قربانی کے بکرے بھی عجیب ہوتے ہیں۔پہلے آسمان پر،پھر زمین پر اور پھر تحت الثریٰ میں۔مگر ابھی تو عید قربان کو دیر ہے،یہ رمضان ہی میں کیوں قربانی کی باتیں ہونے لگیں۔بلکہ قربانیاں شروع بھی ہوچکی ہیں۔باخبر حلقے واویلا ایسے تو نہیں مچاتے جب تک دال میں کچھ کالا نہ ہو،مگر بڑے جغادری ان دنوں اور میدان میں کھیل رہے ہیں۔
میں نے بہت دنوں سے کچھ نہیں لکھا بلکہ بچوں نے تو پڑھنے پر بھی پابندی لگا رکھی تھی (اخبار تک بند)۔ذیابیطس،فشارخون اور اس پر مستزاد آنکھ میں موتیا۔
انیس نومبر 2019 ء کو ساٹھویں سال کی سیڑھی پر پاؤں رکھا تھا کہ سب عارضے ایک ساتھ ہی جان پر ٹوٹ پڑے۔چھوٹابیٹا انجینیئر عمر عبداللہ الجوزی سی ایس ایس کے امتحان کے سلسلے میں گھر پر نہ ہوتا تو یہ سب مرحلے دشوار ہوجاتے اور بیٹی
تسبیح فاطمہ،وہ تو ویسے ہی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ہے،اس کے مشورے بِنا پانی بھی حلق میں انڈیلنا مشکل۔
بہر حال آج مجھے لیپ ٹاپ پر بیٹھنے کی اجازت مل گئی ہے،اور دیکھتا ہوں کتنا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہے۔صاحب فراش ہونے سے کتنے نقصانات سے دوچار ہوا،کتنی محرومیاں میرے دامن میں بھریں،یہ پے بہ پے کھلے گا۔سرِ دست تو تبدیلی کی جو ہوائیں چل رہی ہیں وہ اتنی تیز ہیں کہ ”پل میں تولہ،پل میں ماشہ“ کی اب سمجھ آئی ہے۔سنا تو یہ بھی تھا کہ امسال 25 / اپریل کو کوئی قیامت گزرے گی،کرونا کی قیامت خیزیاں شاید اس ”قیامت“ کو نگل گئیں۔
سفاکیت کا یہ عالم ہے کہ مرگ انبوہ کے دنوں میں بھی سیاستدانوں نے سیاست کے ڈھنگ نہیں بدلے۔وہی چال، وہی طرز بیان،وہی انتقام و پاداش کی روش،جر م و سزا کے تانے بانے اور اندرون خانہ سازشیں،سب کچھ ویسا ہی چل رہا ہے،جو عبرت ناک وبا سے سے پہلے چل رہا تھا۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ جو تن دہی سے کام کر رہے ہیں انہیں کام نہیں کرنے دیا جارہا اور جو کام تو کیا اپنے عہدے اور منصب کی اہمیت و نوعیت کا تاحال ادراک نہیں رکھتے ان کے سر پر ہاتھ رکھا ہوا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی کار کردگی مطلق ڈھکی چھپی نہیں،مگر وفاق کی آنکھوں پر چڑھی پٹی اسے کچھ دیکھنے نہیں دے رہی،عاقبت نا اندیش تو سندھ پر گورنر راج کی باتیں کرنے میں بھی ندامت محسوس نہیں کرتے،سوشل میڈیا کا کمال یہی ہے کہ کوئی منہ پر ہاتھ رکھنے والا نہیں،بس انگلیاں ہی تو چلانا ہوتی ہیں،یہ الگ بات کہ بعض انگلیاں ہی ہیں جن سے اُن پتلیوں کے دھاگے بندھے ہیں جن کا رقص ہم اقتدار کے ایوانوں کے اندر اور باہر دیکھ رہے ہیں۔
بات دور نکل گئی،جو قربانی کے بکروں سے چلی تھی اور پتلیوں تک پہنچ گئی۔دراصل تو سب کی آنکھیں آٹے،چینی کا بحران پیدا کرنے والوں سے متعلق رپورٹ پر لگی ہیں،جس کا فیصلہ 25 / اپریل کو آنا تھا۔حالانکہ یہ کوئی نئی بات نہیں،تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ہر بڑے فیصلے کو فائلز میں گم کردیا گیا،اسی کاخمیازہ غریب عوام بھگت رہے ہیں،جن کی تقدیر کا ستارہ ہمیشہ گردش ہی میں رہا ہے۔
کالم ٹائپ کرنے کے دوران ہی بہت پیارے دوست میجر قادر بخش کا ایک میسج آیا ہے کہ”نیک نیت لوگ چراغ کی مانند ہوتے ہیں جو فاصلوں کو کم تو نہیں کر سکتے مگر منزل کو آسان ضرور بنا دیتے ہیں“۔کا ش ہمیں کوئی ایسا نیک نیت حکمران مل جاتا جو ہمیں ہماری منزل تک نہ پہنچاتا ہاں مگر ”چراغ“ تو بن جاتا جس کی روشنی میں ہم اپنا جادہء سفر تلاش کر سکتے،وہ جوپہلے ”دِیا“ ہتھیلی پر رکھے کارزار سیاست میں اترے تھے انہوں نے نشان بدلا تو ترجیحات بھی بدل لیں۔وہ جو ان سے کچھ امیدیں وابستہ کئے ہوئے تھے ان کی امید کے سارے ”دیئے“ہی بجھ گئے،مگر بعض ایسے بھی ہیں جو اس خواب سے
نہیں نکلنے پارہے،ان کے پاس کوئی دلیل نہیں،مفت کا بیگار ہے جو وہ کاٹ رہے ہیں،ان کے سُتے ہوئے چہروں پر تھکن کے آثار بہر حال صاف دکھائی دیتے ہیں۔
فیس بک کمینٹ

