قیصر عباس صابرکالملکھاریمزاح

پگڑی اچھال صحافت کے بانی کا نمائندگان کے نام خط : صدائے عدل / قیصر عباس صابر

میرے علاقائی و مضافاتی نمائندگان
تم پر سلامتی ہو ۔۔۔۔۔
آج میرا جی چاہ رہا ہے کہ میں آپ لوگوں کو ایک خط لکھوں جو آپ کے لئے میری نصیحت بھی ہو اور وصیت بھی۔ آپ لوگ میرے کاروباری خاندان کا حصہ ، کماﺅ پوت اور سپوت ہو اس لئے آپ لوگوں سے دل کی ہر بات کرسکتا ہوں۔ میں آج فخر سے یہ بات بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے اخبار کو ملک کے پندرہ بڑے شہروں سے بیک وقت شائع ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور پھر ملک کی سب سے بڑی صحافتی تنظیم کے بانی اور متحرک کارکنان کا تعلق بھی ہمارے اخبار سے ہے۔اخباری مالکان کی تنظیم جو پہلے ہمیں تسلیم نہیں کرتی تھی اب وہ ہمارے بغیر اپنا مؤ قف حکومت تک پہنچا ہی نہیں سکتی ، کیونکہ ہم نے حکومت میں شامل بہت سے سیاستدانوں کو ”اعزازی صحافی “ بنا رکھا ہے۔
میں نے جب اپنے اخبار روزنامہ اندھیر نگری کی بنیاد رکھی تو صحافت بہت سست اور ہومیو پیتھک تھی، صرف خبر چھاپنے کی حد تک اخبارات کا کردار تھا، جس کے خلاف خبر شائع ہوتی وہ نیوز ایڈیٹر کے ماہرانہ اور شریفانہ اندازِ مدبرانہ کی آڑ لے کر بچ نکلتا ۔ سیاستدان ، بیورو کریٹ ، اہلکار اور کرپٹ مافیا کا مکمل نام شائع کرنے کی بجائے بریکٹ میں نام کا پہلا حرف شائع کیا جاتا اور اس کے عہدے کی جگہ صرف ایک ” بااثرشخصیت “ تحریر ہوتا مگر میں نے پہلی بار صرف الزامات کی بنیاد پر ہی مکمل نام ، ولدیت اور تفصیل شائع کرکے پگڑی اچھال صحافت کا آغاز کیاجسے چند پڑھے لکھے دانشوروں نے تنقید کا نشانہ بنایا مگر میں نے بطور چیف ایڈیٹر اپنے نیوز روم کو ہدایت کردی کہ ان دانشوروں کی تنقید کو سنجیدہ نہ لیا جائے کیونکہ ہمارا اخبار تھڑوں، حماموں اورلسی کی دکانوں پر زیادہ پڑھا جاتا ہے اس لئے ہمیں ان کے معیار پر پورا اترنا ہے ۔ آپ کا شکریہ بھی ادا کرنا ہے کہ اپنے اپنے گلی محلوں میں چھپے ڈبہ پیروں ، پتنگ فروشوں ، عطائیوں ، جعلی گدی نشینوں ، سود خوروں اور چرس فروشوں کو جس طرح بے نقاب کیا اس سے ایک طرف تو ہمارے اخبار کے چرچے ہوئے اور دوسری طرف ان سے مقرر ہونیوالی ماہانہ رقم ہمارے دفاتر کی نئی عمارتیں تعمیر کرنے کے کام آئی۔ اب جب وہ آپ کے زیر اثر آہی گئے ہیں تو اب ان کی مکمل پشت پناہی کیا کریں کیونکہ یہی وہ رقم ہے جس پر ہمیں ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑتا اور نہ ہی کوئی آڈٹ ہوتا ہے۔
آپ میں سے بہت سے نمائندگان کو یہ شکوہ ہے کہ ان کی موجودگی میں ہم نے ہر گلی اور ہر اڈ ے پر چار چار نمائندے رکھ چھوڑے ہیں ، تو اس کا مقصد صرف مقابلہ کی فضا برقرار رکھنا ہے اور پھر ہر نمائندے کے ذمے بیس بیس اخبار بیچنا بھی تو لازمی قرار دے دیا ہے، سکیورٹی کے نام پر آنیوالی رقم اس کے علاوہ ہے،آخر ہم نے بھی تو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لئے نیوز چینل لانچ کرنے ہیں۔
آپ کے لئے ضروری ہے کہ علاقے میں بننے والے سکولز، ہسپتال ، لیبارٹریز ، کالجز اور بڑے بڑے سپر سٹورز کا دورہ کریں ۔ دیکھیں کہ ان کے بجلی کے میٹرز، واسا کنکشن ، سٹاف کی تعلیم ، منظور ی کے سرٹیفیکیٹ ، عمارتوں کے نقشہ جات اور دیگر ضروری لوازمات میں کمی تو نہیں کیونکہ آپ کو معلوم ہے کہ سرکاری ادارے تو یہ چیک کرنے سے گریزاں ہیں اور رشوت لے کر خاموش ہوجاتے ہیں ، آپ کو وہاں سے بغیر خبر شائع کئے کچھ نذر نیاز وصول ہوجائے گی جس میں سے اپنا دس فیصد کاٹ کر باقی ادارہ کو بھیجیں اور اگر وہ رقم نہ دیں تو پھر ان کے ” پلے ککھ نہ چھوڑیں“ یہاں تک کہ انہیں کاروبار کرنا مشکل ہوجائے۔
نئے نئے لوگ جو سیاست میں اپنا نام پیدا کرنے کے خواہاں ہیں ان کے انٹرویوز کرکے بھی آپ ادارے کی مالی حالت مضبوط کرسکتے ہیں ، ادارے کو ہر ماہ ایک رنگین صفحہ کا سپلیمنٹ دینا آپ کے فرائض میں شامل ہے ۔ اگر آپ کے علاقے میں اشتہار دینے والے ”اشتہاری“ کم ہیں تو اپنے رشتہ داروں ، عزیزوں اور دوستوں کی تصاویر لگا کر بل ان کے گھروں میں بھجوادیں ، ریکوری ہم خود کرلیں گے۔
آپ کو معلوم ہے کہ آئندہ ماہ کی پانچ تاریخ کو میرے جانشین اور آپ کے ایڈیٹر کی شادی ہے اس کے لئے یکم تاریخ کو میٹنگ بلائی گئی ہے جس میں آپ کی شرکت ضروری ہے اور آپ اپنے ساتھ علاقے کی مشہور سوغات بھی لائیں۔ گھی ، انڈے ، چاول ، آٹا ، مکھن ، مرغیاں اور بکرے تو ویسے بھی شادی میں کام آنے والے ہیں۔جس نمائندے نے اپنے ایڈیٹر کی شادی میں بطور سلامی بیش قیمت ” لفافہ“ پیش نہ کیا اس کا اعلان لاتعلقی رنگین تصویر کے ساتھ شائع کردیا جائے گا۔
آپ میں سے بہت سے دوستوں کو یہ بھی اعتراض ہے کہ ان کے عہدے دوسرے ساتھیوں سے کم تر ہیں تو اس کے لئے ہم نے موضع کی سطح پر بیورو چیف، ڈپٹی بیورو چیف اور ضلعی چیف کے عہدے متعارف کرادیے ہیں جو کہ سکیورٹی کی اضافی رقم کے ساتھ مشروط ہیں۔ آپ ادارے کے ساتھ تعاون کرینگے تو ادارہ آپ کے ساتھ کھڑا نظر آئے گا۔ آپ کی تیل اور کھاد کی ایجنسیاں ، غیر منظور شدہ منی پمپ، نا ن کسٹم پیڈ گاڑیاں، ناجائز قبضے اور سرکاری اداروں سے منتھلیاں بھی تو ہماری وجہ سے ہیں، اس لئے آپ کو اپنی آمدنی سے ادارے کا حصہ نکالنا ہوگا۔ ایک بات ذہن نشین کرلیں کہ آئندہ ہم نے مضافاتی رپورٹر کے لیے میٹرک کی شرط ختم کردی ہے کیونکہ ہمارے مشاہدے میں آیا ہے کہ پڑھا لکھا رپورٹر ہمارے لئے مسائل کھڑے کرتا ہے اور کام کم کرتا ہے اس لئے اب مالی طور پر مضبو ط امیدوار جس کی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہو وہ بھی درخواست دے سکتا ہے۔
خط کافی طویل ہوگیا ہے اور اسے آپ تک فرداً فرداً پہچانا مشکل ہے اس لئے اخبار کے صفحہ اول پر شائع کرکے اس کا بل بھی آپ کے کھاتے میں ڈال دیا جائے گا۔
آپ کی سلامتی کے لئے دعاگو!
چیف ایڈیٹر
روزنامہ اندھیر نگری
13 جمادی الاول1441 ھ

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker