیات اور جملہ کوائف کو مختلف اور موزوں عنوانات کے تحت بیان کیا گیا ہے
بلاشبہ ایسی تصانیف اور دستاویزات ایک مکمل عہد کو تہذیبی،ثقافتی،معاشرتی،سیاسی اور تاریخی اعتبار سے حیات جاوداں عطا کر دیتی ہیں۔ایک مکمل عہد ان تصانیف میں جیتا جاگتا اور سانس لیتا دکھائی دیتا ہے۔اس نوع کی تصانیف کو بلاشبہ”قلمی ٹائم مشین”کہا جا سکتا ہے۔جیسے سائینس فکشن میں ٹائم مشین کا بٹن دباتے ہی انسان کسی اور عہد میں جا پہننچتا ہے اور اسکا حصہ بن جاتا ہے بالکل اسی طرح ان کتابوں کا پہلا صفحہ کھولتے ہی انسان ایک عہد میں جینا شروع کردیتا ہے۔
خود نوشت کے آخری صفحات پر حسین سحر (مرحوم) کی زندگی کے گزرتے مہ و سال کی بالترتیب تصویری جھلکیاں موجود ہیں۔نہایت سچائی،ایمانداری اور دلآویز اسلوب میں تحریر کی گئی ایک خود نوشت ہے۔


حسین سحر صاحب کے برخوردار مہزاد سحر نے بالکل درست لکھا ہے کہ
“شام و سحر”صرف حسین سحر کی شام وسحر کا احوال ہی نہیں بلکہ یہ ملتان کے علمی،ادبی،ثقافتی،تہذیبی،تاریخی اور سیاسی زندگی کا ایسا مفصل احوال ہے جسے حسین سحر صاحب نے اپنی بہترین یادداشت کے سہارے بہت خوبصورت انداز میں قلمبند کیا ہے۔”
“شام و سحر”خودنوشت کا دوسرا دل کو چھو لینے والا پہلو پروفیسر صاحب کا اپنی اہلیہ سے بے پناہ محبت کا اظہار ہے۔ان کے بیٹے نے بالکل صحیح لکھا ہے کہ انہوں(حسین سحر)نے اپنی اہلیہ کی یاد میں شاعری کی کتاب لکھ کر گویا اپنے قلم سے محبت کا”تاج محل” بنایا اور اس محبت کو امر کر دیا۔
بلاشبہ اس لحاظ سے یہ پہلو بہت قابل قدر اور اہمیت کا حامل ہے کہ آج اکیسویں صدی میں بھی ہمارے معاشرے میں صورت حال کچھ ایسی ہے کہ بہت سے مرد حضرات پرائی عورت سے اپنے غلط تعلق کو اپنی مردا نگی کی دلیل سمجھتے ہوئے بہت بیباکی سے سرعام بیان کرتے ہیں۔مگر اپنی بیوی سے محبت کے اظہار میں کئی طرح کے خوف ان کے آڑے آجاتے ہیں۔کبھی خاندان اور معاشرہ کی طرف سے”رن مرید”اور “جورو کا غلام”جیسے طعنے ملنے کا خوف یا پھر جو مرد حضرات بیوی کو پیر کی جوتی سمجھتے ہیں۔انہیں یہ خود ساختہ خوف اور واہمہ لا حق ہو جاتا ہے کہ کہیں بیوی کو محبت یا عزت دینے سے پیر کی یہ جوتی سر پر نہ آٹکے۔
ایسی افسوسناک صورت حال میں اپنی اہلیہ کے لئے ایسے محبت بھرے جذبات کا ببانگ دہل اظہار اور وفاداری یقینا”جراءت اور عظمت کردار کی ہی روشن دلیل ہے۔اور در حقیقت اندر سے بہت مضبوط اور کھرا انسان ہی ایسے حسن کردار کا مالک ہو سکتا ہے۔


مزید برآں یہ کہ پروفیسر صاحب نے اپنی خود نوشت کو کچھ اس طرح ترتیب دیا ہے کہ بنا کہے ایک واضح احساس، اظہار اور اعتراف موجود ہے کہ حسین سحر صاحب کی زندگی کا آغاز ان کی پیدائش سے ہوتا ہے اور ان کی اہلیہ کی وفات کے ساتھ ان کی زندگی کا عملا”اختتام ہو جاتا ہے۔
ایسی ہستیوں کے بارے میں ہی غالبا”میر صاحب فرماگئے ہیں
مت سہل ہمیں جانو،پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
یہ خود نوشت نہ صرف حسین سحر صاحب کی دیگر تصانیف کی طرح بہت قابل قدر اور اہمیت کی حامل ہے بلکہ “دبستان ملتان” کے ادبی خزانے میں ایک قیمتی اضافہ ہے
(دبستانِ ملتان کی تعارفی تقریب میں پڑھا گیا)

فیس بک کمینٹ
Tags

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker