دماغ میں جتنے بھی سوچنے اور سمجھنے والے خلیے ہیں ان پر نحوست کی مکڑی نے جالے بن دئیے ہیں۔دل میں ہمدردی کے سبھی ریشے بے حسی کے پتھر کی زد میں ہیں اور ظاہری نمود و نمائش کے لئے کسی کی انا کو بھسم کرنا کوئی ہم سے سیکھے۔یہ بھی ہم سے سیکھے کہ وبا کے دنوں میں دو کلو چینی اور ایک پیکٹ گھی دیتے ہوئے بنائی جانے والی تصویر کیسے سالوں سے قائم بھرم کو ایک لمحۂ میں ریزہ ریزہ کرتی ہے۔تحفظ ختم نبوت کی صدارت کی اوٹ میں کیسے آٹا بلیک کیا جاتا ہے؟ جعلی ڈیٹول بنانے والی کمپنی کے مین گیٹ پر لکھا ہوا “حاجی سلطان اینڈ سنز “ ہماری اجتماعی مفلوج ذہنیت کا عکاس ہے۔
یہ سب تیسری دنیا کے ممالک کا مشترکہ خاصا ہےاور تیسری دنیا کوئی ازلی کوڑھ زدہ نہیں ہوتی۔ایسا نہیں ہے کہ یہاں بادل برسنا بھول جاتے ہیں،ایسا بھی نہیں کہ یہاں زمینیں بنجر اور سیم زدہ ہیں جہاں زرخیزی منہ موڑ چکی ہے۔یہاں موسم بھی معتدل اور درجہ حرارت بھی قابل برداشت ہوتا ہے۔تیسری دنیا کے ملک آب و ہوا کے لحاظ سے بھی مالا مال ہیں کہ یہاں پر فصلیں لہلاتی ہیں۔پھول کھلتے ہیں،پھل پکتے ہیں اور جڑی بوٹیاں علاج معالجے کے کام آتی ہیں۔تیسری دنیا میں بلند و بالا پہاڑ اپنی چوٹیوں پر جمی برف کو دھوپ کی حدت سے پانی پانی کرتے ہیں تو سانپ کی مانند بل کھاتے دریا میدانی علاقوں کی تپتی زمینوں کو سیراب کرتے ہیں جہاں زرخیز زمینیں اناج اگلتی ہیں۔
تیسری دنیا کا چاند جب اپنی چاندنی نچھاور کرتا ہے تو پھول کی نازک پنکھڑیوں پر خوشبو انڈیل دیتا ہے۔رات بھر نازل ہونے والی شبنم “تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے” کا ورد کرتی ہے۔صبح کی پہلی کرن نئی زندگی کی نوید عطا کرتی ہے۔شام کا منظر دن بھر کی تھکن اتارتا ہے اور یہ سب کچھ قدرت نے تیسری دنیا کو ودیعت کیاہے۔
پھر ہر نعمت سے مالا مال دیس کیوں تیسری دنیا کہلاتا ہے ؟صرف اس لئے کہ یہاں پر دماغ کے سوچنے والے رعشوں پر نحوست کی مکڑی نے جالے بن دئیے ہیں اور ہمارے دل میں ہمدردی کی شریانوں نے خون کی روانی روک دی ہے۔ہم جان بچانے والی ادویات کو سٹاک کرکے رات بھر اذانیں دیتے ہیں کہ وبا ٹل جائے ۔ہم سرکاری امداد تقسیم کرنے کےلئے بدنام زمانہ پٹواریوں کو نام فائینل کرنے کا اختیار تفویض کرکے اللہ کے کرم کا انتظار کرتے ہیں۔ہم نہیں جانتے کہ بینظیر کے نام سے منسوب فنڈز کے ساتھ اکیس اکیس گریڈ کی افسر شاہی نے کیا سلوک کیا؟ گزشتہ دو روز سے پٹواری نمبرداروں اور چوہدریوں کے ڈیروں پر بیٹھے من پسند “مستحق” افراد کے نام تجویز کررہے ہیں اور پھر یہ بھی فرض کرلیتے ہیں کہ تین ہزار سے ایک مہینہ گزر جائے گا؟
تیسری دنیا تمام نعمتوں اور قدرتی وسائل کے باوجود اسی لئے تیسری دنیا کہلاتی ہے کہ یہاں پر ہمارے وجود،سوچ اور عمل سب تیسرے درجے کا ہے مگر اب غضب یہ ہوگیا کہ اس خطے میں جو وبا پھوٹ پڑی ہے وہ پہلے درجے کی ہے اور اس تضاد میں ہم نہیں جانتے کہ تیسرے درجے کی ذہنیت کے ساتھ پہلے درجے کی وبا سے مقابلہ کیسے کرنا ہے؟یہی تذبذب ہمیں بونگیاں مارنے پر مجبور کررہا ہے۔ یہ بوکھلاہٹ سرکاری سطح پر ذرا کھل کر سامنے آرہی ہے۔
لاک ڈاؤن ہونا چاہئیے یا کرفیو؟
ٹرینیں بند کردیں یا چلتی رہیں؟
چھٹی کتنے دن یا مہینوں کی ہونی چاہئیے؟
فی گھرانہ امداد کتنی ہو؟
کس کو ذمہ دار ٹھہرا کر فارغ کیا جائے؟
کون سا بارڈر کھلا رکھیں اور کون سا بند کردیں؟
اس وبا میں ہم مکمل بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں کیونکہ پہلے درجے کی وبا کا مقابلہ تیسرے درجے کے ممالک سے آن پڑا ہے جہاں سوچ کے ہر ریشے پر نحوست کی مکڑی نے جالے بن رکھے ہیں۔
فیس بک کمینٹ

