رضی الدین رضیسرائیکی وسیبکالملکھاری

راشد رحمان ۔۔ کسے وکیل کریں ؟۔۔ ( 13 اکتوبر 1958 ء ۔۔ 7 مئی 2014 ء ) ۔۔ رضی الدین رضی

اس روز  جو دوست پوچھ رہے تھے کہ میں اپنی سالگرہ پر اتنا اداس کیوں ہوں ۔۔ میں نے دن بھر فون کیوں بند رکھا ۔۔ اور تہنیتی پیغامات کا اس جوش و خروش سے جواب کیوں نہ دیا جس طرح کہ مجھے دینا چاہئے تھا ۔۔ 7 مئی کے اختتام پر انہیں ان سوالات کا جواب مل گیا ہو گا ۔۔ صرف انہیں ہی نہیں خود مجھے بھی اپنی بے پناہ اداسی کا سبب معلوم ہو گیا ۔۔ جب شاکر ، نوازش اور سہیل عابدی نے مجھے بتایا کہ وہ 8 مئی کو ادبی بیٹھک میں میری پچاسویں سالگرہ کا کیک کاٹنا چاہتے ہیں اور انہوں نے تقریب کی صدارت کے لئے اسلم انصاری صاحب سے وقت بھی لے لیا ہے تو میں نے تقریب میں شرکت سے صاف انکار کر دیا ۔۔’’ لعنت بھیجتا ہوں میں اس سالگرہ پر۔۔ میں ملتان میں موجود ہی نہیں ‘‘ میرے اس جواب نے دوستوں کو آزردہ کیا لیکن میں نے عدم شرکت کی معقول وجہ بتا کر انہیں مطمئن بھی کر دیا ۔۔ اور پھر جب جبار مفتی صاحب نے شاکر کے ذریعے مجھ سے رابطہ کیا اور مجھ سے فون بند کرنے کی وجہ دریافت کی تو میں نے انہیں بھی کہہ دیا میں بہت الجھا ہوا ہوں مبارکباد بھی وصول نہیں کرتا چاہتا ۔۔ ’’ آپ ایسا نہ کریں دوست آپ سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں اور وہ فون کی بندش پر پریشان ہیں ‘‘۔۔۔ مفتی صاحب کے اصرار پر میں نے اپنا فون آن کر دیا اور مبارک باد وصول کرنے لگا ۔۔ اور پھر7 مئی کے آخری لمحات میں اسی فون پر راشد رحمان کے قتل کی خبر آگئی ۔۔ وہ میرے جنم دل پر قتل ہو گیا ۔۔ دوستوں کو ہی نہیں خود مجھے بھی اپنی اداسی کی وجہ معلوم ہو گئی
پیمبر تو نہیں پر جانتا ہوں
کہ کیا ہونا ہے کیا ہونا نہیں ہے
ایک روز پہلے ہی تو وہ ہمارے ساتھ تھا ۔۔ ملتان پریس کلب میں آزادئ صحافت کے موضوع پر ہونے والے اس مذاکرے کا اہتمام راشد رحمان نے ہی ملتان یونین آف جرنلسٹس کے تعاون سے کیا تھا ۔تقریب میں چونکہ حامد میر والے واقعے کے بعد جنگ اور جیو کی ممکنہ بندش زیرِ بحث آنا تھی اس لئے کسی اور میں اتنی جرات بھی نہیں تھی کہ وہ ایسی تقریب کا اہتمام کرتا ۔ راشد رحمان ہی ایسا کر سکتا تھا اور اس نے کیا ۔ ایسا اس نے پہلی بار تو نہیں کیا تھا ۔۔ جہاں‌سب کے پر جلتے تھے وہاں راشد رحمان مدد کو پہنچ جاتا تھا ۔ وہ بے آواز لوگوں کی آواز تھا ۔ دبے ، کچلے ، دکھوں کے مارے سب اس کے پاس پہنچتے تھے اور وہ سب کی مدد کے لئے ہر وقت تیار ہوتا تھا ۔ اور ایسا کیوں نہ ہوتا اس کی تربیت بھلا کن لوگوں نے کی تھی ۔ وہ کامریڈ اشفاق احمد خان کا سپوت تھا ۔ آج کے لوگ کیا جانیں کامریڈ اشفاق کون تھے ۔ آج کے ایک کورٹ رپورٹر کو تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ راشد رحمان کون ہے ؟ اور جب ہم نے اسے بتانا چاہا تو اس نے شان بے نیازی سے کہا مجھے معلوم ہے سر جی وکیل قتل ہو گیا ہے ۔۔ ہم اسے کیا بتاتے کہ راشد رحمان سب کچھ تھا وکیل ہی تو نہیں تھا ۔ وکیل ہوتا تو مرنے والوں کی بجائے مارنے والوں کے ساتھ ہوتا ۔ سو ایسے لوگوں کو کیا بتاؤں کہ کامریڈ اشفاق کون تھے جن کا لخت جگر تاریک راہوں میں مارا گیا ۔ ملتان میں ایک ہی شخص تھا جو انسانی حقوق کے لئے سرگرم عمل تھا ۔ مزدوروں کے مسائل ہوں یا بھٹہ مزدوروں کا استحصال، خواتین پر مظالم ہوں یا اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ، راشد رحمان کی آواز ہمیں سب سے نمایاں سنائی دیتی تھی ۔وہ کسی خوف اور مصلحت کاشکار نہیں ہوتا تھا ۔ نڈر ایسا کہ 18 اپریل کو جنید حفیظ کیس میں بی بی سی کو انٹر ویو میں کہہ رہا تھا کہ ’’ توہین مذہب کے ملزم کا دفاع کرنا تو اس طرح ہے جیسے خود کو موت کے منہ میں دینا ‘‘ اس کا مؤقف بہت واضح تھا اور پھر اس نے دھمکیوں کی پرواہ کئے بغیر خود کو موت کے منہ میں دے دیا شاگرد بھی تو سجاد حیدر زیدی کا تھا ۔ ختم کیا جا رہا ہے ایسی آوازوں کو ۔ چن چن کر قتل کیا جا رہا ہے اعتدال پسند اور روشن خیال لوگوں کو ۔۔ زندگیاں بچانے والوں کو اب کوئی بھی بچانے والا نہیں رہا ۔ ہر طرف قاتلوں اور ان کے سر پرستوں کا راج ہے ۔ ایک ایسا ماحول ہے کہ جس میں
قتل ہونا گناہ لگتا ہے
قتل کرنا تو اب برا ہی نہیں
راشد رحمان کاقتل دراصل ایک پیغام تھا ان لوگوں کے لیے جو انصاف کی بات کرتے ہیں ،انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں اور اس ملک کو چند گروہوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے کی راہ میں رکاوٹ سمجھے جاتے ہیں۔اس واقعہ کے بعد ایک سناٹا طاری ہو گیا۔ خود انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی کھل کر راشد رحمان کے قتل کی مذمت نہ کرسکیں۔ راشد کے قتل کے تیسرے روزقل خوانی کے بعد مختلف شہروں سے آئے ہوئے راشد رحمان کے دوست تعزیت کے لیے حسن پروانہ کالونی ملتان میں واقع ان کی رہائش گاہ پرپہنچے توانہوں نے دیکھا کہ راشد رحمان کے گھر کے موڑ پر بینڈ باجا اورڈھول بجایا جا رہا تھا اوراس کی آواز راشد رحمان کے گھر تک آ رہی تھی۔ معلوم ہوا کہ یہ شادیانے صبح سے بجائے جارہے ہیں۔مہمانوں نے راشد رحمان کے عزیز و اقارب سے جب دریافت کیا کہ کیا گردونواح میں شادی کی تقریب ہے تو انہوں نے اس پر لاعلمی کا اظہار کیا۔ کچھ دیر کے بعد ڈھول باجوں کی آواز ختم ہوگئی اورجب تعزیت کرنے والے راشد کے گھر سے باہرنکلے تو گلی کی نکڑ پر کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ یہ ڈھول باجے والے کون تھے؟ کہاں سے آئے تھے؟ کس تقریب کے لیے آئے تھے؟ اوروہ سب اب کہاں چلے گئے تھے، اس بارے میں اہل محلہ کو کچھ علم نہیں تھا۔اہل محلہ تو نہیں جانتے تھے لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ وہ سب کون تھے۔ ہماری اور ان کی لڑائی ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گی۔ایک جانب ہم ہیں جنہیں قتل ہونا ہے اور دوسری جانب وہ ہیں جو ہمیں قتل کر کے شادیانے بجاتے ہیں ۔ ہم سب روشنی کے علمبردار ہیں۔ جوآزادی کی بات کرتے ہیں، جو انسانی حقوق کااحترام کرتے ہیں، جو یہ چاہتے ہیں کہ اس معاشرے میں موت کا رقص نہ ہو، خون کی ہولی نہ کھیلی جائے اور دوسری جانب وہ ہیں جوہماری سوچ پر پہرہ لگانا چاہتے ہیں۔ جو اس معاشرے کو تاریکی میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ جو صرف اپنے آپ کو درست اور باقی سب کو غلط سمجھتے ہیں، وہ فتوے عائد کرتے ہیں، قتل کے فرمان جاری کرتے ہیں۔ ہم اکثریت میں ہیں اور وہ اقلیت میں ،لیکن وہ دلیل کی بجائے ہتھیار کی زبان استعمال کرتے ہیں، وہ کبھی ہمیں غیرملکی ایجنٹ قراردیتے ہیں، کبھی فاشسٹ لبرل کا طعنہ دیتے ہیں، وہ چن چن کر ہمارے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں، ہماری آواز کودباتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ ہم خوفزدہ ہوجائیں گے، ہم بات کرنا چھوڑ جائیں گے، ہم لکھنا ترک کر دیں گے، لیکن وہ نہیں جانتے کہ ہم اس ظلم اور جبر کے خلاف صدیوں سے مزاحمت کر رہے ہیں۔ ہم لڑنا تو نہیں جانتے لیکن مقابلہ ضرور کر سکتے ہیں۔ ہم نے صدیوں پہلے بھی ان کا مقابلہ کیا، ہر عہد میں ہماری کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی لیکن یہ آواز کل بھی نہیں دبائی جا سکی تھی اب بھی نہ دبائی جا سکے گی ۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں بھی راشد رحمان کی طرح مرنے کے بعد کوئی وکیل نہیں ملے گا لیکن ہم پھر بھی مرتے رہیں گے یہ سفر جاری رہے گا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker