لاہور : لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور کردی جبکہ درخواست سے متعلق کیس پر عدالت کے حکم پر جسٹس طارق سلیم شیخ کے سامنے پیش ہوں گے۔
سابق وزیراعظم عمران خان جب کمرہ عدالت میں پہنچے تواسلام آباد کے تھانہ سنگ جانی میں ان کے خلاف درج مقدمے میں حفاظتی ضمانت کی درخواست پر جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔
سابق وزیراعظم عمران خان کمرہ عدالت میں پہنچے اور ان کی موجودگی میں جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں بینچ نے سماعت کی۔
عمران خان کے وکیل نے عدالت سے عمران خان کی دو ہفتوں کی حفاظتی ضمانت کی استدعا کی جبکہ عدالت نے عمران خان کو روسٹرم پر بلا لیا۔
عدالت کو سابق وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ میرے ایکسرے ہوئے ہیں، میری ٹانگ کافی حد تک ٹھیک ہوچکی ہےلیکن ڈاکٹروں نے دو ہفتوں کا کہا ہے اور 28 فروری کو میرا چیک اپ ہوگا۔
جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ عام طور ہر 10 دن تک کی اجازت دی جاتی ہے۔
عمران خان نے عدالت کو مزید بتایا کہ میری پارٹی کا نام ہی انصاف کے نام پر ہے، میں ایک گھنٹے تک گاڑی میں بیٹھا رہا اور عدالت پیش ہونے کےلیے انتطار کرتا رہا، میں عدالتوں کا مکمل احترام کرتا ہوں۔
عدالت نے عمران خان کی ایک ہفتے (3 مارچ) تک کےلیے حفاظتی ضمانت منظور کرلی اور عمران خان کو 3 مارچ تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔
اس سے قبل پی ٹی آئی چیئرمین لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں گاڑی میں موجود تھے اور اسی دوران حفاظتی ضمانت کی درخواست کی سماعت شروع ہوئی تھی۔
جسٹس علی بابر نجفی نے پوچھا کہ درخواست گزار اس وقت کہاں ہے تو عمران خان کے وکیل نے کہا کہ وہ احاطہ عدالت میں موجود ہیں تو جسٹس علی باقر نجفی نے کہا ان کو عدالت میں آنا ہوگا، عدالت میں درخواست گزار کو پیش ہونے سے کس نے روکا ہے۔
جسٹس علی باقر نجفی کے استفسار پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ کسی نے روکا نہیں مگر سیکیورٹی اہلکار تعاون نہیں کر رہے ہیں، جس پر عدالت نے ایس پی سیکیورٹی کو فوری طور پر عمران خان کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
عمران خان کے وکیل نے کہا کہ مجھ سے آئی جی نے وعدہ کیا کہ عمران خان کو 10 منٹ میں ہائی کورٹ پہنچا دیں گے، لیکن افسوس سے کہنا چاہتا ہوں عمل نہیں ہوا، عدالتی تقدس کو بھی ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔
اس موقع پر عدالت نے عمران خان کو پیش نہ کرنے ہر سیکیورٹی افسر پر اظہار برہمی کیا اور پوچھا کہ بتائیں کہاں ہیں درخواست گزار، جس پر سیکیورٹی انچارج نے کہا کہ کنٹرول روم سے چیک کیا ہے عمران خان گاڑی میں موجود ہیں۔
سیکیورٹی انچارج نے کہا کہ ایس پی سیکیورٹی لینے گئے ہوئے ہیں لیکن جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ آپ خود جائیں اور لے کر آئیں۔
عمران خان کے وکیل اظہر صدیق نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان عدالتی احکامات پر احاطہ عدالت میں موجود ہیں لیکن انہیں ایسی صورت حال میں عدالت پیش نہیں کر سکتے، اس وقت پارٹی کے سئینر ترین رہنما کمرہ عدالت میں موجود ہیں اور کوئی اعلان نہیں کیا گیا کہ عمران خان ہائی کورٹ میں پیش ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ لوگوں کا پیار کہہ لیں یا جنون کی اتنی تعداد میں پہنچ گئے ہیں، عمران خان اگر ایسی صورت حال میں نکلتے ہیں تو ان کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ سکتی ہے۔
وکیل نے کہا کہ اس وقت الیکشن سر پر ہیں، صدر نے اعلان کر دیا یے، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہوگیا ہے، تو عمران خان کے وکیل نے جواب دیا کہ جی صدر پاکستان نے 9 اپریل کے لیے انتخابات کا اعلان کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اگر پولیس سیکیورٹی میں لاسکتی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔
لاہور ہائی کورٹ نے 16 فروری کو الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج اور کار سرکار میں مداخلت کے کیس میں حفاظتی ضمانت کی درخواست پر حلف نامے اور وکالت نامے پر دستخط میں فرق کی وضاحت کے لیے عمران خان کو آج پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔
گزشتہ سماعت پر لاہور ہائی کورٹ نے آج دوپہر 2 جے تک عمران خان کو پیش ہونے کی مہلت دی تھی، جسٹس طارق سلیم شیخ عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست سے متعلق کیس کی سماعت کر رہے ہیں۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )

