"ہجرت اختیاری نہیں ہوتی ، یہ ہمیشہ جبری ہوتی ہے اور مہاجر جس دھرتی میں جاکر بستا ہے وہاں کی شناخت اسے اپنانا ہوتی ہے اس انجذاب میں اختیار کم اور جبر زیادہ ہوتا ہے”(منصور کریم سیال)
وہ جو خیالوں میں ہمارے سدا مہکتے رہتے ہیں اور ہمارے احساس کے لیے آسرا بن کر دلوں مین دہکتے رہتے ہیں۔ جن کے ماجرے انوکھے ہوتے ہیں اور وہ جذبوں کو سب سے پہلے سنبھال کر رکھتے ہیں ۔ وہ جو اپنی خماری کی سلامتی مانگتے ہیں اور اپنے شریر سے دھرتی ماں پر وفاداری کی ریاضتیں کرتے ہیں ۔ وہ عشق سے سرور لیتے ہیں اور اسی کے نشے میں بہکتے رہتے ہیں ۔ ایسے لوگوں سے آشنائی ہونے کے بعد ان جدائی کا سوچ کر بھی کلیجہ منہ کو آتا ہے چہ جائیکہ کہ "مرگ یوسف کی خبر سچ ثابت ہوجائے”۔
آج دو روز ہونے کو آئے ہیں اور میں سرائیکی وسیب سے آنے والی مرگ یوسف کی خبر سن کر سکتے میں بیٹھا ہوں اور سمجھ نہیں آرہی کہ کیسے اس کا تعزیت نامہ Obitury رقم کروں ۔
ڈیرے اڈے پر سیٹزن سینما کے سامنے ایک گلی میں ایک بنگلہ تھا ، اس کا سرسبز کشادہ لان ، جہاں کرسیاں بچھی ہوئی ہیں ، یہ مارچ کا مہینا تھا اور خوؤگوار ہوا چل رہی تھی ۔ میں کامریڈ رضو شاہ کی ایک پرانی سی ہنڈا سی ڈی -70 پر سوار ہوکر وہاں پہنچا تھا ۔ کرسیوں پر پہلے سے کئی لوگ براجمان تھے ، ان میں سے کچھ چہرے میرے پہلے سے شناسا تھے اور کچھ چہرے اجنبی تھے۔ صوفہ نما کرسی پر ایک لحیم شحیم شخص براجمان۔ اس نے کھدر کی شلوار قمیص پہن رکھی تھی ۔ شیو بڑھی ہوئی تھی جو ساری کی ساری سفید بالوں سے بھری تھی ۔ سر کے بال بھی سارے سفید تھے لیکن وہ فوجی کٹ کے انداز مین تراشیدہ تھے۔ گول چہرہ ، موٹی موٹی آ نکھیں جن میں ذہانت کے ساتھ ساتھ شرارت جھلک رہی تھی ۔ کشادہ پیشانی تھی ۔ جلد کا رنگ جو کبھی کندمی رہا ہوگا لیکن اب اس میں ہلکی ہلکی سیاہی بھی جھلک رہی تھی ۔ قمیص کی آستینیں کہنی تک چڑھی ہوئی تھیں ۔ اس کے سامنے ایک ٹیبل پڑی تھی جس پر ایک جگ پڑا ہوا تھا جو برف کے ٹکڑوں سے بھرا ہوا تھا ۔ ساتھ دو بوتلیں پڑی تھیں ۔ ایک آدھی خالی تھی- دوسری ابھی سیل پیک تھی – جبکہ شیشے کے کئی گلاس میز پر سجے ہوئے تھے۔ لان قہقوں سے گونج رہا تھا ۔ رضو شاہ اس صاحب کے ساتھ پڑی خالی کرسی پر بیٹھ گیا اور میں نے ذرا فاصلے پر پڑی ایک کرسی سنبھالی جہاں میرے ساتھ سہیل جاوید بیٹھا ہوا تھا اور ان کے ساتھ سرائیکی وسیب کا ایک معروف شاعر بیٹھا ہوا تھا جس کی نطموں کی کتاب "بھوندی بھوئیں تے”(گھومتی زمین پر) کا دوسرا ایڈیشن آیا تھا اور مجھے وہ کتاب ایک اور شاعر جو وسمل پنھوار کے نام سے شاعری کرتا تھا نے پڑھنے کو دی تھی جس میں ایک نظم اس بنگلے کے مالک کے نام لکھی گئی تھی ۔ اس مجلس میں اس دن میں پہلی بار محمود نظامی سے ملا تھا ۔ اور یہیں میری پہلی بار ملاقات شمیم عارف قریشی سے ہوئی تھی جس کی گفتگو بوجھل سے بوجھل محفل کو کشت زعفران بنادیا کرتی تھی ۔ میں شمیم عارف قریشی کی صحبت میں جتنا ہنسا اتنا میں نہ ان سے ملاقات سے پہلے ہنسا تھا اور نہ ہی اس کے جانے کے بعد ہنس پایا۔
رضو شاہ نے اس نوابی اور درویشی کی شان لیے شخص کو میرے بارے میں بتایا ۔ ابھی وہ کچھ اور بھی بولتے کہ وہ شخص درمیان میں بول پڑا، "رضو ، چپ کر، حسینی کو خود بتانے دو”، پھر مجھ سے پوچھا کہ میرے مشاغل کیا ہیں ؟ میں نے انہیں جو بتایا ان میں سے ایک ادب عالیہ کے مطالعے بارے تھا ۔ جن ادیبوں کے لیے میں اپنے بے پناہ شغف کا اظہار کیا ان میں ایک نام ٹالسٹائی کا بھی تھا۔ ٹالسٹائی کا نام سنا تو وہ جیسے پھڑک گئے۔ مجھے بتانے لگے کہ ایف سی کالج میں گریجویشن کے زمانے میں وہ انگریزی ادب کے طالب علم تھے اور اس زمانے میں ان کا سب سے پسندیدہ ادیب ٹالسٹائی تھا اور اس کی کتاب "وار اینڈ پیس” انھوں نے اتنی بار پڑھی کہ اس کی اکثر لائنیں انھیں آج بھی ازبر ہیں ۔ساتھ ہی انھوں وار اینڈ پیس ناول سے کئی لائنیں اپنی گونج دار آواز میں ڈرامائی اسلوب کے ساتھ سنادیں ۔ اس دوران وہ اپنے پورے جسم سے حرکات و سکنات بھی دے رہے تھے اور مجھے لگا کہ ان کے اندر ہو نہ ہو ایکٹنگ کے جراثیم ابھی باقی ہیں ۔ پھر انھوں نے ایک اور ملاقات میں اس بات کی تصدیق بھی کی تھی کہ ایک بار وہ ایف سی کالج کی ڈرامیٹک سوسائٹی کے تحت ایک ڈرامے میں ایکٹنگ کرنے گئے تھے۔ انھوں نے مجھے وار اینڈ پیس کی ایک لائن کا روسی اور انگریزی ورشن پڑھ کر حیران کردیا تھا،
«Патриотизм в его простейшем, ясном и непоколебимом значении есть не что иное, как естественная любовь к месту, где человек родился и вырос, к обычаям, к народу, с которым он связан. Но настоящий патриотизм не требует ненависти к другим народам.»
— Лев Толстой, Война и мир
اردو رسم الخط مین یہ تلفظ یوں بنے گا،
پتریوتیزم و ییوو پراستیئشِم، یاسنم ای نِپاکالیبی مام زناچینی ییست نی شتو اینویے، کَک یِستَیست وے نایہ لیوبوو ک مَیستو، گدے چَیلاویک رادیلسیا ای وِی رَس، ک ابیچی یَم، ک نَارودو، س کَتورِم اُن سْوِیازان۔ نو نَستَیاشچی پتریوتیزم نِی تْرِیبوئیَت نِنَاوِیستی ک دْرُگِیم نَارودَام
[حب الوطنی، اپنی سب سے سادہ، شفاف اور ناقابلِ انکار صورت میں، اس کے سوا کچھ نہیں کہ انسان کو اس سرزمین سے ایک فطری محبت ہو جہاں وہ پیدا ہوا، جہاں اس نے پرورش پائی؛ اُس کی روایتوں، رسموں اور اُن لوگوں سے جو اس کے وجود کا حصہ ہیں۔لیکن سچی حب الوطنی، کبھی بھی دوسروں سے نفرت کا تقاضا نہیں کرتی۔]
پھر کہنے لگے کہ تم نے کہا ہے کہ تمہیں تنقید میں آئی اے رچرڈ بہت پسند ہیں۔ کیا تم ان کے ٹون، اوور ٹون اور انڈر ٹون کا اس لائن پر اطلاق کرسکتے ہو؟
میرے لیے یہ سوال گڑبڑا دینے والا تھا ۔ میں نے اپنی نا اہلی کا صاف اعتراف کیا۔ اور کہا کہ میں تو سمجھتا ہوں اس تنقید کا اطلاق شاعری پر ہوسکتا ہے فکشن پر نہیں ۔ جیسے اگر آپ مجھ سے یہ میر کے اس شعر پر اس کے اطلاق کا کہیں ،
اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ
پھر ملیں گے اگر خدا لایا
اس کی ٹون/ لہجہ خاموشی سے لبریز وداع کا ہے — جیسے کوئی ٹوٹے دل کے ساتھ رخصت ہو رہا ہو، مگر الزام دیے بغیر، شکایت کیے بغیر۔ یہ لہجہ راضی برضا کا ہے، جس میں شاعر اپنے جذبات کے شور کو خامشی میں لپیٹتا ہے۔ یہ tone نرم، مغموم اور فہیم ہے۔
اس شعر میں "اگر خدا لایا” کی ترکیب میں ایک گہری حسرت اور کبھی نہ لوٹ سکنے کا اندیشہ چھپا ہے۔
یہ اس کی اوورٹون/ جذباتی آہنگ ہے جو ہمیں ایک ایسے جذباتی منظر میں لے جاتی ہے جہاں محبت، فراق، تقدیر اور عاجزی سب ایک ساتھ موجود ہیں۔ یہ صرف عشق کی بات نہیں — یہ انسانی بےبسی، خدائی فیصلے، اور دل کے سکوت کی بات ہے۔
بت کدہ” صرف مجازاً معشوق کا مکان نہیں — یہ دنیا، جسم، یا حتیٰ کہ خودی کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔ "اگر خدا لایا” — یہ تقدیر کے ہاتھوں میں سب کچھ چھوڑ دینے کی کیفیت ہے؛ یعنی انسان کی حیثیت محض ایک مسافر کی ہے۔ یہ اس شعر کی انڈرٹون/ پوشیدہ آہنگ / معنویت ہے جو مذہبی وجودی ہے۔
کہنے لگے ، "اس تنقیدی نظریہ کا فکشن پر بھی بخوبی اطلاق ہوتا ہے۔ دیکھو ،ٹون/ آہنگ یہاں ایک استادانہ وقار اور نرمی کے ساتھ حب الوطنی کی اصل فطری شکل کو معقول انداز میں بیان کرتا ہے، بغیر کسی سختی یا جذباتی انتہا کے۔ اوورٹون اس اقتباس میں حب الوطنی کو ریاستی نہیں بلکہ ماں جیسی فطری اور نرم انسانی محبت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ انڈر ٹون اس اقتباس میں خاموشی سے اس زہریلی قوم پرستی پر تنقید کرتا ہے جو حب الوطنی کے نام پر دوسروں سے نفرت سکھاتی ہے اور ہمیں اپنے سیکھے ہوئے بیانیے پر سوال اٹھانے پر مجبور کرتا ہے۔”
اصل میں وہ یہاں ادب سے کہیں زیادہ "قوم پرستی” کے جواز پر دلیل دے رہے تھے کیونکہ میں نے اپنی گفتگو میں یہ بھی کہا تھا کہ میں قوم پرست نہیں لیکن قومی سوال اور تضاد کو مانتا ہوں اور یہ طبقاتی تضاد کے زیریں تضاد ہے۔
وہ جب جب مجھ سے ملے ، ان سے گفتگو کرکے بخوبی اندازہ ہوا کہ وہ تھیوری اور پریکٹس دونوں میدانوں کے ماہر شہسوار تھے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ 70ء میں نیشنل عوامی پارٹی – ولی خان میں شامل ہوئے جب ان کی عمر 22 سال ہوچکی ہوگی ۔ وابستگی بہت تھوڑی رہی ہوگی کیونکہ 1972ء میں یہ پارٹی ایک بار پھر زیرعتاب آئی اور 1975ء میں اس جماعت پر پبندی لگ گئی ۔ یہ وہاں سے خورشید حسن میر کی نئی پارٹی عوامی جمہوری پارٹی میں چلے گئے۔ یہ صوبہ سرائیکی محاذ کے جنرل سیکرٹری رہے اور پھر پاکستان سرائیکی پارٹی میں چلے گئے۔ پھر ایک وسیبی اتحاد سرائیکی قومی رابطہ کونسل کے دوسرے دور میں جیف آرگنائزر بنائے گئے ۔
ان کا سیاسی کرئیر قریب قریب 45 سالوں پر محیط رہا ۔ انھوں نے وراثت میں ملنے والی اربوں روپے کی قیمتی شہری و زرعی اراضی کا بہت بڑا حصّہ سرائیکی وسیب کے لیے الگ صوبے کی جدوجہد کی سیاست کی نذر کردیا۔
میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا- وہ ڈیرہ اڈا سے گارڈن ٹاؤن کینٹ منتقل ہوئے۔ وہاں بھی ان سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا ۔ میں نے روزنامہ خبریں ملتان میں کالم نگاری شروع کی اور اس دوران سرائیکی قومی سوال اور اس سے جڑے دیگر مسائل پر سینکڑوں کالم لکھے – جب بھی میرا کالم شائع ہوتا، ان کی طرف سے فون موصول ہوتا اور وہ مجھے اپنے خیالات سے آگاہ کرتے۔ کہیں انہیں لگتا کہ مجھے کچھ سمجھانے کی ضرورت ہے تو مجھے ملنے کو کہتے۔ میں نے ان سے ہجرت، مہاجرت، نیشنل ازم ، مارکس واد، شناخت ، نسل پرستی ، شاؤنزم ، تہذیب، ثقافت سمیت درجنوں موضوعات پر بہت کچھ سیکھا- وہ محفل اور مجلس کے آدمی تھے ۔ لیکن لکھنے کی طرف بالکل بھی مائل نہیں تھے۔ میں چاہتا تھا کہ وہ اپنی زندگی کے ماہ و سال کی کہانی قلمبند کر جائیں ۔ ان کے پاس پاکستان کی سیاست، ریاست، ثقافت ، معشیت ، اس میں بسنے والی اقوام، قبائل، ایتھنک گروپوں ، ذاتوں کے بارے میں نئی نسل کو بتانے کے لیے بہت کچھ تھا- انھوں نے سوشل میڈیا کو بھی اظہار کا بہت کم ذریعہ بنایا۔ وہ وادی سندھ کی مقامی دانش کی تجسیم تھے ۔ وہ بلاشبہ مادی تاریخ کے جنمے فرد تھے لیکن ایسے فرد تھے جو تاریخ میں خال خال نظر آتے ہیں۔ کورونا کی وبا ایسی تھی جس نے مجھے ملتان شہر سے بہت دور کردیا تھا حالانکہ اس وبا کے دوران اور بعد میں بھی میں ملتان ہی میں "روزگار” کے سلسلے میں آتا جاتا رہا اور پھر یہیں کا ہو کر رہ گیا لیکن میں ملتان میں موجود ہوکر بھی "غیرموجود” ہوگیا تھا اور اب تک شاید میں "غیر موجود” ہی ہوں ۔ میں ان سے پھر نہیں مل پایا لیکن آخری بار مجھے سہیل جاوید نے ان کے بارے میں بتایا کہ وہ اکثر وبیشتر ملتان پریس کلب رات کو آجاتے تھے لیکن اب کچھ دنوں سے علالت کے سبب ان کا یہ آنا جانا بھی موقوف ہوگیا ہے۔ ویسے ایک تو آدمی ایک ایک کرکے صحبت نازک خیالاں سے محروم ہوکر اور مجلس کے اجڑ جانے سے رفتہ رفتہ موجود سے "غیر موجود” ہونا شروع ہوتا ہے اور پھر اسے جسم کے طبعی عوارض لیکر بیٹھ جاتے ہیں ۔ ملتان میں ان کے دیکھتے ہی دیکھتے کیسے جھاڑو پھر گئی تھی اس کا انہیں بہت ملال اور غم تھا ۔ پھر ایک وقت وہ آیا کہ وہ خود کہیں آنے جانے سے معذور ہوگئے اور انہیں سہارے کے ساتھ آنا جانا پڑتا تھا اور ایسے ایک منزل وہ آئے جب آدمی یہ سوچے کہ کہاں جائے، کس ٹھکانے پر بیٹھے جہاں دل کا حال سنایا جاسکے اور سننے والے بھی محرم راز ہوں ۔ یہ مرحلہ "جھوک فنا دی ہئے” کا ہوتا ہے اور آخرکار آدمی مٹی میں مل کر دھرتی میں جذب ہوجاتا ہے اور منصور کریم سال بھی ہوگئے۔ محمود نظامی اور منصور کریم سیال کی طینیت اپنی دھرتی ماں میں جذب ہوکر بہت خوش ہوئی ہوگی ۔ میں ان کے معاملے میں روح، عالم ارواح، عالم برزخ و عالم مثال جیسی صوفیانہ اور مابعد الطبعیاتی اصطلاحیں یا ان کے وجود کے عدم بود ہونے کی بجائے اسے وجود لطیف کے ساتھ کسی اور جگہ ملنے کی بات اس لیے نہیں کر رہا کہ وہ ایسی کسی مابعدالطبعیات کے قائل نہ تھے۔ اگر وہ سر تاپا مادیت پسند نہ ہوتے تو میں دونوں کی روحوں کے عالم ارواح میں دوبارہ ملاقات کا ایسا نقشہ کھینچتا شاہ ولی اللہ کی تفیہمات اللہیہ کا ایک نیا باب تخلیق ہونے کا گمان ہوتا یا فصوص الحکم کی ایک نئی "فص” وجود میں آجاتی ۔ کامریڈ منصور کریم سال کو لال سلام
فیس بک کمینٹ

