سپریم کورٹ نے تمام سرکاری عہدیداروں ، اداروں اور سیاسی پارٹیوں کو کسی بھی ماورائے آئین اقدام سے باز رہنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم آج قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی طرف سے تحریک عدم اعتماد کو خلاف آئین قرار دینے کے غیر آئینی ، غیر پارلیمانی اور غیر اخلاقی فیصلہ پر اس وقت تک رائے دینے سے گریز کیا ہے جب تک فریقین کا مؤقف سن نہیں لیا جاتا۔ سوچنا چاہئے کہ جس ملک میں قومی اسمبلی کا اسپیکر، وزیر اعظم ا ور صدر مملکت آئینی ضابطوں کو ماننے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے، وہاں آئین کا احترام کرنے کے لئے چیف جسٹس کے حکم کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟
یہ بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک المناک باب ہے کہ جو فیصلے منتخب پارلیمنٹ میں ہونے چاہئیں ، ان کے لئے ایک غیر منتخب ادارے میں دلائل دیے جائیں گے۔ سپریم کورٹ کے اختیار و ضرورت سے کلام نہیں ہے لیکن ملک کی سیاسی قیادت نے اقتدار کی کشمکش میں ملک کو ایک ایسے سنگین بحران سے دوچار کیا ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ ملک کا منتخب وزیر اعظم اسی ادارے کے اختیار کو ماننے پر تیا رنہیں ہے جس نے اعتماد کا ووٹ دے کر اسے اس منصب پر فائز کیا تھا۔ عمران خان کے اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ انہیں نہ ملک کی پرواہ ہے اور نہ ہی اس قانون و آئین کی، جس کے تحت اس ملک کا نظام چلایا جاتا ہے۔
ایک طویل عرصہ سے یہ جد و جہد کی جارہی ہے کہ کسی طرح غیر منتخب اداروں کو سیاست سے دور رکھا جائے اور تمام فیصلے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی پارلیمنٹ میں کئے جائیں۔ البتہ یہ مقصد اسی وقت حاصل کیا جاسکتا ہے جب سیاست دان ہوس اقتدار میں مبتلا ہوکر خود ہی غیر منتخب اداروں کو سیاست میں ملوث کرنے سے باز رہیں۔ ڈپٹی اسپیکر، وزیر اعظم اور صدر مملکت کے اقدامات سے واضح ہؤا ہے کہ اس وقت ملک کے اقتدار پر قابض ٹولے کو ذاتی اقتدار اور سیاسی فیس سیونگ سے زیادہ کسی بھی چیز کی پرواہ نہیں ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز عوام کے ساتھ مکالمہ کے ایک سیشن میں واضح طور سے کہا تھا کہ وہ اپنا اقتدار بچانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ قومی اسمبلی میں ارکان کی اکثریت اگرچہ ان کے خلاف ہوچکی ہے لیکن اس کے باوجود اسمبلی میں رونما ہونے والی اس تبدیلی کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اس کی سادہ سی یہ وجہ بتائی جاتی ہے کہ عمران خان اللہ کا ایک ایسا فرستادہ جو 2022 میں سنت حسینی کو زندہ کرنے کا عزم لے کر میدان میں اترا ہے۔ صرف اسی کا کہا ہؤا درست اور باقی سب لوگوں کی رائے ملک دشمنی اور سازش ہے ۔ اس کے خلاف کوئی بھی قدم باطل و گمراہی ہے۔ اور عمران خان ملک کا آئین پامال کرسکتا ہے لیکن ’حق‘ کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتا۔
’خود راستی‘ کے ایسے تصور کے حامل کسی شخص کو کسی بھی جمہوری معاشرے میں قیادت کا حق نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن پاکستانی سماج کو سستے نعروں، مسخ شدہ مذہبی تفہیم اور شخصیت پرستی کے مزاج سے اس حد تک معمور کردیا گیا ہے کہ لوگوں کے لئے صحیح اور غلط کی پہچان مشکل بنا دی گئی ہے۔ اعلیٰ ترین سطح سے جھوٹ کو اس تسلسل سے پھیلانے کا اہتمام کیا گیا ہے کہ اس وقت ملک میں آئین کی صریح خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ اور یہ کام کسی نادانستگی یا اتفاقیہ طور سے سرزد نہیں ہؤا ،بلکہ گزشتہ چند ہفتوں سے اس کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی اور یہ طے کیا گیا کہ کس طرح عدم اعتماد کے ایک آئینی طریقہ کا راستہ روکنا چاہئے تاکہ عمران خان نامی ایک شخص کو یہ نعرہ لگانےکا موقع ملے کہ وہ تن تنہا ملک کی خود مختاری اور غیرت کا نمائیندہ ہے اور باقی تمام سیاسی قوتیں حتی کہ ادارے تک غیر ملکی سازش کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس کے باوجود عوام کی رائے تقسیم ہے اور سوشل میڈیا پر رائے دینے والوں کی ایک بڑی تعداد اس گھناؤنی آئین شکنی کی تائد کے علاوہ اسے اپنے لیڈر کی کامیابی اور ترپ کا پتہ قرار دے کر خوشی کا اظہار کررہی ہے۔
پاکستان میں آئین شکنی کی روایت فوجی بغاوت کے ذریعے شروع ہوئی تھی اور ملکی عدلیہ نے ایک نام نہاد ’نظریہ ضرورت‘ کے تحت ایسے ہر اقدام کی تائد کی۔ اس طرح ملک پر آمریت کے چالیس برسوں کی ذمہ داری اگر جاہ پسند فوجی کمانڈروں پر عائد ہوتی ہے تو ملک کی سپریم کورٹ بھی اس گناہ میں برابر کی شریک ہے۔ حتی کہ اکتوبر 1999 میں جب پرویز مشرف نے ایک منتخب حکومت کو چلتا کیا تو ملکی سپریم کورٹ نے فوجی آمر کو تین برس تک ملکی آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار بھی تفویض کردیا۔ آج تک سپریم کورٹ کا کوئی بنچ یہ وضاحت نہیں کرسکا کہ عدالت عظمی کو یہ حق آئین کی کس شق کے تحت ملتا ہے کہ وہ ایک فرد واحد کو عوامی نمائیندوں کے بنائے ہوئے آئین میں من پسند ترامیم کرنے کا حق عطا کردے۔
ملک میں یہ صورت حال سیاسی لیڈروں اور جاگیردار و سرمایہ دار خاندانوں کی مطلب پرستی اور وقتی طور سے اقتدار کا حصہ بنے رہنے کی افسوسناک خواہش کی وجہ سے دیکھنے میں آتی رہی ہے۔ ہر فوجی آمر کو پہلے عدالتوں سے راست اقدام کا پروانہ جاری ہؤا ۔ پھر انہوں نے اپنے اپنے طور پر ملک میں سیاسی انتظام کا ایسا ڈھانچہ کھڑا کیا جو ان کے اقتدار اور ماورائے آئین اقدامات کو تحفظ دے سکے۔ ملکی سیاست دانوں نے ناجائز اور آئین کے برعکس نظام کا حصہ بننے میں کوئی عار محسوس نہیں کی۔ حالیہ ملکی سیاسی تاریخ میں 2008 کے بعد سے قائم ہونے والی حکومتوں کو بالواسطہ طور سے اسٹبلشمنٹ یا فوجی قیادت کے زیر فرمان رکھنے کا اہتمام کیا گیا۔ جب اس انتظام میں بھی غیر منتخب اداروں کی جاہ پسندی کی مکمل تسکین نہیں ہوسکی تو 2018 کے انتخابات سے ایک ایسی سیاسی قوت کو برآمد کیا گیا جو اس وقت ملک میں آئین شکنی اور سیاسی جمہوری انتظام کو تہ و بالا کرنے کا سبب بنی ہے۔
عمران خان نے ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت عدم اعتماد کی ہزیمت سے بچنے کے لئے پہلے ڈپٹی اسپیکر کے ذریعے ملکی آئین کو پامال کرنے کا طریقہ اختیار کیا اور پھر اسے جاری رکھتے ہوئے صدر عارف علوی کے ذریعے قومی اسمبلی کو توڑا گیا ہے۔ وزیر اعظم کو یہ اقدامات کرنے کی ضرورت اس وقت محسوس ہوئی جب تمام تر سیاسی کوششوں اور ترغیب و تحریص کے ہتھکنڈوں کے باوجود ایک کے سوا تمام اتحادی پارٹیوں نے تحریک انصاف کی حکومت سے علیحدگی حاصل کرلی۔ مسلم لیگ (ق) کو ساتھ ملانے کے لئے پرویز الہیٰ کو پنجاب کی وزارت عظمی دینے کا اقدام کیا گیا۔ اس کے باوجود عمران خان بڑی ڈھٹائی سے اپوزیشن پر ارکان اسمبلی خریدنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ اور یہ بے بنیاد الزام تراشی کی جاتی رہی ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان توڑنے کے لئے اربوں روپے صرف کئے گئے ہیں۔ نہ کوئی پوچھتا ہے اور نہ کوئی بتاتا ہے کہ ان غیر اخلاقی، غیر پارلیمانی اور بے بنیاد الزامات کے ثبوت کہاں ہیں۔ اپوزیشن کو تو تحریک انصاف کے منحرف ارکان کے بغیر ہی قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہوگئی تھی۔ تحریک انصاف کے ارکان تو اپنی سیاسی ناراضی اور مستقبل کی مجبوری کی وجہ سے کسی بھی طرح تحریک انصاف اور عمران خان سے نجات حاصل کرنا چاہتے تھے۔
تحریک عدم اعتماد سے بچنے کی تمام سیاسی کوششوں میں ناکام ہوکر پاک فوج کو ملوث کرنے اور ماضی کی طرح عمران خان کی سیاسی حفاظت کے لئے کردارا ادا کرنے پر آمادہ کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارے گئے۔ لیکن فوجی قیادت نے بھی یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ نئے انتخاب کی پیشکش اپوزیشن کی مرضی کے بغیر منظور نہیں ہوسکتی۔ اس دوران 7 مارچ کو موصول ہونے والے ایک سفارتی مراسلہ کو بنیاد بنا کر ایک امریکی سازش کا انکشاف کیا گیا جس کے مطابق ملک کی تمام اپوزیشن پارٹیاں مل کر پاکستان کی خود مختاری کا سودا کرنے پر تیار ہوگئیں اور انہوں نے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو عہدے سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس انکشاف کے بعد تسلسل سے ایک اشتعال انگیز سیاسی ماحول بنایا گیا ہے۔ عمران خان کو لگتا ہے کہ عوام کو قومی غیرت کے نام پر اس حد تک گمراہ اور مشتعل کیا جاچکا ہے کہ اب نئے انتخابات میں وہ عمران خان کو قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت دلا دیں گے۔ اسی امید پر آئینی طریقہ کار کو بالائے طاق رکھ کر پہلے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے ووٹنگ والے دن تحریک عدم اعتماد کو غیر ملکی سازش قرار دے کر مسترد کیا ۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم کے مشورہ پر صدر مملکت نے قومی اسمبلی توڑ دی۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے چھٹی کا دن ہونے کے باوجود سوموٹو نوٹس کے ذریعے آج سہ رکنی بنچ کی قیادت کرتے ہوئے اس معاملہ کی سماعت کی ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت تمام پیش رفت سے آگاہ ہے اور ڈپٹی اسپیکر، وزیر اعظم اور صدر مملکت کے احکامات عدالت عظمی کے حکم کے بعد ہی مؤثر ہوسکیں گے۔ انہوں نے فوری طور سے حکم امتناع دینے سے گریز کیا تاکہ حکومت اور حکمران پارٹی کا مؤقف بھی سن لیا جائے۔ سپریم کورٹ بار کونسل اور سیاسی پارٹیوں کو اس معاملہ میں فریق بنا لیا گیا ہے۔ مقدمہ کی سماعت سوموار کو سپریم کورٹ کا لارجر بنچ کرے گا ۔ امید کی جارہی ہے کہ کل کی سماعت میں عدالت عظمی کی طرف سے ملک میں آئین کو پامال کرنے کے اس افسوسناک اقدام کے خلاف کوئی حکم جاری ہوگا۔
یہ بات بہر حال قابل غور و فکر ہے کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے کے دعویدار سیاسی لیڈر اسمبلی میں بیٹھ کر فیصلہ کرنے کی بجائے اسمبلی توڑ کر سپریم کورٹ سے یہ امید کررہے ہیں کہ اس غیر قانونی اور غیر جمہوری اقدام کو جائز قرار دیا جائے ۔ سپریم کورٹ اگر اس جال میں پھنس گئی اور اتوار کو قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر اور ایوان صدر کی طرف سے جاری ہونے والے احکامات کو غیر آئینی قرار نہ دیا گیا تو اس ملک میں آئین واقعی کاغذ پر لکھے چند حروف سے زیادہ اہم نہیں رہے گا جسے کوئی بھی صاحب اقتدار و اختیار اپنی ضرورت اور مقصد کے لئے جب چاہے اور جیسے چاہے استعمال کرسکتا ہے۔ آئین کی بالادستی کے لئے سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخ رقم کرے گا۔ پوری قوم کو امید کرنی چاہئے کہ ہمارے منصفوں کو درست اور برحق فیصلہ کرنے کی توفیق نصیب ہو۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

