اختصارئےلکھاریماہ طلعت زاہدی

میں شاعر تو نہیں .. ماہ طلعت زاہدی

جب میں کالج میں پڑھاتی تھی، تو میری ایک ساتھی جو ڈبل میتھمیٹکس کی لیکچرار تھی، ہمیشہ اپنے گھریلو حالات سے تنگ واقعی روتی ہوئی آتی تھی، میں اُسے لطیفے سناتی، ہنساتی۔ یہ میں نے از خود اپنا فرض بنا لیا تھا۔ ملازمت کے دوران یا کسی بھی محفل میں میں نے اپنا شاعرہ ہونا کبھی ظاہر نہیں کیا تھا، کچھ مِزاجاً اور کُچھ لوگوں کی خوش مذاقی دیکھتے ہوئے۔ 1987 میں کالج میں آنے والے اخبار میں خبر لگی، اہلِ قلم کانفرس اسلام آباد میں ملتان سے جو ادیب مدعو ہیں، ان میں مقصود زاہدی اور ماہ طلعت زاہدی بھی شامل ہیں۔ ساتھ میں پاپا کی رباعیات میری غزل بھائی جان کی نظم دی اس عنوان کے ساتھ = ایں خانہ تمام آفتاب است۔ اب میرا پول کھل چکا تھا، مگر میری وہ دوست، عبادہ جس کا نام تھا، مجھے کسی طور شاعرہ ماننے پر تیار نہ تھی، میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگی : شاعروں کے بال بکھرے ہوتے ہیں،انگلیوں میں سگریٹ اور آنکھیں خلا میں رہتی ہیں، وہ دوسروں کو کیا ہنسائیں گے خود ہی روتے رہتے ہیں، آپ شاعرہ نہیں ہو سکتیں۔ میں مانتی ہی نہیں۔۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker