لاہور :شہباز شریف کےصاحبزادے اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ ’مجھے جب بھی نیب کی جانب سے نوٹس ملا میں تحفظات کے باوجود پیش ہوا۔ آج کیا قیامت ٹوٹ پڑی کہ اس انداز میں میرے گھر کا گھیراؤ کیا گیا اور دیواریں پھلانگ کر داخل ہونے کی کوشش کی گئی۔‘نیب کی ٹیم کے ان کے گھر سے رخصت ہونے کے کچھ ہی دیر بعد حمزہ شہباز نے لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نیب کے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آج چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا ہے۔نیب کی ٹیم جمعے کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں واقع حمزہ شہباز کے مکان پر پہنچی اور نیب کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ٹیم کے ارکان کو وہاں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نیب کے ان کی رہائش گاہ پر ایکشن سے انھیں ایسا محسوس ہوا جیسے کسی دہشت گرد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہو۔’لاہور ہائی کورٹ کا واضح آرڈر ہے کہ نیب کو گرفتاری سے 10 روز قبل ملزم کو اطلاع دینا ضروری ہے مگر آج اس فیصلے کی دھجیاں اڑائی گئیں ہیں۔ نیب ٹیم سپر مین بن کر آئی تھی۔‘ان کا کہنا تھا کہ نیب نے شرمناک حرکت کی ہے اور اب کسی کی عزت محفوظ نہیں ہے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا ملزمان کو بغیر اجازت گرفتار کرنے کے حالیہ فیصلے میں ان کے بارے میں پہلے سے موجود لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دیا گیا اور یہ ابھی بھی نافذ عمل ہے۔
بدھ, اپریل 29, 2026
تازہ خبریں:
- سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی ملازمت ختم : غیر ملکی صحافیوں کے اعزاز میں تقریب کارروائی کا باعث بنی
- عدلیہ کے کفن میں آخری کیل : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- فیلڈ مارشل کو ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے : وسعت اللہ خان کا کالم
- قم کے ایک عظیم کتب خانے کا احوال : سیدہ مصومہ شیرازی کے قلم سے
- جذبات کی طاقت اور حیدرآباد کنگزمین کی کارکردگی : ڈاکٹر علی شاذف کا کرکٹ کالم
- ٹرمپ پر حملے کا ملزم اور بہترین استاد کا اعزاز : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم
- کیا ایموجی کی نئی عالمی زبان لفطوں کی روشنی ختم کر رہی ہے ؟ شہزاد عمران خان کا کالم
- صحافی کی گرفتاری اور رہائی : پاکستانی میڈیا کے لیے غیر ضروری خبر : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- تہذیبوں کے درمیان ایک مکالمہ : وجے پرشاد کا فکرانگیز مضمون
- اشرف جاوید کے ساتھ برسوں بعد ملاقات : طباق ، تپاک اور چشم نم ناک ۔۔۔ رضی الدین رضی کی یاد نگاری

