تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : نیب کا احتساب کیسے ہو گا ؟

اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت نے سابق صدر آصف زرادری پر پارک لین ریفرنس میں فرد جرم عائد کردی ہے۔ اس موقع پر ملزم کو حاضر کرنے کے لئے نیب نے بلاول ہاؤس کراچی سے خاص طور سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کے انتظامات کئے تھے تاکہ اس معاملہ پر کارروائی آگے بڑھ سکے۔ یہ تقریباً بیس برس پرانا کیس ہے تاہم موجودہ حالات میں آئیندہ بیس برس تک بھی اس کیس کا کوئی ایسا فیصلہ سامنے آنے کا امکان نہیں ہے جسے سب فریق انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق سمجھیں۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد حال ہی میں ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران نیب کی کارکردگی اور ناقص قانونی مہارت پر سوالات اٹھا چکے ہیں۔ اسی سماعت میں حکومت کو 1200 کے لگ بھگ پرانے مقدمات نمٹانے کے لئے فوری طور سے 120 احتساب جج مقرر کرنے کی ہدایت کی گئی تھی اور مختلف محکموں سے اس حوالے سے تفصیلی سمری بھی طلب کی گئی تھی۔ جیسا کہ عدالتی کارروائیوں میں ہوتا ہے سرکاری محکموں نے اتنی کثیر تعداد میں عدالتیں قائم کرنے کے لئے درکار وسائل کا حوالہ دیا اور سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ اس کےلئے وزارت خزانہ کی منظوری اور کابینہ کی اجازت درکار ہوگی اور شاید موجودہ بجٹ میں یہ وسائل فراہم کرنا حکومت کے دائرہ اختیار میں نہ ہو۔ ابھی یہ معاملہ عدالت کے زیر غور ہے لیکن اس بات کےکوئی آثار نہیں ہیں کہ سپریم کورٹ کی خواہش کے مطابق حکومت یا احتساب بیورو کو زیرسماعت مقدمات کے فیصلے کروانے کی کوئی جلدی ہے۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی اس بات کا جواب تلاش کرنا حکومت کی قانونی ذمہ داری ہے کہ اصولی طور پر نیب کے کسی بھی معاملہ میں فیصلہ تیس روز میں ہوجانا چاہئے لیکن اکثر معاملات کو کئی کئی برس تک زیر تفتیش رکھا جاتا ہے اور ان پر کارروائی نہیں ہوپاتی۔ جب نیب کے ماہرین کسی معاملہ کو عدالت میں لے کر آتے ہیں تو وہ ناقص تحقیقات کا شاہکار ہوتے ہیں ۔ عدالتوں میں الزامات ثابت نہیں ہوپاتے۔ چیف جسٹس کا مؤقف ہے کہ جو کام نیب کے تفتیشی افسروں اور استغاثہ کو کرنا چاہئے، اسے عدالتوں پر چھوڑ دیا جاتا ہے اس طرح ججوں اور عدالتوں کے بوجھ میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر نیب درست طور سے اپنا کام کرے اور مقدمہ کو مناسب طریقے سے تیار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے تو جلد فیصلہ دینے میں رکاوٹ حائل نہیں ہوسکتی۔
حکومت پر اس حوالے سے اخلاقی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ عمران خان کی حکومت نے بدعنوانی ختم کرنے کو اپنا اولین ہدف قرار دیا ہے۔ یہ مقصد کو حاصل کرنے کے لئے قومی احتساب بیورو ہی حکومت کا سب سے مضبوط ہتھیار ہے۔ اسی کے ذریعے مخالف سیاسی رہنماؤں بلکہ میڈیا سے متعلق لوگوں کو گرفتار کرکے ہراساں کیا جاتا ہے اور جب ریفرنس دائر کرنے کی نوبت آتی ہے یا مقدمہ کی باقاعدہ کارروائی شروع ہوتی ہے تو نیب کے لئے الزامات کو ثابت کرنا دشوار ہوجاتا ہے۔ اس طرح یہ تاثر قوی ہوتا ہے کہ نیب صرف سیاسی مقاصد کے لئے استعمال ہونے والا ایک ادارہ بن کر رہ گیا ہے۔ حیرت ہے کہ عمران خان اگر واقعی ملک میں بدعنوانی کے خاتمہ اور سابق حکمرانوں کو ان کے مبینہ جرائم کی سزائیں دلوانے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو انہوں نے انتہائی بری شہرت کے ادارے کی اصلاح سے پہلے اسے سیاسی دشمنوں کے خلاف استعمال کرنے کا ارادہ کیوں کرلیا۔
سیاسی لیڈروں کو ان کے جرائم کی سزا دینے کے لئے سب سے پہلے ان اداروں کی تطہیر ہونی چاہئے تھی جن کے ذریعے ملک میں قانون کی بالادستی قائم کی جاسکتی ہے اور لوگوں کو ان کے جرائم کی سزا دینا مقصود ہے۔ احتساب کے سوال پر سنجیدہ کوئی بھی حکومت نیب جیسے ادارے کی اصلاح کے بغیر اس مقصد میں نہ تو پیش رفت کرسکتی ہے او رنہ ہی اس سے مطلوبہ نتائج حاصل کئے جاسکتے تھے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے جو طریقہ اختیار کیا ہے، اس سے یہ اخذ کرنا مشکل نہیں ہے کہ وزیر اعظم سیاسی دشمنوں کو ناکوں چنے تو چبوانا چاہتے ہیں لیکن احتساب میں یقین نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد معاملات میں الزام عائد ہوتے ہی وزیر اعظم سمیت حکومتی نمائیندے الزام تراشی کا سلسلہ شروع کردیتے ہیں۔ حالانکہ کسی عدالت میں الزامات کو ثابت کرنے کی نوبت نہیں آتی۔ حکومت اور اس کے نمائیندے ان الزامات کو سیاسی فائدہ کے لئے استعمال کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ انہیں اس بات سے غرض نہیں کہ الزامات کسی عدالتی فیصلہ کے ذریعے ثابت بھی ہوجائیں۔
نیب کے چئیر مین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے عمران خان کے برسر اقتدار آنے کے بعد فوری طور سے ان سے ملاقات کی اور انہیں مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ یہ ملاقات ایک آئینی ادارے اور ایک منتخب وزیر اعظم کے مابین ہورہی تھی جس کا کوئی اخلاقی جواز تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ نیب کو بطور ادارہ دراصل حکومت کی نگرانی پر مامور ہونا چاہئے تاکہ سرکاری عمال اور حکومتی اہلکار کسی قسم کی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہ ہوں۔ اس کے برعکس نیب ایسے لوگوں کو تلاش کرکے ان کے خلاف کارروائی کرتا ہے جو سیاسی طور سے حکومت مخالف ہوں۔ وزیر اعظم سے جاوید اقبال کی ملاقات نے نیب کے سیاسی کردار اور عمران خان کی طرف سے اس کردار کو تسلیم کرنے کے علاوہ اس کی تائد کا ارادہ ظاہر ہوتا ہے۔ چئیرمین نیب کی باتوں، دعوؤں اور حکومتی نمائیدوں کے بیانات سے بھی اس ساز باز کی تصدیق ہوتی ہے۔ طویل مدت تک جس طرح کوئی ریفرنس دائر کئے بغیر متعدد قومی سیاسی رہنماؤں کے علاوہ جیو اور جنگ کے مالک و مدیر میر شکیل الرحمان کو حراست میں رکھا گیا ہے، اس سے بھی حکومت نیب ملی بھگت کا پتہ چلتا ہے۔گزشتہ برس ایک خاتون نے چئیر مین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال پر جنسی طور سے ہراساں کرنے اور اخلاق باختگی کے الزام عائد کئے تھے۔ جاوید اقبال نے نیب کی طرف سے ایک پریس ریلیز میں اس کی تردید کرنا کافی سمجھا۔ حالانکہ ملک کے احتساب ادارے کی سربراہی کرنے والے شخص کا کردار ہر لحاظ سے شک و شبہ سے بالا ہونا چاہئے۔ اگر یہ الزام صریحاً جھوٹ کا پلندا بھی تھا تو بھی جاوید اقبال یہ معاملہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کرتے اور اس دوران اپنے عہدے سے رخصت پر چلے جاتے تاکہ ان کی صداقت اور اخلاقی کردار پر اٹھنے والے سوالوں کو مسترد کیاجاسکتا اور نیب کی خود مختاری اور اعلیٰ معیار کی تصدیق بھی ہوسکتی۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال یہ اقدام کرنے میں ناکام رہے ۔ اس طرح وہ خود ہی نیب اور اپنے کردار کو مشکوک بنانے میں معاون ہوئے۔
حکومت کے پاس بھی یہ موقع تھا کہ وہ ان الزامات کی روشنی میں جاوید اقبال کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجواتی تاکہ چئیر مین نیب اپنی بے گناہی ثابت کرکے سرخرو ہوسکتے۔ حکومت نے مشکوک کردار کے چئیرمین نیب کے خلاف تو اقدام کرنا ضروری نہیں سمجھا لیکن ایک غیر معروف شخص کی درخواست کا سہارا لے کر جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس ضرور دائر کردیا۔ جسٹس عیسیٰ کو بہترین قانون دان ہونے کے علاوہ اعلیٰ کردار کا نمونہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے باوجود حکومت نے اس معاملہ کو اچھالنا ضروری سمجھا اور ریفرنس برقرار رکھنے پر اصرار کیا۔ حکومت کے اس دوہرے معیار سے ’سب کے ساتھ یکساں سلوک‘ کے سرکاری دعوے کا پول ہی کھلا ہے۔
العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو سزا دینے والے جج کی بدکرداری تو اب یوں بھی ثابت ہوچکی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے اس جج کو برطرف کردیاہے۔ لیکن سابق جج ارشد ملک کی ویڈیو سامنے آنے اور اس اعتراف کے بعد کہ اس نے یہ فیصلہ کسی مصلحت یا دباؤ میں کیا تھا، تحریک انصاف کی شفاف حکومت نے نہ تو ایسے بدعنوان اور ناقابل اعتبار جج کے خلاف کارروائی کی یا عدالت سے اس کادیا ہؤا فیصلہ مسترد کرنے کی درخواست کی گئی ۔ اس حکومتی طریقہ سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ عمران خان یا ان کی حکومت کو انصاف فراہم کرنے اور شفاف طریقے سے قصور واروں کو سزا دلوانے میں دلچسپی نہیں ہے بلکہ وہ کسی بھی قیمت پر سیاسی مخالفین کو ٹارگٹ کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ جب تک یہ مقصد حاصل ہوتا رہے تو جاوید اقبال جیسا چئیرمین نیب اور ارشد ملک جیسے احتساب ججوں کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ اگر کوئی جج حکومتی اقدامات پر سوال اٹھائے تو اسے یا تو نظر انداز کردیا جائے یا ایسے ججوں کی کردار کشی کا کوئی طریقہ اختیار کیاجائے۔
سپریم کورٹ گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران متعدد بار نیب کی بے عملی، ناقص کارکردگی، نااہلی اور نیت پر سوال اٹھا چکی ہے۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران ایک مقدمہ میں جسٹس فائز عیسیٰ نے جب روالپنڈی نیب کے ڈائریکٹر جنرل عرفان نعیم منگی کی اہلیت کے بارے میں استفسار کیا تو پتہ چلا کہ ان کی تعلیم تو انجینئرنگ کے شعبہ میں ہے لیکن انہیں نیب کا اعلیٰ عہدہ دے کر قانونی معاملات طے کر نے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ سابقہ حکومتوں پر الزامات دھرنے والی حکومت کے دور میں جب ایسے انکشافات سامنے آتے ہیں تو نیب، احتساب کے پورے عمل اور حکومت کی نیک نیتی پر سوالیہ نشان لگتے ہیں۔ اس صورت حال کو قبول کرکے عمران خان خود اپنے لئے مشکلات پیدا کررہے ہیں۔ وہ بدعنوانی کے خاتمہ کو سیاسی مشن کا درجہ دے کر بدعنوانی اور سیاسی اختیار کے ناجائز استعمال کی ایک نئی مثال قائم کررہے ہیں۔
تحریک انصاف اور اس کے نمائیندوں کا یہ دعویٰ غلط اور دستیاب شواہد کے برعکس ہے کہ نیب کی اصلاح سے سابق حکمران بدعنوانی کی سزا سے بچ جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک مشکوک ادارے کو مسلسل سیاسی اور صحافتی دشمنوں کے خلاف استعمال کرکے عمران خان کا یہ نعرہ جھوٹ ثابت ہورہا ہے کہ وہ بدعنوانی ختم کرکے ہی دم لیں گے۔ بدعنوانی ختم کرنے کے لئے مشکوک نیب کا خاتمہ اور غیر منصفانہ احتساب قوانین کی اصلاح بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker