ایم ایم ادیبکالملکھاری

ملتان،مقامی سیاست کے نئے برگ وبار ۔۔ ایم ایم ادیب

جتنی دیر گمان کو یقین میں بدلتے لگتی ہے اتنی ہی دیر میں نے اسے جانچا اور پرکھا،سیدھا سادہ،بے ریا،مضبوط و توانا، تناور درخت جیسا آدمی،جسے اپنی امارت پر کچھ غرور ہے نہ عہدے کا فخر،وہ عہدہ جو اس نے وقت سے چار سال قبل ہی چھوڑ دیا،مزید چار سال پورے کر لیتا تواور بڑا افسر ہوتا اور زیادہ مراعات یافتہ،کہ وہ ملک کے سب سے بڑے،پروقار اور قبل اعتبار ادارے سے بریگیڈیئر کے طور پر وابستہ تھا۔وہ چاہتا تو ریٹائرمنٹ کے بعد لاہور یا اسلام آباد جیسے شہر میں پرتعیش زندگی بسر کرسکتا تھا،مگر اس نے ملتان کے ایک پیش پا افتادہ گاؤں بند بوسن کی اس بستی کو اپنا مسکن بنایا جس
کی کچی گلیوں میں اس نے بچپن گزارا تھا۔
اسے رات کے دوسرے پہر پاکستان سرائیکی ڈیموکریٹک پارٹی کے دو متحرک و سرگرم کارکن عامر گل خان اور خواجہ شعیب الحسن میرے پاس لائے،فقیر کے دسترخوان پر کوک کی ٹھنڈی بوتل کے سوا اور کچھ نہ تھا انہوں نے بھی اسی پر اکتفا کیا۔ گزرتی عمر کے اس موڑ پر جہاں ساٹھواں سال قدم سمیٹ رہا ہے شہر کے نوجوان سیاسی کارکنوں کی مجھ تک بڑھتی ہوئی رسائی مجھے زندگی کے نئے احساس اور امنگوں سے سرشار کرتی ہے۔ادھر اوصاف سے وابستگی کے تیس سال پورے ہو گئے ہیں۔بریگیڈیئر قیصر علی مہے جن کی تصویر سے آراستہ بڑے بڑے دسیوں پینافلیکسز پچھلے دو ماہ سے شہر کے بڑے
بڑے چوکوں پر آیزاں ہیں ِ،آموزش کے سے احساس کے ساتھ میرے روبرو تھے،بھلا فوج جیسے ادارے کے بریگیڈیئر رینک کے افسر سے بہتر اس ملک کے مسائل سے کون آگاہ ہوسکتا ہے،عاجزی اور انکساری کی انتہا یہ کہ جیسے جانتے بوجھتے کچھ جانتے ہی نہ ہوں اور سب کچھ مجھ سے پوچھ کر جان پائیں گے۔ ہا ں مگر وہ جس بات پر مصر تھے وہ یہ تھی کہ ملک کے ساتویں بڑے شہر ملتان کو تاراج کرنے کی ٹھان لی گئی ہے۔یہاں کے
گیلانی اور قریشی گٹھ جوڑ نے سرائیکی وسیب ہی نہیں اس کی تاریخی حیثیت کو بھی مذاق بناکے رکھ دیا گیا ہے،بہاولپور کے ایک پنجابی ممبر قومی اسمبلی نے پورے خطے کی صورت حال کو اپنی فکرو عمل کا یرغمال بنا رکھا ہے۔سرائیکی وسیب کے ایک چھوٹے سے شہر بہاولپور پر بڑی ذمہ داریاں ڈالنے پر بضد،اس طرح وہ بہاولپور ہی نہیں ملتان کی قدیم تاریخ کو بھی مسخ کر دینے کے درپے ہے۔
بریگیڈیئر قیصر علی مہے اس لحاظ سے بھی منفرد ہیں کہ ان کا نقطہء ارتکاز یہ ہے کہ ملتان کو ہر حالت میں مرکزی حیثیت ملنی چاہئے،یہ سرائیکی وسیب کا کاروباری حب ہے،خشک گودی،بین الاقوامی ہوئی اڈہ،بڑے بڑے تجارتی مراکز، سی پیک کے تمام روٹس اسی میں سے گزرتے ہیں،تمام بڑے ہوٹل اور موٹل،ملتان کو سرائیکی خطے میں وہی جغرافیائی حیثیت حاصل ہے جوجغرافیائی اعتبار سے جنوبی ایشیا میں پاکستان کی اور اپنی اہمیت کے اعتبار سے بھی یہ معتبر ہے۔بہترین تاریخی مقامات اسی میں پائے جاتے ہیں اسی لئے ہمیشہ سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز رہا ہے،انجیئرنگ یونیورسٹی،زرعی یونیورسٹی،دیگر کئی بین الاقوامی شہرت کے حامل تعلیمی ادارے بڑی تعداد میں اس میں موجود ہیں اور ہر الیکشن کے موقع پر یہاں سے نئی اور نوجوان سیاسی قیادت قومی دھارے میں شامل ہوتی ہے،گردیزیوں،قریشیوں اور گیلانیوں کو سو بار آزمایا جا چکا ہے،ان کی نئی پود بھی لوٹ مار کے سوا کچھ نہیں سیکھی۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ بریگیڈیئر قیصر علی مہے نے کسی سیاسی جماعت کے جھنڈے تلے پناہ نہیں لی،نہ کسی سرکاری درباری کی مجاوری کا پرچم اٹھایا بلکہ اپنے ذاتی وسائل سے تعمیری سیاست کر رہے ہیں انہوں نے کسی قوم پرست جماعت کا گروہ کا سہارا بھی نہیں لیا،عام لوگوں میں گھل مل کر اپنا نقطہ نظر ان تک پہنچانے کی جستجوئے پیہم میں مصروف ہیں،یہ عالم رہا تو ایک روز ملتان ان کی قیادت سے محظوظ ہوگا۔ملتان کی مقامی سیاست میں جو نئے برگ و بار پھل پھول رہے ہیں ان سے بہت ساری امیدیں لگائی جا سکتی ہیں۔دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات میں ایک ایسے ہی نوجوان سماجی کارکن سلمان نعیم نے پنجاب اسمبلی کی نشست پر مخدوم شاہ محمود قریشی کو شکست دیکر ان کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے دیرینہ خواب کو چکنا چور کردیا۔اس نوجوان نے بھی کسی سیاسی جماعت یا قوم پرست گروہ کی چھتری استعمال نہیں کی تھی اور سیاست کے ابوالہول کو اوندھے منہ گرا دیا تھا۔ بریگیڈئر قیصر علی مہے بھی مقامی سیاست کے بازی گروں کی سیاست سے بچ بچا کر صاف ستھری غریب پرورسیاسی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں۔وہ بند بوسن کے باسی ہوکر بوسنوں کی سیاست کے لئے نیا چیلنج بن رہے ہیں،ان سے پہلے نوجوان احمد حسین دیہڑ نے بھی بوسنوں کی سیاسی قوت کو خوب للکارا اور پچھاڑا مگر اس کی روز روز کی پارٹیاں بدلنے کی عادت کی وجہ سے ان کے بارے اچھی بھلی مایوسی پائی جاتی ہے۔
جنوبی پنجاب صوبہ کے حوالے سے بہاولپور اور ملتان ہر دو مقامات پر کھلی دکانیں جو کھلواڑ مچا رہی ہیں اس پر گزشتہ کالم میں بھی بات ہوئی تھی،تفصیل میں جائے بغیر بس اتنا کہنا ضروری ہے کہ اس راہ میں غیر ضروری باتوں اور جھوٹے دعووں سے گریز کرنا چاہئے اب عوام اپنا برا بھلا پہچانتے ہیں اس قضیے کو ان پر چھوڑ دینا چاہئے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker